ایک انسان دوست طبیب

 

حکیم محمد عبداللہ

 

اطبا جن نسخوں کو گناہوں کے مانند چھپاتے تھے، وہ انہوں نے عوام الناس کے افادے کے لیے بلا معاوضہ شائع کر دیے۔

سرور عالم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے ’’علم دو طرح کا ہے … دین کا علم اور بدن کا علم۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے استاذ  الحکما حکیم محمد عبداللہ کو دونوں علوم سے نوازا۔ آپ ۲۷ جولائی ۱۹۰۴ء کو روڑی، ضلع حصار کے ایک معروف علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ حصار اس وقت بھارتی صوبے ہریانہ کا حصہ ہے۔

’’کئی پشتوں سے آپ کا خاندان مرجع خلائق تھا۔ دادا حضرت مولانا غلام حسنؒ اپنے علاقے کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اپنے بھائی، حافظ قادر بخشؒ کے ساتھ ضلع حصار، کرنال، پٹیالہ اور گرد و نواح کے مسلمانوں کو دینی اقدار سے آگاہ کرنے کے لیے تبلیغی دورے کرتے رہتے تھے۔ حافظ قادر بخشؒ پیدائشی نابینا تھے مگر نور بصیرت سے مالا مال، قرآن پاک اس طرح ازبر تھا کہ ایسی نظیر پھر دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔

آپ کسی حافظ صاحب سے ایک آیت کا ٹکڑا پڑھ کر پوچھیے کہ اس کے آگے کیا ہے، وہ بلا توقف اگلی آیات سنا دیں گے لیکن حافظ قادر بخش جس روانی سے ما بعد آیات پڑھتے اسی روانی سے ما قبل آیات بھی بیان کر دینے پر قادر تھے۔ قرآن پاک صحیح پڑھنے اور پڑھانے کا اتنا شوق تھا کہ آپ کے سامنے کوئی بھی قرآن پڑھنے میں غلطی نہیں کر سکتا تھا۔

حکیم عبداللہ کے والد گرامی، حضرت مولانا محمد سلیمانؒ ایک مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ انہوں نے حافظ قادر بخش جیسے عاشق قرآن اور صوفی غوث الدین اور حافظ جمال الدین جیسی متبع سنت اور باعمل عالموں کی گود میں پرورش پائی۔ سات سال کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ پھر حضرت مولانا حکیم علاؤالدین (جو چچا زاد بھائی بھی تھے اور بہت بڑے عالم اور طبیب بھی) کے زیر تربیت آئے۔ قرآن و سنت اور دیگر دینی علوم پوری شرح و بسط سے ان کے پاس پڑھے۔

روڑی اگرچہ ایسی جگہ واقع تھا جہاں میلوں تک کوئی سڑک اور ریلوے لائن نہیں تھی، سفر اونٹوں پر یا پیدل کیا جاتا تھا، تاہم ہندوستان کے کئی ممتاز علما متعدد بار روڑی تشریف لے گئے۔ مولانا سید داؤد غزنویؒ اپنی سیاسی مصروفیات سے وقت نکال کر اس بے برگ و گیاہ علاقے میں صرف مولانا محمد سلیمان کی خدمت میں حاضری کے لیے جایا کرتے اور وہ بھی ان کی تربیت کا خاص خیال رکھتے۔ ایک بار مولانا داؤد غزنویؒ نے مسجد سے نکلتے وقت دائیں بائیں پاؤں کا خیال نہ رکھا، فوری طور پر ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ کسی سنت کو چھوٹا سمجھ کر ترک نہیں کرنا چاہیے، ہر قدم پر سنت کو پیش نظر رکھو۔ پھر پوچھا ’’میری تنقید کا آپ نے برا تو نہیں مانا؟‘‘

مولانا داؤد غزنوی کہنے لگے ’’حضرت! میں تو سینکڑوں میل کا فاصلہ طے کر کے آتا ہی اس لیے ہوں کہ اپنی اصلاح کر سکوں۔ اگر آپ توجہ نہ فرماتے تو مجھے دکھ ہوتا۔ آپ کی توجہ تو میری دنیا اور آخرت کی بہتری کے لیے ہے۔‘‘

حضرت مولانا محمد سلیمانؒ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مسجد میں گزارا۔ مسجد سے آپ کو بے پناہ لگاؤ تھا۔ زندگی کے آخری چالیس سال قریباً مسجد ہی میں گزرے۔ چونکہ ترک دنیا شرعاً ممنوع ہے، اس لیے مسجد میں فروخت کے لیے کچھ قاعدے، سپارے اور قرآن مجید رکھ لیے تھے۔ ایک دفعہ ایک شخص خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا ’’بیمار ہوں، بڑے علاج کرائے، فائدہ نہیں ہوا۔ اب آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔‘‘

آپ نے نسخہ لکھ کر دیا اور کہا، اسے پانی میں جوش دے کر پی لینا۔ چند دن  بعد وہ حاضر خدمت ہوا تو بالکل ٹھیک تھا۔ پوچھا، وہ دوا استعمال کر لی؟ کہنے لگا، کون سی دوا؟ میں تو آپ کے تعویذ ہی سے ٹھیک ہو گیا۔ اصل میں اس نے نسخے کو تعویذ سمجھ کر پانی میں جوش دیا اور پی گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی میں اس کے لیے شفا رکھ دی۔

حکیم محمد عبداللہ ’میری سرگزشت‘ کے عنوان سے اپنی معروف طبی تصنیف ’’کنزالمجربات‘‘ میں لکھتے ہیں ’’والد مکرمؒ کے تین فرزند میری ولادت سے پیشتر داغ جدائی دے گئے تھے، اس لیے والدین کی جملہ توجہات اور محبتوں کا مرکز میری ذات بن گئی۔ ۱۹۱۱ء میں اللہ تعالیٰ نے والد بزرگوار کو اپنی گھر کی زیارت کا موقع عطا فرمایا اور بقول والد گرامیؒ انہوں نے سب سے زیادہ دعائیں میرے ہی حق میں مانگیں۔ خصوصاً اس لیے بھی کہ ان دنوں میری علم و فہم کی حالت بہت پتلی تھی۔ لوگ میری کوتاہ عقلی اور سادگی کی بنا پر مجھے ’اللہ لوک‘ پکارا کرتے تھے۔‘‘

