جلدی امراض کے لیے میرا طریق علاج

 

گیارہ جنوری ۲۰۰۵ء کو صبح ہی سے مریضوں میں گھرا ہوا تھا۔ نظر اٹھا کر دیکھنے کی فرصت بھی نہیں تھی۔ مریضوں کو دیکھتے دیکھتے دوپہر ہوگئی۔ اچانک باآواز بلند السلام علیکم کی آواز گونجی۔  دیکھا تو ایک قدرے بھاری جسم والے صاحب مطب میں داخل ہو رہے تھے خوشی ان کے چہرے سے ہو یداتھی۔بڑے تپاک سے آ کر ملے اور بیٹھ گئے۔ مریضوں سے فارغ ہو کر میں ان کی طرف متوجہ ہوا۔ پوچھنے لگے’’ مجھے پہچانا؟‘‘

میں نے کہا’’نام تو ذہن میں نہیں لیکن آپ غالباً بنوں سے آئے ہیں۔‘‘

وہ کہنے لگے’’ٹھیک پہچانا! میں بنوں ہی سے آیا ہوں۔ میرا نام کمال پاشا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہوں۔تین دفعہ پہلے بھی آپ کے پاس آچکا  ہوں۔‘‘

میں نے پوچھا کیسے آنا ہوا؟‘‘

فرمانے لگے’’میری عمر۴۸ سال ہے۔ گزشتہ ۳۷ سال سے ایک مخصوص جلدی مرض میں مبتلا تھا۔ چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا کہ سر میں چھوٹی چھوٹی پھنسیاں نکلنے لگیں۔ کسی نے مشورہ دیا کہ پھنسیوں پر سرسوں کا تیل لگاؤ لیکن فائدہ نہ ہوا۔ جلدی ہی آنکھوں کے ارد گرد اور ناک بھی پھنسیوںسے بھر گیا۔ میرے لیے یہ مرض بہت اذیت ناک تھا۔ مقامی اطباء اور سنیاسیوں سے علاج کروایا۔ پیروں سے دم درود اور تعویذ کرائے مگر فائدہ ندارد۔

پڑھائی سے فارغ ہو کر ماہرین جلد سے علاج کرایا۔ پاکستان کے ایک چوٹی کے ماہر امراض جلد کے پاس نوسال علاج کراتارہا لیکن بیماری دور نہ ہوئی۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ تمہیں جلد کا کینسر ہے۔ تمہارا علاج ناممکن ہے۔ ڈاکٹروں سے مایوس ہو کر میں حکیم صابر ملتانی اور اس کے شاگردوں حکیم محمد اشرف اورحکیم محمد یاسین مرحوم کے پاس پہنچا تو دس سال علاج کے بعد انہوں نے بھی اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔

ستمبر۲۰۰۴ء میں مجھے کسی نے آپ کا پتا دیا کہ ان کے مضامین اردو ڈائجسٹ میں چھپتے ہیں ان سے رجوع کریں ۔ میں آپ کے پاس آیا اور ایک ماہ کی دوالے گیا۔ معمولی سافائدہ ہوا۔ پھر دوبارہ دوماہ کی دوالے گیا۔ دوتہائی مرض دور ہو گیا گزشتہ ماہ پھر دوائے گیا اب نہ خارش ہے ٗنہ آبلے ٗنہ چنبل ٗ نہ داد۔ الحمدللہ! پورا جسم ٹھیک ہے۔‘‘

انہوں نے اپنے جسم سے کرتا اٹھا کر دکھایا۔ بفضلہ تعالیٰ پورا جسم صاف تھا۔ کہنے لگے’’ اب میں ہر طرح کی غذا کھانے لگاہوں۔ میں تو ان چیزوں کا ذائقہ ہی بھول گیا تھا۔ اب میں صرف آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔‘‘

دسمبر۲۰۰۳ء میں شدید سردی کا موسم تھا۔ میں ہیٹر تاپ رہا تھا کہ چھوٹی چھوٹی سفید ڈاڑھی اور سرخ وسپید چہرے والے ایک بڑے میاں تشریف لائے۔ انہوں نے چھوٹی سی دھوتی باندھ رکھی تھی۔ بدن پر ململ کا ایک کپڑا اوڑھ رکھا تھا۔ اس لباس کی بابت پوچھا تو کہنے لگے سردیاں ہوں یا گرمیاں سالہا سال سے میں کپڑے پہن ہی نہیں سکتا۔ان کے جسم پر نظر ڈالی تو بازو ٗ پیٹ اور ٹانگیں بڑے بڑے چھالوں اور چنبل سے بھرے ہوئے تھے۔ نام پوچھا توکہنے لگے عبدالخالق نام ہے۔ شرق پور کے قریب میرا پھلوں کا باغ ہے لیکن اس بیماری نے سب کچھ بھلا کر رکھ دیا ہے۔ مجھے دولت کی پروانہیں ٗچاہے جتنا روپیہ لگ جائے مجھے شفاء سے غرض ہے۔‘‘

