نرینہ اولاد ممکن ہے

 

اشتہاری ادویہ اور جعلی سنیا سیوں سے محفوظ رکھ کر بیٹے جیسی نعمت عطا کرنیوالے نسخے کا بینظیر تحفہ

میرے والد گرامی‘ استاذ الحکماء حکیم محمد عبداللہ نے ۱۹۲۳ء میں انیس سال کی عمر میں روڑی (ضلع حصار‘ بھارت) میں مطب شروع کیا تھا۔ آغاز میں انہیں پھٹکڑی سے تیار شدہ نسخے استعمال کرنا پڑے جو سب کے سب تیر بہدف ثابت ہوئے۔ انہوں نے یہ سوچ کر کہ ایک ایسے علاقے میں‘ جہاں سفر کی سہولتیں بھی میسر نہیں تھیں اور اونٹوں پر سفر کر کے آنا پڑتا تھا‘ مریضوں کی بھلائی کے لیے خواص پھٹکڑی شائع کردی۔ چھ ماہ میں ساری کتب ختم ہوگئیں۔

انہوں نے پھر افادۂ  عام کے لیے خواص نیم‘ کیکر‘ ریٹھہ اور نمک پر کتب لکھ کر شائع کیں۔ الحمد للہ سب کتب مقبول ہوئیں۔ ان کے ذریعے میرے والد کے تعلقات میں وسعت ہوئی۔ برصغیر کے کونے کونے سے اطبائے کرام دور دراز کا سفر کرکے ایک نو عمر طبیب سے ملنے آنے لگے۔

ان طبیبوں نے میرے والد کی بخل شکنی سے متاثر ہو کر اپنے بند سینوں کے راز ان کے سامنے افشا کیے۔ بعض نے اپنے آباؤاجداد کے نسخے انہیں عطا کر دیئے کہ ان کو بھی کتابوں میں شائع کر دیں۔ کچھ لوگوں نے نسخے بتانے کا عوضانہ وصول کیا۔ کچھ لوگوں نے اس شرط پر نسخے بتلائے کہ انہیں ظاہر نہ کیا جائے اور اپنے تک ہی محدود رکھیں۔ والد گرامی نے بعض نسخوں کو ایک طویل عرصہ تک وعدہ نبھانے کے خیال سے چھپائے رکھا۔ لیکن جوں جوں وقت گزرا ان کا یہ خیال پختہ ہوتا گیا کہ اگر وعدہ خلافی جرم ہے‘ تو نسخہ ظاہر کر کے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو تکلیف سے بچالینا ثواب بھی تو ہے اس وجہ سے جو نسخہ بھی ملا‘ انہوں نے اسے ظاہر کر دیا۔ ان کا قول ہے ’’جو معالج نسخے کو روزی رساں سمجھے وہ اسے چھپاتا ہے لیکن جو اللہ کو روزی رساں سمجھتا ہے وہ اسے عام کر دیتا ہے۔‘‘

والد محترم نے عرصہ دراز تک بے شمار نسخوں کو چھپائے رکھا‘ ان میں سے ایک نسخہ ’میٹھی مراد‘ کا بھی ہے۔ جن خواتین کے ہاں لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی ہوں اور وہ لڑکے کو ترس جائیں‘ تو اس دوا کے طفیل اللہ تعالیٰ انہیں نرینہ اولاد سے نواز دیتا ہے۔ ایسے بے شمار واقعات سامنے آئے کہ اس دوا کے استعمال سے سات سات آٹھ آٹھ بچیوں کی پیدائش کے بعد اللہ نے بیٹا عطا کیا۔ والد محترم فرماتے ہیں ’’ مجھے ۱۹۲۶ء میں یہ نسخہ ایک معروف طبیب نے عطا کیا جو مشہور سیاح بھی تھے۔ انہوں نے ہزاروں میل کا سفر طے کر کے بر صغیر کے ایک دورا فتادہ گاؤں میں پہنچ کر مجھ پر کرم فرمائی کی اور مجھے تاکیداً  کہا کہ اس نسخے کو ہرگز ہرگز ظاہر نہ کرنا۔ ہاں تم اس نسخے سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکتے ہو۔‘‘

’’انہوں نے مجھے بتایا کہ ملتان کے ایک رئیس کو ایک ہزار روپے کے عوض یہ گولیاں دے کر آیا ہوں۔ پھر نسخے کے مطابق میں بھی گولیاں بنانے لگا۔ جس کو بھی دوا دیتا‘ اس سے حلف نامہ پر کرواتا کہ نرینہ اولاد ہونے پروہ مجھے پچیس روپے ادا کرے گا۔ حلف نامے کے ساتھ اپنے شہریا گاؤں کے کسی معزز آدمی کے تصدیق بھی ساتھ ہوتی۔ یہ معاملہ چودہ برس تک چلتا رہا۔ ۱۹۴۰ء میں جب میں نے ’ہندوستان کی جڑی بوٹیاں‘ نامی کتاب لکھنا شروع کی‘ تو اس نسخہ کو بھی درج کر دیا۔‘‘