حکیم صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد سلیمانؒ ہی سے حاصل کی۔ قرآن مجید، مولانا رحیم بخش کی ابتدائی اسلامی کتب، کریما فارسی، نام حق، گلستاں، بوستاں وغیرہ آٹھ سال کی عمر میں ختم کر لیں۔ ۲۷ جون ۱۹۱۳ء بروز جمعہ انہیں مدرسہ خیر العلوم سرسہ میں داخل کرایا گیا جس کے مہتمم مولانا ابوالخیر دین احمد سرسوی تھے۔ اس زمانے میں دینی مدارس کے طالب علم گھروں سے کھانا مانگ کر لاتے اور اکٹھے بیٹھ کر کھاتے تھے لیکن حکیم صاحب کا انتظام ان کے استاد صاحب نے اپنے گھر کیا۔

جیب خرچ کے لیے انہیں دو، اڑھائی روپے ماہوار ملا کرتے جو ان کی ضرورت کے لیے کافی تھے۔ مدرسہ خیر العلوم میں درس نظامی کے ساتھ ساتھ طب کی تعلیم کا بھی باقاعدہ انتظام تھا۔ آپ نے علم الادیان اور علم الابدان کی تعلیم دوسرے طلبہ کی نسبت بہت جلد مکمل کر لی۔ ۱۹۲۳ء میں ۱۹ سال کی عمر میں درس نظامی اور حکمت کے امتحان پاس کر لیے۔

حکیم صاحب ایک دینی مدرسہ شروع کر کے اپنے علاقے سے جہالت ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بعض افراد کو بطور مدرس منتخب بھی کر لیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ان کا خیال تھا کہ مدرسے کا سارا کام صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے ہو، اس میں سے ایک پیسہ بھی بطور تنخواہ اپنی ذات پر خرچ نہ کیا جائے، مگر مدرسہ قائم کرنے کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔ اس کے حصول کا ذریعہ یہی سمجھ میں آیا کہ باقاعدہ مطب شروع ہو اور آمدنی میں سے کچھ اپنی ذات پر خرچ کر دیا جائے اور کچھ مدرسے کے اخراجات کے لیے۔

جب مریض آنے شروع ہوئے تو ان میں اکثریت نادار اور غریب لوگوں کی تھی جو فی الواقع نان جویں کو بھی ترستے تھے، اس لیے ان سے پیسے لینے کو دل نہیں چاہتا تھا۔ روزانہ آنے والے مریضوں میں اگر ایک آدھ کو خوش حال پاتے تو پیسے لے لیتے ورنہ سب کو مفت دوا دیتے۔

مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ جب کئی لا علاج اور پیچیدہ امراض کے مریض آئے تو ان کی تشخیص اور علاج کے لیے طبی موضوعات پر شائع ہونے والی کتب اور رسائل منگوائے۔ اس بات کی کوشش کی کہ کم سے کم رقم میں زیادہ سے زیادہ مریضوں کے علاج والے نسخہ جات تلاش کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے نسخوں کی چھان پھٹک اور تجربات کرتے رہے۔ ۱۹۲۳ء میں حکیم علم الدین بھاگو والیہ کی کتاب ’’اسرار صدری‘‘ میں قصبہ مڑل ضلع ملتان کے ایک طبیب، حکیم محمد ابراہیم بیگ کے لکھے ہوئے پھٹکڑی کے فوائد نظر سے گزرے۔ انہیں آزمایا اور مفید پایا۔ پھر پھٹکڑی ہی کے ذریعے علاج کرنے لگ گئے حتیٰ کہ تجربے سے اس مفرد دوا کی صدہا بیماریوں میں افادیت ثابت ہو گئی۔

انہی دنوں والد گرامی کو خیال آیا کہ یہ نسخہ جات تو صرف ان کی ذات تک محدود ہیں، دور دراز کے لوگ نسخوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس علاقے میں جہاں نہ گاڑی ہے نہ سڑک، مریضوں کا پہنچنا محالات میں سے ہے۔ اس لیے کیوں نہ اپنے تجربات کتابی شکل میں یکجا کر دوں تاکہ لوگ خود اپنا علاج کر سکیں۔ ساتھ ہی یہ بھی سوچا کہ عام آدمی طبی اصطلاحات سے تو واقف نہیں ہوتے اس لیے عام روش سے ہٹ کر انتہائی آسان زبان میں لکھوں جس سے گھریلو خواتین اور کم پڑھے لکھے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں۔

یوں ایک کتاب لکھ ڈالی پھر ملک کے بے شمار ناشروں کو خطوط لکھے کہ اسے بغیر رائلٹی کے شائع کر دیں، مگر کسی ناشر نے ایک غیر معروف طبیب اور غیر معروف مصنف کی پہلی کوشش کو مفت شائع کرنے کی ہامی بھی نہیں بھری۔ گاؤں میں رہنے کی وجہ سے انہیں طباعت کا تجربہ نہیں تھا اور کتاب چھپوانے کے لیے اچھی خاصی رقم درکار تھی یعنی ڈیڑھ صد روپے۔

حکیم صاحب کے پاس بوجہ درویشی کبھی بیس روپے بھی جمع نہیں ہوئے تھے۔ آخر ان کے ایک تایا زاد بھائی نے بطور قرض ڈیڑھ صد روپے دیے جن سے کتاب ’’خواص پھٹکڑی‘‘ طبع ہوئی۔ اسے مختلف رسالوں اور طبیبوں کو برائے تبصرہ ارسال کیا گیا۔ اللہ کے فضل سے وہ بے حد مقبول ہوئی۔ صرف اطبا ہی نے نہیں بے شمار ہندو مسلمان اور سکھ ڈاکٹروں نے بھی اسے پسند کیا اور یہاں تک لکھا کہ اس کے کئی نسخہ جات وہ اپنے مریضوں پر آزما رہے ہیں اور وہ ایلوپیتھی ادویہ سے بڑھ کر موثر ثابت ہوئے ہیں۔

فاتح قادیانیت، مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ نے تو یہاں تک لکھا کہ ہر گھر میں اس کا ایک نسخہ موجود رہنا ضروری ہے۔ ’’خواص پھٹکڑی‘‘ کی پہلی اشاعت چند ماہ میں نکل گئی۔ اس کے بعد خواص ریٹھہ، خواص نمک، خواص نیم، خواص کیکر وغیرہ کے نام سے کتب لکھیں جو بہت پسند کی گئیں۔ ان کتابوں نے طب میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔

