رعشہ اور دمے کا تیر بہدف نسخہ

بیتس قدرتی اجزا سے بننے والی دوا بیسیوں امراض میں موجب شفا ہے

میرے مطب کے سامنے ایک جیپ آ کر رکی۔ درمیانی قدوقامت کے قدرے بھاری بھر کم ایک شخص گاڑی سے اترے۔ عمر یہی پینتیس چھتیں سال۔ مطب آئے اور پوچھنے لگے ’’اسگندھ پاک ہے؟‘‘

میں نے نفی میں جواب دیا‘ کہنے لگے ’’اسگندھ پاک بہت اچھی دوا ہے‘ اسے تیار کر کے رکھا کریں۔‘‘

میں نے انہیں بیٹھنے کی دعوت دی اور ان کا تعارف حاصل کرنا چاہا۔ کہنے لگے ’’گوجرانوالہ سے آیا ہوں۔ پادری ہوں‘ حکمت کا شوق بھی ہے۔ بے شمار مریض میرے پاس آتے ہیں۔ آپ کے دواخانے سے ادویہ منگوا کر مریضوں کو اکثر استعمال کراتا ہوں۔‘‘

میں نے پوچھا‘ اسگندھ پاک آپ کن مریضوں کو دیتے ہیں؟‘‘

کہنے لگے ’’پرانی کھانسی اور دمے کے امراض میں اسے مفید پایا ہے۔ کسی دواخانے سے نہیں ملتی‘ خودہی تیار کرتا ہوں۔ اگر آپ اسے تیار کریں تو یہ بڑی خدمت ہوگی۔‘‘

میں نے وعدہ تو نہ کیا لیکن شکریہ ضرور ادا کر دیا۔ یہ ۱۹۷۹ء کا واقعہ ہے۔ دو دن بعد ایک اور بھاری بھر کم شخص میرے مطب آیا۔پیوند لگے ہوئے سیاہ کپڑے‘ بڑی داڑھی اور گھنی مونچھیں‘ ٹانگوں اور بازوؤں میں گھنٹیاں بند ھی ہوئیں۔ جب وہ چلتا‘ تو ٹن ٹن کی آواز دورتک سنائی دیتی۔ وہ اسی حالت میں میرے پاس آکر رکا اور دست سوال  دراز کیا۔ میں نے غلے میں سے ایک روپیہ نکالا اور اسے دے دیا لیکن وہ وہیں کھڑا رہا۔ میں نے پوچھا ’’بابا! اب کیا بات ہے؟‘‘

کہنے لگا ’’تم حکیم عبداللہ صاحب کے کیا لگتے ہو ؟‘‘

میں نے کہا’’ ان کا بیٹا ہوں۔‘‘

ایک دم اس کا لہجہ بدل گیا‘ کہنے لگا ’’سائیں! وہ بہت بڑے آدمی تھے‘ تم بھی طب میں دلچسپی رکھتے ہو؟ ‘‘

میں نے کہا ’’جی تھوڑی بہت ہے۔‘‘

اچانک اس نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے پاس اسگندھ پاک ہے؟ یا اللہ خیر! ابھی پرسوں ایک پادری نے اسگندھ پاک کا پوچھا تھا‘ اب ایک ملنگ پوچھ رہا ہے۔ میں نے کہا ’’بابا! اسگندھ پاک تو نہیں ہے۔‘‘

کہنے لگا ’’اتنی اچھی دواسے تمہارا مطب خالی ہے۔ سائیں یہ دواضرور بناؤ۔‘‘

میں نے پوچھا ’’مگر اس کا فائدہ‘ تم نے یہ دوا کہیں استعمال کی ہے؟‘‘

کہنے لگا’’ میرا نام ملتان شاہ ہے۔ میرے پاس بھی مریض آتے ہیں اور میں انہیں دوا دیتا ہوں۔ ایک دفعہ بواسیر کا مریض میرے پاس آیا۔ بہت علاج کیا‘ دوائیں بدل بدل کر دیں لیکن اسے فائدہ نہ ہوا۔ میں نے موکل قابو کیے ہوئے ہیں۔ جب کسی کو فائدہ نہ ہو‘ تو ان سے مدد لیتا ہوں۔ اس موقع پر بھی میں نے ایک موکل جن کو حاضر کیا اور اس سے مشورہ چاہا۔ اس نے بتایا کہ پاکستان بننے سے پہلے وہ روڑی ضلع حصار میں حکیم محمد عبداللہ کے دواخانے میں انسانی روپ میں کام کرتا تھا۔ ان دنوں ان کے پاس بواسیر کا ایک مریض آیا جو ہر قسم کے علاج کروا کے تنگ آیا ہوا تھا۔ حکیم محمد عبداللہ نے اسے اسگندھ پاک بنا کردی جس سے وہ چند ماہ میں شفایاب ہو گیا۔ آپ بھی اپنے مریض کو یہی دوادیں۔ میں نے بھی مریض کو اسگندھ پاک دی اور الحمد للہ وہ تین ماہ سے پہلے ہی ٹھیک ہو گیا۔‘‘