ہمارے دواخانے میں ۱۹۲۶ء سے یہ نسخہ زیر استعمال ہے۔ ۱۹۷۴ء میں جب لاہور میں‘ میں نے مطب شروع کیا تو اس کے مطابق گولیاں بنا کرمریضوں کو دینے لگا۔ الحمد للہ سوائے ایک دفعہ کے کبھی نا کامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔ اس ایک ناکامی کی وجہ ذہن میں یہی آتی ہے کہ تاریخ کے تعین میں کہیں گڑبڑ ہوگئی۔

میں اس دوا کوفی سبیل اللہ دے رہا ہوں‘ کبھی کسی سے ایک پیسہ وصول نہیں کیا اور کبھی کوئی حلف نامہ پر نہیں کروایا۔ ہاں اتنی بات کہتا ہوں کہ جب امید برآئے اور اللہ تعالیٰ بیٹا عطا کر دے‘ تو حسب توفیق رقم مجھے ارسال کر دیں‘ میں اسے کسی دینی مد پر‘ کسی غریب‘ مسکین‘ یتیم یابیوہ کی مدد کے سلسلے میں خرچ کردوں گا۔ اس طرح چراغ سے چراغ جلتا رہے گا۔ نسخہ یہ ہے:

’’بداری کند بہترین اور بیل گری اعلیٰ لے کر انہیں علیحدہ علیحدہ باریک پیس لیں اور پانی کی مدد سے جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنالیں۔ ان کے اوپر سونے یا چاندی کے ورق لپیٹ کر سنبھال رکھیں۔ دوائے میٹھی مراد تیار ہے۔‘‘

جن مستورات کے ہاں لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہوں‘ وہ حمل کے ساٹھ روز گزرنے کے بعد ۶۱‘ ۶۲ یا ۶۳ ویں روز نہا دھو کر پاکیزہ کپڑے پہن کر ایک گولی صبح‘ ایک دوپہر اور ایک شام گائے کے دودھ کے ہمراہ لیں۔ اس روز صرف یہ پرہیز کرنا ہے کہ بھوک پیاس لگنے پر گائے کا دودھ ہی پئیں۔ اگر بہت زیادہ بھوک ستائے‘ تو اسی دودھ کی کھیر بنا کر کھالیں۔ یہ پرہیز صرف ایک دن کا ہے‘ اس سے پہلے یا بعد کوئی پرہیز نہیں۔ اگر ایسی گائے کا دودھ مل جائے جس نے بچھڑا دیا ہو‘ تو زیادہ بہتر ہے۔

بداری کند (Inpomia digitata ) ایک پہاڑی بیل دار درخت کی جڑ ہے۔ بلوچستان اور ایران کی سرحد پر پائی جاتی ہے۔ چونکہ اس کی جڑ مستعمل ہے‘ اسی لئے اسے بداری کند کہتے ہیں۔

بیل گری (Mormelose) آدھ پاؤ سے ایک کلو وزن تک والا پھل ہے جسے انگریزی میں بیل فروٹ (Boel fruit) کہتے ہیں۔ بیل پھل کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔ پنساریوں کے ہاں بیل گری کے نام سے ملتا ہے۔ لاہور میں بھاٹی گیٹ کے باہر عام دستیاب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں میں یہ تاثیر رکھی ہے کہ ان کی گولیوں سے بیٹا پیدا ہوتا ہے۔

مولانا عبدالخالق قدوسی مرحوم‘ مالک مکتبہ قدوسیہ سے ایک دفعہ اس موضوع پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ حمل کے ۶۱ سے ۶۷ ویں دن تک اگر میاں یا بیوی میں سے کوئی ایک روزانہ سورۃ بقرہ اس نیت سے تلاوت کرے‘ تو اسے اللہ تعالیٰ بیٹا عطا فرماتا ہے۔ میں نے اس کے بعد سینکڑوں لوگوں کو یہ عمل بتایا۔ الحمدللہ بالکل تیر بہدف ثابت ہوا اور کسی جگہ خطا نہیں گیا۔

 

(حکیم عبدالوحید سلیمانی - اردو ڈائجسٹ مئی ۲۰۰۴ء)

Last Updated : Dec 22, 2012