حکیم صاحب نے جب اپنی پہلی مقبول عام طبی تصنیف شائع کی تو ان کی عمر صرف انیس سال تھی۔ آپ نے اپنی سب سے زیادہ مقبول ہونے والی کتاب ’’کنزالمجربات، ۲۵ سال کی عمر میں لکھی۔ اس کے اب تک ۷۱ ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ اردو کے علاوہ ہندی، مرہٹی، گجراتی اور انگریزی میں بھی اس کے تراجم بھارت میں شائع ہوئے۔

۱۹۳۴ء میں آل انڈیا یونانی اینڈ آیورویدک طبی کانفرنس کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا۔ یہ ہندوستان کے طبیبوں کی واحد تنظیم ہے جسے حکیم حافظ اجمل خان مرحوم نے قائم کیا۔ اس اجلاس کی صدارت سر فیروز خان نون، میاں عبدالحئی، سرگوکل چند نارنگ وغیرہ نے باری باری کی تھی اس میں طبیبوں کی کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ حکیم محمد عبداللہ کو ان کتب کی نگارش پر طلائی تمغہ اور درجہ اول کی سند دی جائے۔ آپ پہلے طبی مصنف ہیں جو اس منفرد و یگانہ اعزاز کے مستحق قرار پائے۔

۱۹۲۶ء تک آپ نے طب کے موضوع پر چھوٹی بڑی ۱۱۵ کتب لکھی جن میں سے ۶۳ تو زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں لیکن ۵۲ کتب کے مسودے تقسیم ملک کے موقع پر ضائع ہو گئے۔ ان میں ہندوستان کی سبزیاں، ترکاریاں، خواص فولاد، خواص سونا، کنزالمرکبات حصہ دوم وغیرہ ۳۰۰ سے ۵۰۰ صفحات تک ضخیم تھیں۔ تقسیم پاکستان کے بعد آپ نے اپنی اکثر تصانیف پر نظر ثانی کی۔  ان میں جدید معلومات کی روشنی میں اضافے کیے اور چند نئی کتب بھی لکھیں۔

ایک زمانے میں جب اشیاء کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے تو اس صورت حال پر خاصے پریشان ہوئے۔ فرمانے لگے ’’میں نے سستی اور عام ملنے والی اشیا سے بطور علاج کتب لکھی تھیں، لیکن وہی پیاز، لہسن اور گاجر مولی اب غریبوں کو میسر نہیں۔ یہ سوچ کر ان تمام چیزوں پر تجربات شروع کیے جو بالکل مفت ملتی تھیں یا بیکار سمجھ کر لوگ انہیں باہر پھینک دیتے تھے مثلاً کیلے کے چھلکے، گنڈیریوں کے چھلکے، کاغذ کے ٹکڑے، ردی کارڈ، آم اور کھجور کی گٹھلی، سوکھا چمڑہ وغیرہ۔ یوں ان سب اشیاء کے فوائد پر مشتمل ایک کتاب ’’مفت علاج‘‘ مرتب ہوئی تاکہ عوام علاج کے سلسلے میں پریشانیوں سے بچ سکیں۔ اللہ کے فضل سے اس کتاب کو بھی بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔

اکثر اطبا نسخوں کو گناہوں کی طرح چھپاتے اور مرتے مر جاتے ہیں، لیکن کسی کو ایک معمولی نسخے کی بھی ہوا نہیں لگنے دیتے حتیٰ کہ اپنی اولاد کو بھی نہیں بتاتے۔ بعض نے تو یہاں تک کہاوتیں گھڑ رکھی ہیں کہ جو نسخہ عام ہو جائے، اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ حکیم محمد عبداللہؒ نے اس روایت کو نہ صرف خود توڑا بلکہ اطبا سے ایسے ایسے نسخے حصل کر کے ظاہر کیے جو وہ کسی صورت بتانے پر آمادہ نہیں تھے۔ بعض نسخے تو باقاعدہ معاوضہ دے کر حاصل کیے اور اپنی کتب میں طبع کرائے۔

آپ کا قول تھا کہ جو معالج نسخے کو اپنا روزی رساں سمجھے وہ اسے چھپاتا ہے۔ لیکن جو اللہ تعالیٰ کو روزی رساں سمجھتا ہے، وہ اسے عام کر دیتا ہے۔ اسی قول پر عمل کے سبب آپ کی تالیفات کو طبی اور غیر طبی دنیا میں بے مثال مقبولیت حاصل ہوئی۔

حکیم محمد عبداللہؒ نے تعلیم سے فارغ ہونے کے فوراً بعد ۱۹۲۳ء میں دواخانہ سلیمانی مطب اور تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اپنے تمام اہم نسخہ جات جو مطب میں استعمال ہوتے یا دواخانے میں تیار ہو کر وسیع پیمانے پر پورے ملک میں جاتے تھے، اپنی کتاب ’’کنزالمجربات حصہ اول‘‘ میں لکھ ڈالے۔ بعد میں زیر تجربہ آنے والے نسخہ جات کتاب کے حصہ دوم اور قیام پاکستان کے بعد نئے تجربات کو حصہ سوم میں درج کیا۔ ایک نئی کتاب ’’پھولوں سے علاج‘‘ لکھی۔ آپ کی کئی تصانیف مکمل یا غیر مکمل حالت میں ابھی تک غیر مطبوعہ ہیں۔ ان شاء اللہ جلد انہیں کتابی شکل میں سامنے لانے کا ارادہ ہے۔

بحیثیت طبیب آپ کا مطب روز اول ہی سے مرجع خلائق رہا، آپ کو مریضوں کے انتظار میں کبھی گھڑیاں نہیں گننی پڑیں۔ نصف صدی سے زائد تک مطب کیا، لاکھوں مریض زیر علاج آئے اور شفایاب ہوئے۔ کبھی مریض کو گاہک نہیں سمجھا بلکہ اللہ کا  فرستادہ مہمان تصور کیا۔ قیام پاکستان تک تو مطب کاکام تقریباً فی سبیل اللہ ہی کیا۔ تشکیل ملک کے بعد جب خالی ہاتھ لٹ لٹا کر پاکستان پہنچے تو مریضوں سے برائے نام اجرت وصول کرنے لگے۔ روزانہ ملک کے کونے کونے سے لوگ بغرض علاج آتے تھے۔

