جب مجھے یرقان ہوا

 

یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں بلکہ صدی سے بھی چھ ماہ اوپر گزر چکے ہیں۔ اُن دنوں میں این سی اے ہائی سکول جہانیاں (ضلع ملتان) کی چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ دو تین دن سے طبیعت بے حد مضمحل تھی۔ چند دن بعد سکول کی سالانہ تقریب بھی تھی۔ میرے ذمے بھی ایک ڈرامے کا کردار تھا، اس لیے سکول سے گھر آنے میں دیر ہو جاتی۔ روزانہ مشق ہو رہی تھی۔

مگر اس دن طبیعت اتنی بگڑی کہ چھٹی ہوتے ہی گھر چلا گیا، استاد سے اجازت بھی  نہ لے سکا۔ گھر پہنچا تو شدید بخار محسوس ہوا۔ جسم ٹوٹ رہا تھا۔ گھر پہنچنے کی دیر تھی کہ چارپائی پر لیٹ گیا۔ حسب عادت نہ کھانے کے لیے شور مچایا، نہ پانی کا تقاضا کیا۔ بے سدھ ہو کر لیٹا ہوا تھا کہ بڑی بہن کی آواز سنائی دی ’’لگتا ہے سکول میں کسی سے مار کھا کر آیا ہے ورنہ یہ تو نچلا بیٹھنا جانتا ہی نہیں۔‘‘

کچھ دیر اور گزری تو ابا جان کی آواز بھی سنائی دی ’’خیر تو ہے، آج عبدالوحید کیوں لیٹا ہوا ہے؟‘‘ (وہ مجھے ہمیشہ عبدالوحید ہی کہتے تھے، کبھی وحید نہیں کہا کہ یہ اللہ میاں کا نام ہے) یہ تو کبھی ٹک کر بیٹھنا جانتا ہی نہیں۔‘‘

یہ کہہ کر میرے قریب آئے، ماتھے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگے ’’یہ تو بخار سے پھنک رہا ہے۔ رنگت دیکھو کتنی پیلی ہو رہی ہے، بالکل ہلدی جیسا رنگ ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے پھر آنکھوں کے پپوٹے اٹھا کر دیکھے، وہاں بھی زردی نمایاں تھی۔ میں نیم بے ہوشی کے عالم میں لیٹا ہوا تھا کہ ابا جان کی آواز سنائی دی، وہ میری والدہ سے مخاطب تھے ’’فاطمہ! عبدالوحید کو یرقان ہو گیا ہے، لگتا ہے گرمی نے اپنا کام دکھا دیا۔ سکول میں بھی اس کی یہی کیفیت رہی ہو گی۔ اب اس کے کھانے پینے کا دھیان رکھو۔ جلدی سے مولی کا پانی نکال کر اسے پلاؤ۔ اگر کہیں سے مل سکے تو تھوڑی دیر بعد اسے گنے کا رس بھی پلانا۔ گاجر کا تو موسم نہیں ورنہ وہ بھی اس کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔‘‘

میں کھانے پینے کی چیزوں کا سن کر خوش ہو رہا تھا کہ ابا جان کی آواز سنائی دی ’’فاطمہ! اس کو چار پائی سے بالکل نہ اترنے دینا، اس مرض میں چلنا پھرنا بہت نقصان دہ ہے۔ میں اس کے لیے دوائی لاتا ہوں، تم ساگودانہ یا دلیہ بنا کر اس کو کھلاؤ۔‘‘

ابا جان تو یہ کہہ کر چلے گئے اور میں سوچنے لگا کہ یہ کیسا خطرناک مرض ہے جس میں چارپائی سے نیچے اترنے کی بھی اجازت نہیں۔ میں تو بے سدھ ہو کر لیٹ گیا لیکن تیمارداروں کی قطار لگ گئی۔ گھر والوں کے علاوہ کبھی ماموں آ رہے ہیں، کبھی ممانی۔ تھوڑی دیر بعد تایا جان بھی تشریف لے آئے۔ وہ سب لو گیہی کہتے تھے کہ برخوردار کو ’’پیلیا‘‘ ہو گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد بڑی پھوپھی کے بیٹے حکیم حمید اللہ اور والد صاحب سے کہنے لگے ’’ماموں جی! مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسے یرقان اسود ہو گیا ہے۔‘‘

انہو ں نے کہا ’’ہاں ایسا ہی ہے۔‘‘

میں نے پہلی دفعہ اتنا مشکل نام سنا تھا، اس لیے گھبرا گیا کہ پتا نہیں مجھے کون سی تکلیف لاحق ہو گئی ہے۔ ابا جان نے بعد میں بتایا کہ چونکہ اس بیماری میں آنکھیں ہلدی کی طرح پیلی ہو جاتی ہیں، پورا جسم بھی ہلدی کی رنگت جیسا ہو جاتا ہے۔ پیشاب بھی گہرا پیلا آتا ہے اور بعض حالتوں میں پاخانے کی رنگت بالکل دودھ کی طرح سفید ہو جاتی ہے جیسے تمہارے ساتھ ہوا ہے، اس لیے ہندی میں اسے پیلیا روگ کہتے ہیں۔