اس نے پھر تاکیداً کہا کہ مطب کی کامیابی کے لیے اسگندھ پاک کا ہونا بہت ضروری ہے۔ مجھے ملتان شاہ کی بات پر یقین تو نہ آیا۔ نجانے اس کی بات میں صداقت تھی بھی یا نہیں لیکن مجھے اسگندھ پاک تیار کرنے کی تلقین کرنے والا یہ دوسرا شخص تھا۔

اس واقعہ کو پانچ چھ دن گزرے تھے۔ میں دوپہر کو مطب سے اٹھنے ہی والا تھا کہ صاف ستھرے لباس میں ملبوس‘ دبلے پتلے ایک صاحب مطب میں داخل ہوئے۔ انہوں نے تعارف کروایا کہ وہ سرگودھا کے ایک کالج میں پرنسپل ہیں اور اسگندھ پاک لینے آئے ہیں۔ میں نے معذرت کی اور کہا کہ آئندہ جب بھی وہ آئیں گے‘ دواتیار ملے گی۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کس مقصد کے لیے اسگندھ پاک درکار ہے؟

فرمانے لگے ’’دمے کا پرانا مریض ہوں۔ مجھے کسی نے اسگندھ پاک استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ بازار میں دوانہ ملی تو حکیم محمد عبداللہ کی ’پاکستان وہندوستان کی جڑی بوٹیاں‘ نامی کتاب سے نسخہ خاصل کیا اور اسے تیار کیا۔ نسخہ معجزہ نماز ثابت ہوا۔ اب میں اسے بنا کر اپنے پاس رکھتا ہوں۔ کچھ عرصہ قبل میرے والد کی نظر ضائع ہوگئی۔ کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد کے تمام بڑے ہسپتالوں کے کئی ماہرین کو دکھایا۔ سب کا ایک ہی جواب تھا کہ آنکھ کی طرف جانے والے اعصاب سوکھ گئے ہیں‘ انہیں ٹھیک کرنا ان کے بس میں نہیں۔ لہٰذا آپ کے والد کی بینائی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔

’’ہم خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ والد صاحب رفتہ رفتہ سارے کاموں سے معذور ہو گئے تھے۔ بس کسی بچے کا ہاتھ پکڑ کر مسجد میں نماز پڑھ آتے۔ اس طرح کافی عرصہ گزر گیا۔ ایک دفعہ انہیں شدید کھانسی کی تکلیف ہوئی۔ مجھے کہنے لگے۔ ’’بیٹے! تم جو دمے والی دوا کھاتے ہو‘ مجھے بھی دو۔ شاید اسی سے شفامل جائے‘ وہ پھر صبح وشام کھانے سے پہلے ایک ایک چمچ اسگندھ پاک دودھ سے لینے لگے۔ دوا کھاتے ہوئے کئی دن گزرگئے۔ ایک دن میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک مجھے کہنے لگے ’عبدالحمید! تم نے نیلے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں؟‘

’’میں نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا اور اثبات میں جواب دیا۔ فرمانے لگے’ مجھے لگتا ہے میری نظر بحال ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے تو جواب دے دیا تھا لیکن میں اپنی آنکھوں کو جھٹلا نہیں سکتا۔ میرا خیال ہے کہ اللہ کی یہ مہربانی اسگندھ پاک کی وجہ سے ہوئی ہے۔‘

’’میں نے انہیں کہا’ ابا جان! یہ دوا آپ باقاعدگی سے استعمال کرتے رہیں۔ ‘ انہوں نے چار ماہ یہ دوا باقاعدگی سے استعمال کی اور اللہ کے فضل سے ان کی بینائی بحال ہوگئی۔

اگلے روز میرا بھتیجا اور سلیمانی لیبارٹریز‘ جہانیاں کے سر براہ خالد حمید سلیمانی میرے پاس آئے۔ انہوں نے پنچاب یونیورسٹی سے ایم فارمیسی کی ہوئی ہے۔ میں نے ان سے تینوں واقعات بیان کیے اور کہا کہ اسگندھ پاک کی تیاری شروع کرو اور مجھے بھی روانہ کردو۔ اس وقت سے اب تک یہ دواباقاعدگی سے تیار ہور ہی ہے۔