آپ کا معمول تھا کہ قریباً ایک تہائی مریضوں کو مفت، ایک تہائی کو بلا منافع اور ایک تہائی کو بہت کم نفع پر دوا دیتے۔ زیادہ غریب اور مستحق لوگوں کو عموماً دوا کے ساتھ ساتھ آنے جانے کا کرایہ بھی اپنی طرف سے ادا کرتے۔ مہمان خانے میں مریضوں کی مفت رہائش اور طعام کا بھی انتظام تھا۔ امیر و غریب، ہر طرح کے مریضوں کی مہمانی کے انتظامات کی خود نگرانی کرتے تاکہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔

حکیم عبداللہ اپنی مقبول عام تصنیف، کنزالمجربات جلد سوم میں مطب کی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اکثر لوگ مجھے کامیاب طبیب اور میرے مطب کو کامیاب تصور کرتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ کی عنایت سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی ممالک سے بھی لوگ بغرض علاج آتے اور بفضل خدا شفایاب بھی ہو جاتے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں اس میں میری طبابت، انوکھی تشخیص یا نادر تجویز کا چنداں دخل نہیں بلکہ کچھ اور عوامل بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے میری شہرت کا باعث بنا دیا۔

’’میں چاہتا ہوں اس کتاب میں اپنے تمام تجربات کے علاوہ وہ تمام اصول اور عملیات بھی لوگوں کی خدمت میں پیش کر دو تاکہ ان میں سے اگر کوئی آپ کے دل کو لگے، تو اسے اختیار فرما لیں۔ اس طرح چراغ سے چراغ روشن ہو سکتا ہے اور یہی روشنی میری قبر کی تاریکی میں کام آئے گی۔

(۱) میں شافی حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کو تصور کرتا اور دوا کو بطور ایک وسیلہ پیش کرتا ہوں حتیٰ کہ کسی اکسیر سے اکسیر دوا کو بھی موثر حقیقی نہیں سمجھتا۔

(۲) آئے ہوئے مہمان کو اللہ تعالیٰ کا فرستادہ تصور کرتا اور اس سے خدائی مہمان کے طور پر معاملہ کرتا ہوں، اس لیے حتی الوسع اسے خوش کر کے لوٹانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس حسن سلوک کا میں نے بہت اثر دیکھا ہے۔ نیز کسی الجھی ہوئی بیماری میں مبتلا مریض کو دیکھ کر دل ہی دل میں دعا کرنے لگتا ہوں کہ یا اللہ، اس بیمار کو میں نے خود تو بلایا نہیں، اس کو میری طرف رجوع کرانے والی ہستی تو تیری ذات ہے۔ لہٰذا اس کو شفا دینا اور مجھے ناکامی کی ذلت سے بچانا تیرا ہی کام ہے۔

(۳) بہت سے نام ایسے ہیں جن سے میں خصوصی مراعات برتتا ہوں، مثلاً جملہ انبیاء علیہم السلام، اکابر صحابہ کرام، امہات المومنین اور سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک بیٹوں بیٹیوں کے اسمائے مبارکہ، میں ان سب ناموں کی عزت کرتا ہوں۔ علاوہ ازیں میرے مرحوم رشتے دار، والد والدہ بھائی، بیٹے، بیٹیاں، اساتذہ ایسے ان گنت نام ہیں جن سے میں خصوصی رعایت کرتا ہوں اور یہ رعایت کرتے وقت امیری غریبی کو بھی نہیں دیکھتا۔ بعض اوقات اس میں بڑے بڑے رؤسا  اور نواب بھی آ جاتے ہیں اور وہ اس رعایت پر معترض بھی ہوتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگرچہ میرا یہ فعل ذاتی اور جذباتی قسم کا ہے مگر اس کے عمدہ نتائج دنیا میں دیکھے ہیں اور آخرت میں صدہا گنا منافع کی آس لگائے بیٹھا ہوں۔ جب کبھی آمنہ، خدیجہ، حلیمہ، عائشہ اور فاطمہ نامی کوئی مائی میرے زیر علاج آئے، تو بسا اوقات میری آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں اور میں خود کو ان کے احسانات کے بار تلے دبا ہوا محسوس کرتا ہوں۔

(۴) غریبوں، ناداروں، پھٹے پرانے کپڑے والوں اور خاص طور پر عمر رسیدہ لوگوں سے ترجیحی سلوک کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔

(۵) میں مسند طب کو مسند تبلیغ بھی تصور کرتا ہوں اور حتی الوسع مریضوں کو اچھے انداز میں ہلکے پھلکے جملوں کے ذریعے اصلاح عقائد، تعلق مع اللہ قائم کرنے اور نماز پڑھنے کی تاکید کرتا رہتا ہوں۔

(۶) بعض حکما کو دیکھا گیا ہے کہ وہ معمولی امراض مثلاً نزلہ، زکام، سر درد، پیٹ درد وغیرہ کو چنداں اہمیت نہیں دیتے بلکہ مشکل اور پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ عام امراض میں مبتلا لوگوں کی تعداد نوے فیصد ہوتی ہے۔ اگر آپ ان معمولی امراض کے لیے کارآمد ادویہ بنا کر رکھیں، تو آپ کی شہرت کو چار چاند لگ جائیں گے لیکن اگر آپ نے عام امراض کی طرف توجہ نہ دی، تو خواہ آپ کتنے ہی طبیب حاذق کیوں نہ ہوں، آپ کا مطب کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ معمولی بیماریوں میں مبتلا مریض تندرست نہ ہونے کی صورت میں آپ کی حذاقت کا مذاق اڑائیں گے۔ میرے نزدیک طبیب کی زندگی کے لیے یہ سات اصول بے حد ضروری ہیں۔‘‘

 