میں نے کہا بابا جی! ’’اللہ نے ہر مرض کی شفاء پیدا کی ہے۔ آپ مستقل مزاجی سے علاج کرائیں اور پرہیز رکھیں۔ اللہ نے چاہا تو چھ ماہ میں ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘

وہ چونکہ لاہورکے قریب ہی رہتے تھے اس لیے ہر ہفتے بلاناغہ آتے رہے۔آہستہ آہستہ ان کے مرض میں افاقہ ہوا اورپھر وہ دن آیا جب وہ شلوار قمیض پہن کر میرے پاس آئے کہنے لگے کئی برس بعد میں نے مناسب کپڑے زیب تن کیے ہیں۔ مجھے اتنی خوشی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔‘‘ پھر وہ ہر پندرہ روز بعد آنے لگے۔ پانچ ماہ بعد اللہ نے انہیں مکمل شفاء عطا کردی۔

مجھے اس مریض کا نام یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ وہ نوجوان تھا۔ غالباً ۱۹۸۶ء میں جولائی کا مہینہ تھا ٗ جب وہ میرے پاس آیا ٗ بری طرح پر یشان تھا کہنے لگا ’’میں کئی برس سے سعودی عرب میں ملازمت کر رہا ہوں۔ ایک سال پہلے میرے جسم پر خارش شروع ہوئی۔ رفتہ رفتہ میرا پورا جسم دانوں سے بھر گیا۔ سر سے لے کر ٹانگوں تک جسم کا گوئی حصہ ایسا نہیں تھا جہاں شدید خارش نہ ہو۔ یہی دانے بگڑ کر پہلے چنبل بنے اور پھر کھجانے سے کھرنڈ بن گئے۔

ریاض میں مقامی ڈاکٹروں کو دکھایا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اسپتال داخل ہو جاؤ۔ چھ ماہ تک داخل رہا فائدہ نہ ہوا۔ میری فرم نے کہا کہ امریکہ یا پاکستان جا کر علاج کرواؤ۔ تمہیں چھ ماہ کی چھٹی ہے۔ اگر ٹھیک ہو جاؤ تو واپس آجانا ورنہ ملازمت سے جواب ہے۔ امریکہ جانے کی تو ہمت نہیں تھی لہٰذا پاکستان واپس آگیا۔ دو مہینوں سے علاج کروارہا ہوں۔ لاہور اور اس سے باہر کہیں سے رتی بھر فائدہ نہیں ہوا۔ مجھے ایک صاحب نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ آپ اگر علاج کرسکتے ہیں تو ہاتھ ڈالیں ورنہ جواب دے دیں‘‘ یہ کہہ کروہ رونے لگا۔

میں نے کہا’’ بھائی ! رونے کی بات نہیں۔ آپ گڑ گڑا کر اللہ سے دعا کریں میں بھی دعاکرتا ہوں۔ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

پھر پندرہ دن کی دوا دی۔ وہ دوبارہ آیا توجلن میں کچھ کمی تھی۔میں نے کہا’’ ایک پاؤ  دہی میں دوتولہ گندھک ملا کر مالش کریں اور ایک گھنٹہ بعد نہا لیں۔ دوا اسی طرح کھائیں۔‘‘ اس نے ایسے ہی کیا۔ سہ بارہ آیا تو خوش تھا۔ تین ماہ میں اللہ نے اس کو مکمل صحت دے دی۔

میرے پاس آیا تو کہنے لگا’’اللہ کے فضل سے میں بالکل ٹھیک ہوں فرم کی طرف سے ابھی ایک مہینے کی مہلت باقی ہے لیکن چاہتا ہوں ابھی چلا جاؤں۔ کل میری روانگی ہے۔ آپ کو سلام کرنے آیا ہوں۔‘‘