اکثر مریض نبض دکھائے بغیر اسگندھ پاک طلب کرتے اور لے جاتے ہیں۔ بعض مریض تو درجنوں کے حساب سے یہ دوا لیتے ہیں‘ کہتے ہیں اس کے استعمال سے ان کی جسمانی طاقت بحال رہتی ہے۔ اس دوا کی تیاری میں تیس بتیس ادو یہ استعمال ہوتی ہیں۔ میں اس کا نسخہ اور فوائد سپرد قلم کر رہا ہوں۔ امید ہے آپ بھی بنا کر اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔

سفوف نمبرایک

اسگندھ ناگوری۔ ۴۰ تولہ ۔سونٹھ۔ ۲۰ تولہ ۔مگھاں (فلفل دراز) ۱۰ تولہ مرچ سیا۔ ۱۰ تولہ یہ سب ادویہ الگ الگ کوٹ کر سفوف بنائیں پھر ملالیں۔

پپلامول۔ زیرہ سفید۔ گلو۔ تگر۔ جائفل۔ خس۔ نیتربالا۔ صندل سفید۔ گری ناریل۔ ناگرموتھا۔ خشک دھنیا۔ گل دھاوا۔ طباشیر۔ آملہ۔ کافور۔ بھیم سینی۔ جڑسانٹھ۔ کتھہ سفید۔ چترک۔ ستارہ۔ بیخ نیشکر ۔ اجمود ہرایک۔ چھ چھ ماشے۔

یہ سب چیزیں کوٹ کر سفوف بنالیں اور درج بالا آمیزے میں شامل کریں۔ اسگندھ پاک تیار ہے۔ اسے چینی کے مرتبان میں رکھیں۔

ترکیب استعمال: روزانہ علی الصباح مریض کو یہ دوا دوتولہ گائے یا بھینس کے آدھ کلو دودھ کے ساتھ بطور ناشتہ کھلائیں۔

فوائد: یہ دوابدن کے کئی امراض کے لیے اکسیر ہے۔ جن بچوں‘ عورتوں یا مردوں کا جسم سوکھا سڑا ہو اور وہ کمزوری اور لاغری محسوس کرتے ہوں‘ اس کے استعمال سے ان کا جسم فربہ ہو جاتا ہے۔ چہرے کی بے رونقی وپژ مردگی دور کر کے اسے بارونق اور جاذب نظر بناتی اور چہرے کی رنگت نکھارتی ہے۔

کھانسی اور دمے کی لاجواب دوا ہے۔ معدے اور جگر کے امراض کے لیے اکسیر سے بڑھ کر ہے۔ خاص طور پر دونوں اعضا کی کمزوری رفع کرتا ہے۔ خون کی شدید کمی اور یرقان کا قلع قمع کرتا ہے۔ تاپ تلی اور تلی کے ورم کے لیے مفید ہے۔ پیٹ کے درد کے لیے لاجواب ہے۔ دوماہ کے استعمال سے خونی یا بادی بواسیر‘ سنگرہنی اور بائو گولہ رفع ہو جاتے ہیں۔

خواتین کی تقریباً تمام بیماریوں کے لیے مفید ہے۔ امراض رحم کے لیے بے حد مؤثر اور مفید ہے۔ کثرت حیض‘ ایام خاص کے علاوہ دیگر دنوں میں خون آنا اور لیکوریا وغیرہ کو اس کے استعمال سے فائدہ ہوتا ہے۔ یوں کمزور اور نحیف بچہ بھی تندرست ہو جاتا ہے۔ مردوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ اس دوا کے مسلسل استعمال سے بڑھاپے کی کمزوریاں غائب ہو جاتی ہیں۔ جریان‘ احتلام وغیرہ دور کرنے کے لیے عجیب الاثر دوا ہے۔ جوانوں کو قبل ازوقت بوڑھا ہونے سے بچاتی ہے۔

قبض کشائی کے لیے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی دوا نہیں۔ یہ دوا اعضائے رئیسہ وشریفہ کو توانائی بخشتی اور مجلوق کے افعال بدن کو با قاعدہ بناتی ہے۔ میرے شاگرد رشید (حکیم عبدا لواحد‘ بستی راوی ریان) نے بتایا کہ رعشے کے کئی برس پرانے مریضوں کو صبح نہارمنہ ۲ تولہ اسگندھ پاک‘ عصر کے وقت ۲ چاول جواہر مہرہ اور رات کو ۲ گولی جب رسائن مقلی کھلانے سے یہ مرض ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور ہو جاتا ہے۔

(حکیم عبد الوحید سلیمانی، اردو ڈائجسٹ اپریل ۲۰۰۵ء)

Last Updated : Dec 22, 2012