بعض اطبا کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ غریبوں سے تو مناسب رقم لیتے ہیں لیکن طبقہ امراء سے اتنی زیادہ وصول کر لیتے ہیں کہ ساری کسر پوری ہو جائے۔ حکیم صاحب اس بات کو بھی صحیح نہیں سمجھتے تھے۔ وہ مریضوں سے دوا کی لاگت انتہائی کم منافع کے ساتھ لینا پسند کرتے اور اپنی حذاقت کے پیسے وصول نہ کرتے۔ ایک دفعہ ملتان کا ایک بڑا زمیندار دوا لینے حاضر ہوا۔ تشخیص کی اور دوا لکھ دی جس کی قیمت آٹھ روپے بنی۔ وہ دوا لے کر چلا گیا۔ چند ماہ بعد دوبارہ حاضر ہوا اور آ کے کہنے لگا ’’حکیم صاحب! آپ کی دوا سے تو بالکل فائدہ نہیں ہوا۔ کوئی قیمتی دوا دیں۔‘‘

اس موقع پر زمیندار کے ڈرائیور نے تنہائی میں جا کر حکیم صاحب کو بتایا کہ صاحب نے آپ کی دوا استعمال نہیں کی تھی بلکہ یہاں سے گئے تو راستے میں ایک نہر میں یہ کہہ کر دوا پھینک دی کہ اتنی سستی دوا سے کیا فائدہ ہو گا۔ اس لیے آپ ان سے ان کی حیثیت کے مطابق پیسے لیں کہ اب ہر طرف سے مایوس ہو کر دوبارہ آپ کے پاس آئے ہیں۔

اس دفعہ حکیم صاحب نے ان سے دو سو روپے وصول کیے۔ چند روز بعد وہ زمیندار آیا تو بڑا خوش تھا۔ کہنے لگا ’’حکیم صاحب! پچھلی دوا نے بالکل فائدہ نہیں کیا تھا، یہ دوا تو بہت مفید ثابت ہوئی۔ میرا مرض تقریباً ختم ہو گیا۔‘‘

آپ نے کہا ’’بھائی! دوائی تو پچھلی دفعہ بھی یہی تھی۔ اگر آپ استعمال کرتے، تو اللہ کے فضل سے پہلے ہی صحت یاب ہو جاتے۔ یہ اپنے ایک سو بانوے روپے وصول کر لیجیے۔ یہ صرف آپ کو علاج پر آمادہ کرنے کے لیے میں نے بطور امانت رکھ لیے تھے، ان پر میرا کوئی حق نہیں۔‘‘

وہ زمیندار اپنی اس حماقت پر شرمندہ بھی ہوا اور حکیم صاحب کے کردار سے متاثر بھی۔ اس نے بھی وہ رقم وصول نہیں کی بلکہ کسی رفاہی کام کے لیے بطور خیرات دے دی۔

حکیم محمد عبداللہ نے مجدد طب، حکیم عبدالوہاب انصاری عرف نابینا صاحب سے بھی بہت کچھ حاصل کیا تھا۔ نباضی کے فن میں نابینا صاحب کی شہرت ملک گیر تھی۔ اس کے سارے اسرار و رموز اور وہ اہم نسخہ جات جو ان کے مطب کی کامیابی کے ضامن تھے، وہ انہوں نے حکیم صاحب کو بتلا دیے تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے ’’تم میرے شاگرد ہی نہیں میرے دوست بھی ہو۔‘‘ حکیم صاحب بالعموم نبض پر ہاتھ رکھ کر وہ بہت سی باتیں بتا دیتے تھے جو کئی ڈاکٹر بے شمار طبی امتحان کروا کر کے بھی سمجھ نہ پاتے۔

حکیم محمد عبداللہ شہرت کی طلب سے بہت دور تھے نہ اس کی چاہت تھی نہ ضرورت۔ کبھی دواخانے یا مطب کا اشتہار نہیں دیا، لیکن لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے۔ ایک بار بتانے لگے ’’ایک معروف حکیم صاحب میرے دوست تھے۔ جن دنوں میں نے سلسلہ خواص کا آغاز کیا انہوں نے بھی کتاب لکھی۔ میں نے کنزالمجربات چھاپی تو اسی انداز کی کتاب انھوں نے بھی چھپوا لی، لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہوئی۔ انہوں نے تصنیف و تالیف چھوڑ کر ایک ہندو ریاست میں طبیہ کالج قائم کر لیا اور بعض بڑے لوگوں سے مل ملا کر کچھ جاگیر، آنریری مجسٹریٹ کا عہدہ اور شفاء الملک کا خطاب بھی لے لیا۔

’’باقی چیزوں کی تو مجھے چاہت نہ ہوئی مگر یہ خواہش ابھری کہ شفاء الملک کا خطاب تو مجھے ملنا چاہیے تھا تاہم کسی سے اس بات کا تذکرہ نہ کیا۔ چند روز بعد وائسرائے ہند اور شفاء الملک کی تصاویر اس انداز میں اخبارات میں شائع ہوئیں کہ وائسرائے بہادر بڑی شان بے نیازی سے کھڑے ہیں اور شفاء الملک صاحب نیاز مندی سے جھک کر مصافحہ کر رہے ہیں۔ بس اس تصویر نے مجھے چونکا دیا۔ میں خواب غفلت سے بیدار ہوا اور سوچا کہ جو خطاب اس قسم کی ذہنیت پیدا کر دے کہ مسلمان ہو کر خنزیر کھانے والوں اور تین خداؤں کو ماننے والوں کے سامنے جھکنا پڑے، اسے دور سے سلام۔

’’میں نے پھر اپنے خیال پر اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر معافی مانگی کہ انگریز سے خطاب لینے کا دل میں خیال ہی کیوں آیا۔ میری اس خواہش کا کسی کو علم نہیں تھا، خود ہی ایک کمزوری کے باعث ادھر مائل ہوا اور دستگیر حقیقی نے اس سے بچا بھی لیا۔

’’چند دن گزرے تھے ہمارے ایک عزیز حاجی شہاب الدین تشریف لائے اور کہنے لگے ’’مبارک ہو! میں ایک بہت بری خوشخبری لے کر آیا ہوں۔ میں نے عالم خواب میں دیکھا کہ مدینہ طیبہ میں مسجد نبویؐ میں آقائے نامدار سرور کائنات فخر دو جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف فرما ہیں اور اپنے کسی خادم سے فرما رہے ہیں کہ شفاء الملک حکیم محمد عبداللہ روڑی والوں کو بلاؤ۔‘‘