جولائی ۲۰۰۳ء اردو ڈائجسٹ میں جب میرا پہلا مضمون چھپا تو روزنامہ جنگ کے سپلیمنٹ انچارج جناب شریف جاوید نے مجھے کہا’’ میری طرح کے ایک مریض آپ کو شاید یاد ہوں ٗ میں ۱۹۹۶ء میں رونامہ جنگ کے سپلیمنٹ ایگزیکٹو ٗ سکندر صدیقی کو آپ کے پاس لایا تھا۔ انہیں شدید چھپا کی تھی اور سارا جسم دھپڑوں سے بھرا ہواتھا۔ آپ کے علاج سے وہ ٹھیک ہو گئے۔ ‘‘

میں نے کہا’’ یہ واقعہ میرے ذہن میں نہیں لیکن جب کبھی اس موضوع پر لکھا آپ سے رابطہ کر لوں گا۔ یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے سکندر صدیقی یاد آگئے۔ شریف جاوید صاحب کو فون کیا تو کہنے لگے’’سکندر صدیقی تو جنگ چھوڑ گئے لیکن لاہور ہی میں ہیں۔ میں نے بذریعہ فون ان سے رابطہ کرکے عرض مدعا کیا۔

فرمانے لگے’’ حکیم صاحب!۱۹۹۵ء میں میرے جسم پر ہلکی ہلکی خارش شروع ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے چھپاکی میں تبدیل ہوگئی۔ پورا جسم سرخ سرخ دھیپڑوں سے بھر گیا۔ سارا دن جسم کو کھجانے میں گزرتا تھا اور ساری رات جاگتا رہتا۔ نیند ختم ہوگئی۔ اسی طرح چھ ماہ گزر گئے۔ پیشاب اور خون کے ٹیسٹ کروائے۔ لاہور میں چوٹی کے ماہرین جلد سے رابطہ کیا۔انہوںنے دوائیاں دیں ٗانجکشن لگائے اورجو کچھ ان کے بس میں تھا کیا لیکن فائدہ نہ ہوا۔

اسی دوران شریف جاوید صاحب نے آپ کا تذکرہ کیا مگر میں نے مشورہ درخور اعتنا نہ سمجھا۔ لیکن جب ماہر امراض جلدی نے بھی جواب دے دیا تو میں ان کے ساتھ آپ کے پاس آیا۔ آپ نے کہا کہ تین ماہ دوا کھانا ہو گی۔ میں نے رضا مندی کا اظہار کیا۔آپ وقتاً فوقتاً دوا دیتے رہے۔ تین ماہ ختم ہونے سے پہلے ہی میں تندرست ہو چکا تھا۔‘‘

میں نے اس مضمون میں بے شمار مریضوں میں سے صرف چار کا تذکرہ کیا ہے جو گزشتہ اٹھائیس سال میں میرے پاس آئے۔ جلدی امراض کے علاوہ سوزاک ٗ آتشک ٗ جلد کا سرطان اور اسلام آباد کی پولن الرجی میں بھی یہی ادویہ بہت مفید ثابت ہو ئیں۔

میں ان سب مریضوں کو والد گرامی کے مشہور معروف نسخے ٹھنڈک ٗ میں یہ چار مزید اضافی دوائیں شامل کرکے دیتا ہوں:

خون صفا پاؤڈر ٗ سفوف زرد ٗتو تیار سکپور اور حلزون عروسی۔ آخر الذکر دودوائیں بڑی محنت سے تیارر ہوتی ہیں۔ ان کی تیاری میں کئی مہینے لگتے ہیں۔

خارش چھپا کی یا چنبل پر لگانے کے لیے مرہم سفید کا نسخہ تو کنزا لمجربات جلد سوم میں درج ہے سرسوں کا تیل ملا کر دتیا ہوں۔ کچھ عرصہ سے ان ادویہ کے ساتھ وید جگن ناتھ کی معروف کتاب ایورویدک فارما کو پیا سے تیار کردہ عرق منجشٹھا چوتھائی پیالہ بھی دے رہا ہوں۔ اس سے فوائد میں دو گنا اضافہ ہو گیا۔ یہ عرق ۵۲ ادویہ سے نکالا جاتاہے۔ اور فیل پاسے لے کر جلد کے سرطان تک میں مفید ہے۔ اس عرق کے استعمال کے لیے میرے شاگرد عزیز حکیم عبدالواحد (راوی ریان) نے توجہ دلائی اور الحمد اللہ بہت مفید پایا۔

(حکیم عبد الوحید سلیمانی اردو ڈائجسٹ فروری ۲۰۰۵ء)

Last Updated : Dec 22, 2012