میں تقریباً دو ماہ اس مرض کا شکار رہا۔ کھانے بدمزہ، سالن پھیکا، مولی کے پتے اور پانی، گنے کا رس، دلیہ، ساگودانہ، نمک مرچ کے بغیر سالن کھا کھا کر اکتا گیا لیکن مجبوری تھی اور نگرانی بہت سخت، جب قدرے افاقہ ہوا، تو پھیکے شوربے میں روٹی بھگو کر دس پندرہ منٹ بعد کھا لیتا۔

مجبوری تھی، اس لیے کھاتا رہا۔ ویسے بھی کھانے کو دل نہیں چاہتا تھا۔ جو غذائیں پسند تھیں وہ کھا نہیں سکتا تھا۔ چکنائی استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ ایک عرصہ بعد جب طبیعت قدرے بحال ہوئی تو کدو، ٹینڈے، توری، مولی، گاجر اور شلغم ایسی پھیکی سبزیاں کھانے کو ملیں۔ نہ نمک، نہ مرچ، نہ گھی، بس میں ہی جانتا ہوں کہ انہیں کیسے زہر مار کرتا رہا۔

ابا جان نے میرے لیے جو دوائیں تجویز کیں انہیں میں تین ماہ کھاتا رہا۔ اگرچہ میں ڈیڑھ ماہ بعد ٹھیک ہو گیا لیکن والد گرامی کا کہنا تھا کہ اس مرض کا کورس تین ماہ کا ہے، لہٰذا اسے پورا کرو۔ ان ادویہ میں سب سے پہلی چیز ایک سیاہ رنگ کا پھیکا سفوف تھا جو میں صبح نہار منہ اور عصر کے بعد لیتا۔ اسے ایک پاؤ  دہی میں ملا کر لینا ہوتا تھا۔ ابا جان کی ہدایت تھی کہ دہی سے بالائی اتار لینا کیونکہ یرقان میں بالائی سخت نقصان دہ ہے۔ بعض اوقات مجھے پینے میں دشواری پیش آتی تو وہ اس میں چینی ملا دیتے، مجھے اس دوا کی سیاہ رنگت بالکل پسند نہیں تھی لیکن ابا جان کا حکم ٹالنا بھی مشکل تھا۔

دوسری دوا جو بیماری کی حالت میں مجھے دی گئی، انتہائی کڑوی اور بدذائقہ تھی۔ اس کا ذائقہ اتنا کڑوا تھا کہ کئی گھنٹے مجھے پریشان رکھتا۔ بار بار پانی پیتا، تھوڑی تھوڑی دیر بعد نمک چاٹتا، لیکن کڑواہٹ نہیں جاتی تھی۔ ابا جان اس دوران گھر آتے تو کہتے ’’بیٹے! آلو بخارا کھاؤ، تربوز کھاؤ، آڑو کھاؤ، یہ تمہارے منہ کی کڑواہٹ کو بھی دور کریں گے اور مرض کو بھی دور بھگائیں گے۔‘‘ یہ پھل کھانے سے مجھے بہت لطف آتا ہے۔

اس مرض کو پیلیا کہنے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں، زیادہ تر ہندوستان چلے گئے۔ یرقان اور اس کی قسمیں، اصغر اور اسود کہنے والے بھی چند ہی اطبا ہیں، اب اکثریت اس بیماری کو ہیپاٹائٹس‘‘ کے نام سے پکارتی ہے۔ حالانکہ اس انگریزی لفظ کا اردو ترجم ورم جگر ہے۔ ڈاکٹری میں اس کا علاج نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے اور کافی مہنگا پڑتا ہے نیز علاج کے لیے طویل عرصہ درکار ہے۔ پہلے ہیپاٹائٹس اے سے لے کر سی تک ہوتا تھا اب یہ ایف تک بڑھ چکا ہے۔

۱۹۷۰ء میں جب تعلیم سے فارغ ہو چکا، تو ایک دن والد گرامی حکیم محمد عبداللہ سے پوچھا ’’ابا جان! جب مجھے یرقان ہوا تھا تو آپ نے مجھے تین دوائیں دی تھیں۔ وہ کون کون سی تھیں؟‘‘