حکیم صاحب کہتے ہیں ’’یہ پیغام سن کر میری آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی کہ مجھ سیاہ کار کو میرے آقاؐ نے بلایا ہے۔ ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری توبہ قبول فرما لی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے میرے ہاتھ میں برکت اور شفا رکھ دی۔‘‘

حکیم محمد عبداللہ کو کتابوں سے بے پناہ عشق تھا۔ مطالعہ گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ بے پناہ مصروفیات کے باوجود مطالعہ میں کمی نہیں ہوئی۔ قرآن، حدیث، تاریخ، جغرافیہ، سائنس، طب و حکمت، سفرنامے، نعتیہ اشعار، شخصیات اور آپ بیتیوں سے خاص دلچسپی تھی۔ ہجرت کے موقع پر دس ہزار کتابوں پر مشتمل ایک کتب خانہ چھوڑ کر آنا پڑا۔ جو شخص ایک کتاب کی جدائی پر پریشان ہو جاتا ہو، اس کے لیے اتنی بڑی لائبریری چھوڑنا کتنا بڑا صدمہ ہو گا۔

غیر مطبوعہ خود نوشت ’’مراحل حیات‘‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں ’’مجھے کھانے پینے، آرام دہ سجے ہوئے مکان میں رہنے کا چنداں شوق نہیں البتہ جوع الکتب کا مریض ہوں۔ جس قسم کی کتب کا میں دلدادہ ہوں ممکن نہیں وہ چھپ کر آئیں اور میں نہ خریدوں۔ اس ضمن میں خواہ دیگر ضروریات کیوں نہ روکنی پڑیں، کتاب ضرور خریدتا ہوں۔ کتابوں کی خریدار پر جس قدر خرچ کرتا ہوں مجھے اس کا ذرہ بھر احساس نہیں۔ البتہ اگر اپنی ذات کے لیے ایک روپے کا پھل یا مٹھائی خرید لوں تو دل پر بار رہتا اور خیال آتا ہے کہ کیوں نہ کسی کتاب پر خرچ کر لیا۔ کپڑے پر خرچ کرنا تو اور بھی مشکل ہے۔ سابقہ وطن میں دس ہزار کتابیں لٹا کر آیا ہوں اب پھر چھ سات ہزار کتابیں اکٹھی کر لی ہیں۔

راست گوئی کی بہت تلقین کرتے تھے۔ ایک دن فرمانے لگے ’’جہاں تک یاد پڑتا ہے میں نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔‘‘ انہیں صرف سچ بولنے کی بدولت بے پناہ مالی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن خود جھوٹ بولنا تو درکنار، آپ کے لیے اگر کوئی دوسرا بھی جھوٹ بولنا چاہتا تو اسے منع کر دیتے۔ مہاجرین کی الاٹمنٹ کے موقع پر بڑے بڑے علما اور جبے قبے والے جعلی کلیم بھر کر لاکھوں کروڑوں کی جائیداد کے مالک بن بیٹھے۔ آپ چاہتے تو بہت کچھ کر سکتے تھے، کیونکہ الاٹمنٹ کرنے والا افسر آپ کا عقیدت مند تھا۔ لیکن رف سچ بولنے کے باعث آپ اپنا جائز حصہ بھی وصول نہ کر سکے۔

آپ کے والد محترم نے انتہائی سستے زمانے میں نو ہزار روپے میں ایک مکان بنوایا تھا، جس کی مالیت کلیم جمع کراتے وقت پچیس ہزار سے کم نہ ہو گی۔ سب نے بہت کوشش کی کہ اگر آپ زیادہ نہیں، تو موجودہ لاگت کا کلیم ہی داخل کر دیں، لیکن نہیں مانے۔ انہیں بتایا گیا کہ دس ہزار روپے سے کم مالیت کا دیہی کلیم تو منظور ہی نہیں ہو گا۔ فرمانے لگے ’’ہو یا نہ ہو، مگر میں غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتا۔‘‘ نتیجتاً کلیم رد ہو گیا۔

اسی طرح دارالاسلام سرسہ کے بارے میں کلیم کا معاملہ در پیش تھا۔ اگر وہ جگہ حدود کمیٹی میں دکھائی جاتی، تو وہاں کے کارخانے، دواخانے اور سامان وغیرہ کی قیمت بھی کلیم میں موصول ہو جاتی۔ لیکن آپ نے یہی لکھ دیا کہ وہ اس وقت حدود کمیٹی سے باہر تھی، ہمارے پاکستان آنے کے فوراً بعد حدود کمیٹی میں شامل ہو گئی۔ الاٹمنٹ افسر نے خود کہا، ایک صاحب نے اس علاقے کو حدود کمیٹی میں دکھا کر کلیم منظور کرا لیا ہے، آپ بھی کرا سکتے ہیں۔ کہنے لگے ’’میرا ضمیر نہیں مانتا کہ ایک عارضی دولت کی خاطر ہمیشہ کی زندگی خراب کر ڈالوں۔‘‘

۱۹۷۰ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے بے شمار کارکنوں کے ساتھ مجھے بھی گرفتار کر لیا گیا۔ الزام تھا کہ ہم نے وائس چانسلر کی رہائش گاہ پر توڑ پھوڑ کی ہے۔ فوجی عدالت کے سامنے برائے پیشی ہم پیپلز ہاؤس میں پولیس کے پہرے میں ہتھکڑیاں پہنے بیٹھے تھے۔ باہر بے شمار لوگ ہمیں ملنے کے لیے کھڑے تھے لیکن اندر آنے کی اجازت کسی کو مشکل ہی سے مل رہی تھی۔ جب میری گرفتاری کا علم ہوا، تو فوراً جہانیاں سے لاہور پہنچے اور بصد مشکل ہم سے ملنے کی اجازت حاصل کی۔ مجھے ہتھکڑیوں میں دیکھ کر پریشان ہوئے پھر فوراً کہنے لگے ’’بیٹا! خواہ کتنی ہی سخت سزا کیوں نہ ملے تم جھوٹ نہ بولنا۔‘‘

پہرے پر موجود سپاہی حیرت سے دیکھنے لگے کہ ایک بوڑھا باپ اپنے بیٹے کو اس وقت بھی جھوٹ بول کر جان بخشی کرنے کے بجائے سچ بولنے کی تلقین کر رہا ہے۔ اگلے روز جب پھر ملنے آئے تو سپاہی آگے بڑھے اور کہنے لگے ’’آپ کے ملنے پر کوئی پابندی نہیں، کیونکہ جو کچھ آپ کل فرما گئے تھے، اس سے ہم بے حد متاثر ہیں۔‘‘

سخاوت بھی گھٹی میں پڑی تھی۔ اللہ کے راستے میں خیرات کے لیے بہانے کی تلاش میں رہتے۔ کوئی خوشی پہنچی تو خیرات، کوئی نقصان ہوا تو خیرات، کوئی بچہ بیمار ہوا تو خیرات اور اگر صحت مند ہوا تو خیرات۔ غرض زندگی کے ہر پہلو میں خیرات کے لیے کوئی نہ کوئی صورت پیدا کر لیتے۔ بعض اوقات اندازہ ہو جاتا کہ سائل غیر مستحق ہے یا جھوٹے بہانے تراش رہا ہے، اس کے باوجود کچھ نہ کچھ ضرور دے دیتے۔

کئی بار ہم نے کہا بھی کہ ابا جان! وہ شخص جھوٹ بول رہا تھا۔ فرماتے ’’اگر اس نے جھوٹ بولا یا دھوکا دے رہا ہے تو اس کا گناہ اس کے ذمے، لیکن اگر مجھ سے قیامت کے روز یہ سوال ہوا کہ اس نے اللہ کے نام پر مانگا اور عبداللہ نے خالی ہاتھ لوٹا دیا تو میں کیا جواب دوں گا؟‘‘

ایک دن باتوں باتوں میں فرمانے لگے ’’پوری زندگی میں، میں نے کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔‘‘ اگر اپنی جیب خالی ہوتی، تو کسی عزیز سے پیسے لے کر سائل کو دے دیتے۔

۱۹۳۹ء یا ۱۹۴۰ء کا واقعہ ہے، مسجد چینیانوالی لاہور میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے آ کر کہا ’’مولانا سید محمد شریف عرصے سے صاحب فراش ہیں، کچھ عطا فرمائیے۔‘‘

اس وقت آپ کے پاس سو روپے تھے۔ خیال آیا بیس روپے دے دوں، باقی سفر خرچ کے لیے کافی ہوں گے، مگر دل ہی دل میں دوبارہ غور کر کے دس روپے پیش کر دیے۔ اسی روز گاڑی میں بیٹھ کر امرتسر روانہ ہوئے۔ راستے میں معلوم ہوا کہ جیب کٹ گئی ہے۔ دل کو بہت الجھن ہوئی اور اس بات کا احساس بھی کہ دس روپے بچانے سے یہ شامت آئی۔ اگر نیت کے مطابق بیس روپے ہی دے دیتا تو اول تو چوری نہ ہوتی اور اگر ہوتی تو نوے کی بجائے اسی روپے کی ہوتی۔

انہوں نے پھر اپنے رفقائے سفر مولانا عبداللطیف اور حکیم حافظ ثناء اللہ سے کہا ’’میرے گھر میں سات روپے موجود ہیں، تم گواہ رہنا کہ میں وہ تمام رقم اور تین سو روپے مزید راہ خدا میں وقف کرتا ہوں۔ کسی چور اور جیب کترے کی مجال نہیں کہ ان میں سے ایک پیسہ بھی ضائع کر سکے۔‘‘ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ کسی رفاہی کام کے لیے جتنا چندہ مسجد کے تمام نمازی دیتے، اتنی رقم تنہا عطا فرماتے حالانکہ ان میں بڑے بڑے روسا بھی موجود ہوتے تھے۔

آپ کے پہلے اور دوسرے حج میں چھتیس سال کا طویل عرصہ حائل ہے۔ وجہ یہ تھی کہ حج کے درخواست فارم میں یہ سوال درج تھا کہ پہلے حج کیا ہوا ہے یا نہیں؟ اس زمانے میں حاجیوں کو دوسری بار جانے کی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے کئی افراد کو دیکھا کہ حج کرنے کے باوجود انہوں نے حج کے شوق میں متعلقہ فارم پر جھوٹ بول کر ’’نہیں‘‘ لکھ دیا۔ بعض افراد نے حکیم صاحب کو بھی یہی مشورہ دیا۔ وہ کہنے لگے ’’جس حج کی بنیاد ہی جھوٹ پر قائم ہو وہ کیسے خدا کی رضا مندی کا سبب بن سکتا ہے؟ اگر پہلے حج کو میں خود ’’نہ‘‘ کر دوں، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کہے گا، جس حج کو تو نے خود مسترد کر دیا، اس کا اجر مجھ سے کیوں مانگتا ہے؟ لہٰذا جب تک قانون تبدیل نہیں ہوتا اس وقت تک حج کے انتظار میں ہجر کی گھڑیاں گزارنا اور دعا کرنا بہتر ہے۔‘‘ آخر قانون بدلا اور ۱۹۷۲ء میں آپ کو دوبارہ حاضری کی سعادت میسر آئی۔

انہی دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو حکیم صاحب ہی کے لیے نہیں پاکستان کے لیے بھی بہت بڑا عزاز تھا۔ سعودی حکومت کے ایک وزیر، امین عقیل عطاس نے حکیم صاحب سے درخواست کی کہ ان کی خوش دامن بیمار ہیں، آپ انہیں دیکھ لیجئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ’’میرے خسر (امین شیبی) اس خاندان میں سے ہیں جسے سرور کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے خانہ کعبہ کی چابی دی تھی اور اب وہ کلید بردار کعبہ ہیں۔‘‘

حکیم صاحب نے جا کر بیمار خاتون کی نبض دیکھی اور مریض کی تشخیص کی، تو وہ خوشی سے کہنے لگیں ’’آپ دوسرے آدمی ہیں جنہوں نے میری بیماری بوجھی ہے۔ آج سے تقریباً پچاس سے پہلے حکیم اجمل خاں نے بھی یہی تشخیص کی تھی۔‘‘