فرمانے لگے ’’وہ تینوں نسخے کنزالمجربات میں موجود ہیں۔ میں گزشتہ دس بارہ سال سے وہی تینوں نسخے  ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی کے مریضوں کو دے رہا ہوں، تین چار ماہ میں مرض ختم ہو جاتا ہے اور وہ خوش خوش واپس لوٹتے ہیں۔ بیرون ملک جانے والے لوگ جب اپنا طبی معائنہ کروائیں اور پتا چلے کہ انہیں ہیپاٹائٹس ہے، تو وہ بے حد پریشان ہو جاتے ہیں۔ میں انہیں یہی دوائی دیتا ہوں۔ جب وہ خود آ کر یا بذریعہ ٹیلی فون مجھے خوشخبری سناتے ہیں، تو مجھے بھی دلی خوشی محسوس ہوتی ہے۔‘‘

اب ان تینوں نسخہ جاتا کا ذکر کر دوں، چاہیں خود بنا لیں چاہے مجھ سے مل کر لے لیں۔

سفوف اکسیر

ھوالشافی : پرانے کھنڈروں میں سے خبث الحدید جسے مَنُور بھی کہتے ہیں، عام مل جاتا ہے۔ پاکستان میں پتوکی کے قریب بڑی مقدار میں دستیاب ہیں نیز پنساریوں کے ہاں بھی ملتا ہے۔ ۲۰ تولہ کی مقدار میں لیں اور اس میں زرد ہریڑ ہ بلیلہ زرد اور آملہ ۲۰۔ ۲۰ تولہ ہی کی مقدار میں ڈالیں۔ پھر اس میں مرچ سیاہ، سونٹھ اور فلفل دراز جسے پنجابی میں مگھاں کہتے ہیں، ۴۔۴ تولہ شامل کریں۔

بیان کی گئی پہلی چار ادویہ کوٹ کر چینی یا مٹی کے برتن میں ڈال دیں۔ اس کے اوپر گائے کا اور اگر نہ ملے تو بھینس کا دہی ڈالیے۔ دہی کی مقدار اتنی ہو کہ وہ ادویہ کے اوپر چار چار انگل چڑھ جائے۔ پھر کسی ململ کے کپڑے سے برتن ڈھک دیں اور دن میں دو مرتبہ چمچ سے ہلاتے رہیں۔

یہ عمل سردیوں میں ایک ہفتہ اور گرمیوں میں کم از کم چار روز کریں۔ اگر دہی مقررہ مدت سے پہلے ختم ہو جائے تو اور ڈال لیں۔ مقررہ مدت کے بعد کسی کپڑے یا گتے کے ٹکڑے پر پھیلا کر سایہ میں خشک کر لیں۔ بعد ازاں آخری تینوں اشیا بھی ڈالیے اور کوٹ کر سفوف بنا لیں۔

صبح قبل از ناشتہ اور شام عصر کے بعد تین تین ماشہ سفوف ڈیڑھ پاؤ  دہی میں ملا کر چینی شامل کر کے استعمال کریں۔ ذیابیطس کے مریض بغیر چینی کے لیں۔ آج کل ہم نے اس سفوف کے قرص (گولیاں) بنا لیے ہیں جو ایک ایک گرام کے ہیں۔ انہیں قرص جگر کہا جاتا ہے۔ گولیاں سادہ پانی کے ساتھ استعمال کروائی جاتی ہیں۔

دواء الکبد

ھو الشافی:جس دوا کو میں نہایت ناگواری سے صبح، دوپہر، شام بعد غذا استعمال کرتا تھا، وہ اس مرض کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کا نسخہ درج ذیل ہے :

ریوند خطائی ۵ تولہ، قلمی شورہ، نوشادر، مرچ سیاہ، بالچھڑ اور ساذج ہندی ایک ایک تولہ (یہ سب ادویہ پنساری کے ہاں دستیاب ہیں) انہیں کوٹ اور چھان کر ۴۔۴ رتی عرق مرکب نصف پیالی کے ساتھ لیں۔

عرق مرکب

ھو ا الشافی: یہ بے شمار عرقوں کا مرکب ہے، اس لیے اسے عرق مرکب کہا جاتا ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل اشیاء شامل ہیں :

گلو، مکو، اجوائن، کانسی، سفوف، ریوند چینی، ہلیلہ، آملہ ہم وزن۔ ابا جانؒ یہی ادویہ استعمال کرتے تھے۔ اب میں نے اس نسخے میں مندرجہ ذیل دواؤں کا اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے اس کے فوائد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

برنجاسف، جڑ سملو، ملٹھی اور تازہ ادرک

 

یہ سب ادویہ ہم وزن لے لیں اور آٹھ گنا پانی میں شامل کر کے بذریعہ عرق کشید کریں۔ تمام ادویہ چار گھنٹہ قبل پانی میں بھگو دیں۔ یہ عرق صبح دوپہر شام چوتھائی سے نصف پیالی استعمال کریں۔ اللہ کے فضل سے تین ماہ میں ہر قسم کی ہیپاٹائٹس منفی )نیگٹو) ہو جاتی ہے۔

 

(حکیم عبد الوحید سلیمانی اردو ڈائجسٹ جنوری ۲۰۰۶ء)

Last Updated : Dec 22, 2012