یہ کہہ کر وہ کھر کے اندرگئیں، ایک تھیلی حکیم صاحب کو پکڑا دی اور بتایا کہ یہ وہ کلید کعبہ ہے جو پشت در پشت ہمارے خاندان میں چلی آ رہی ہے۔ حکیم صاحب کہتے ہیں ’’میں نے وہ چابی دیکھی تو میری آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہو گئیں۔ دل پر شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی کہ وہ چابی جسے رسول پاکؐ کے مبارک ہاتھوں نے چھوا ہے، وہ مجھ جیسے سیاہ کار کو دیکھنا نصیب ہوئی۔‘‘ وہ دیر تک اسے ہاتھوں میں پکڑ کر روتے اور ملک و قوم کے لیے دعائیں کرتے رہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے زخم تازہ تھے، پاکستان خطرات سے گھرا ہوا تھا، انفرادی کے بجائے اجتماعی دعا مانگی اور کہا ’’خدایا! پاکستان کو سلامت رکھ، دشمنوں کے شر سے بچا اور اسے اسلام کا قلعہ بنا۔‘‘

امین عقیل عطاس نے حکیم صاحب سے درخواست کی کہ انہیں بھی اس کی زیارت کا شرف حاصل کرنے دیجئے۔ آپ نے انہیں حیرت سے دیکھا اور کہا، تم بیس پچیس سال سے اس گھر کے داماد ہو، پھر بھی اس کی زیارت نہیں کر سکے؟ وہ کہنے لگے ’’واللہ! آپ کے طفیل یہ سعادت نصیب ہو گئی ورنہ یہ اتنی حفاظت سے رکھتے ہیں کہ دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

حج سے واپس آئے تو رجوع الی اللہ بڑھ گیا۔ اکثر وقت مکے اور مدینے کے تذکرے میں گزرتا۔ محسوس ہوتا تھا جیسے جسم واپس آ گیا اور روح وہیں ہے۔ احباب کی محفلوں میں ہر ایک سے خدا اور محبوب خدا کی باتیں ہوتی رہتیں۔ مدینے کا ذکر ہوتا تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے۔ دنیا میں رہتے، دنیا کے سارے کام کرتے، مریضوں کو دیکھتے، مہمانوں سے ملتے، تصنیف و تالیف کا کام کرتے لیکن یوں لگتا کچھ کھوئے کھوئے سے ہیں، جیسے کوئی چیز گم ہو گئی اور اس کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

۲ دسمبر ۱۹۷۴ء کو میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ لاہور سے جہانیاں پہنچ گیا۔ مجھے دیکھ کر بڑے خوش ہوئے۔ شام کو ان کے ساتھ مطب گیا تو وہاں ان کے کئی دیرینہ دوست بیٹھے تھے۔ ان میں خواجہ محمد طفیل ریٹائرڈ ایس پی (اس وقت بہاول نگر کے ڈیس ایس پی) حکیم حنیف اللہ صاحب (سلیمی دواخانہ ملتان) اور مہر رفیق ہراج (رکن صوبائی اسمبلی کبیر والا) شامل تھے۔ دوران گفتگو ملک کی حالت اور حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ کے چند واقعات سنے تو پریشان ہو کر کہنے لگے ’’خواجہ صاحب! ان حالات میں تو زندہ رہنے کو دل نہیں چاہتا۔‘‘

خواجہ صاحب نے کہا ’’ان حالات ہی میں تو آپ لوگوں کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

کہنے لگے ’’نہیں اب دنیا میں جی نہیں لگتا، جہاں اتنا ظلم ہو کہ، ایک آدمی، کی حفاظت کے لیے ہزاروں سفید کپڑوں میں ملبوس پولیس کی ضرورت ہو اور دوسری طرف خلق خدا بھوکی مر رہی ہے۔‘‘ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ اتنے میں چائے آ گئی۔ کہنے لگے ’’کام و دہن کی مہمانی کے ساتھ ساتھ روح کی مہمانی بھی کر دوں۔ آپ لوگ چائے پئیں، میں اس دوران آپ کو ایک نظم سناتا ہوں جو آج صبح پانچ بجے کہی ہے۔ اس کا آخری شعر یہ تھا   ؎

میں حاضر ہوں مرے مالک

میں حاضر ہوں میرے خالق

کہ جب بھی میرے لینے کو تیرا پیام آیا

خواجہ طفیل صاحب نے کہا ’’حکیم صاحب، معلوم ہوتا ہے، آپ تو جانے کے لیے رخت سفر باندھے تیار بیٹھے ہیں۔‘‘

فرمانے لگے ’’میں حاضر ہوں، چاہے وہ ابھی بلا لے۔‘‘

اس کے بعد اپنی لکھی ہوئی ایک دوسری نعت سنانے لگے۔ ایسی کیفیت طاری ہوئی جیسے عشق رسولؐ میں ڈوب گئے ہوں۔ آواز میں بڑا سوز تھا، حلاوت تھی، سننے والوں کے دل بھی پگھلے جا رہے تھے۔ نعت پڑھتے پڑھتے جب اس شعر پر پہنچے    ؎

تم ہو ہمارے، ہم ہیں تمہارے

جس کے تم ہوئے، وارے نیارے

کہ دو زبان سے ہم تم، تم ہم

صلی اللہ علیہ و سلم

تو ایک لحظہ کے لیے خاموش ہوئے۔ پھر بڑے سکون کے ساتھ انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر خالق حقیقی کی آغوش میں چلے گئے۔ نہ کوئی بیماری، نہ تکلف، معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس دعا کو شرف قبولیت بخش دیا جس میں آپ نے کہا تھا    ؎

مرا اس طرح سے حساب ہو

میرے لب پہ نعت جنابؐ ہو

حدیث نبویؐ ہے، جو شخص جس حالت میں فوت ہوا، قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ جس طرح آپ نے اپنی پوری زندگی سنت کے مطابق گزاری، اسی طرح اللہ رب العزت نے موت بھی سنت کے مطابق دی۔ پیر کا دن تھا اور عصر کی نماز زندگی کی آخری نماز ثابت ہوئی۔ مغرب کی اذان زندگی کا آفتاب غروب ہونے کا پیام لے کر آئی۔ موذن پکار رہا تھا ’’اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘ اور آپ ’’لبیک لبیک‘‘ کہتے ہوئے کشاں کشاں اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔

 

(حکیم عبد الوحید سلیمانی قومی ڈائجسٹ دسمبر۱۹۸۲ء)

Last Updated : Dec 22, 2012