اٹھراہ کا تیر بہدف نسخہ

 

۱۹۵۶ء کی بات ہے، میں این اے سی ہائی سکول، جہانیاں کی چھٹی جماعت میں داخل ہوا۔ ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ مجھے ہیڈ ماسٹر نے اپنے دفتر میں طلب کیا۔ وہ نہم اور دہم جماعت کو پڑھاتے تھے مگر حال ہی میں چھٹی کو بھی انگریزی پڑھانے لگے تھے۔ میں ڈرتے ڈرتے ہیڈ ماسٹر کے دفتر میں داخل ہوا، وہ کمرے میں موجود نہیں تھے۔ میں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور دفتر میں لگے تختے اور نقشے پڑھنے لگا۔

دو تختوں پر رول آف آنرز درج تھے : ایک پر مڈل اور دوسرے پر میٹرک میں اول آنے والے طلبہ کے نام درج تھے۔ سب سے اوپر مڈل میں اول آنے والے کا نام عبدالجبار درج تھا اور میٹرک میں محمد علی۔ بعد میں یہی دونوں حضرات بالترتیب پرائمری سکول اور ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بنے۔

عبدالجبار ہمارے قریبی عزیز تھے جو ماسٹر عبدالجبار کے نام سے معروف ہوئے۔ چھوٹا قد، مناسب جسم اور مطالعے کے بے حد شوقین۔ ان کے بارے میں یہ بات ہر شخص جانتا تھا کہ ان کے بچے زندہ نہیں بچتے۔ ہر آدمی ان کے لیے دعا گو رہتا اور اظہارِ افسوس بھی کرتا۔ مجھے یاد ہے، ایک دفعہ والد گرامی نے کہا تھا کہ عبدالجبار کی بیوی کو اٹھراہ کا مرض لاحق ہے۔

اب جو میں اس مرض کے بارے میں لکھنے لگا تو خیال آیا کہ بچپن کی یادیں کریدنے کے بجائے کیوں نہ ماسٹر صاحب سے براہ راست رابطہ کیا جائے۔ ماسٹر صاحب الحمدللہ حیات اور صحت مند ہیں۔ چلتے پھرتے اور عصر حاضر کے امراض مثلاً ذیابیطس، بلند فشار خون، امراض قلب وغیرہ سے بچے ہوئے ہیں۔ عمر ۷۳ سال ہے۔ میرے استفسار کے جواب میں انہوں نے لکھا :

’’میری شادی بچپن ہی میں بعمر بارہ سال روشن بی بی سے ہوئی۔ والد بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے، اس لیے والدہ مرحومہ نے فرض ادا کرنے میں کچھ زیادہ ہی عجلت دکھائی۔ ویسے بھی اس زمانے میں بچپن کا نکاح معیوب تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ میرا نکاح ۱۹۴۵ء میں ہوا لیکن رخصتی پاکستان آ کر ۱۹۵۲ء کے اوائل میں ہوئی۔

’’۱۹۵۳ء کے وسط میں اللہ تعالیٰ نے بیٹی عطا کی۔ تب بیوی کو اٹھراہ کی شکایت نہیں تھی۔ جب بچی کی عمر تین سال تھی اور میں ملتان میں پڑھا رہا تھا کہ مجھے اطلاع ملی، بیٹی وفات پا گئی ہے۔ اس کے بعد روشن بی بی کو اٹھراہ کا جان لیوا مرض چمٹ گیا۔ بچے آٹھویں ماہ پیدا ہو کر چند گھنٹوں بعد فوت ہوتے رہے۔

پیدائش کے وقت بچہ دیکھنے میں بھلا چنگا ہوتا، لیکن گھنٹے دو گھنٹے بعد چیخنا شروع کر دیتا۔ جسم پر سرخ اور نیلے داغ پڑ جاتے اور تشنج کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ کچھ عرصے بعد چہ راہی ملک عدم ہو جاتا۔ اس طرح میرے سات لڑکے اور دس لڑکیاں وفات پا گئیں۔ آپ کے والد، حکیم محمد عبداللہ، حکیم عبدالرحیم اشرف (فیصل آباد) اور گوجرانوالہ کے ایک معروف قادیانی حکیم، جان محمد جو اٹھراہ کے علاج کے لیے مشہور تھے، ان سب سے علاج کروایا۔ بزرگوں سے تعویذ بھی لیے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔

’’ایلوپیتھ ڈاکٹروں نے بتایا کہ میاں بیوی کے خون کے متضاد گروہ ہونے سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے۔ کئی بچوں کی وفات کے بعد روشن بی بی کی صحت کو بھی گھن لگ گیا اور وہ ۱۹۸۲ء میں وفات پا گئی۔ میں نے ۱۹۸۳ء کے آخر میں دوسری شادی کر لی۔ دوسری بیوی کے بطن سے ایک بیٹا اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں اور الحمدللہ وہ سب حیات ہیں۔‘‘

اٹھراہ عورتوں کا ایک مشہور مرض ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ طب کی قدیم کتابوں میں اس کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔ میں نے طب اکبر، شرح اسباب، ذخیرہ خوارزم شاہی وغیرہ بے شمار کتب دیکھیں، عورتوں کی دیگر امراض کا ذکر تو ان میں ہے مگر اٹھراہ یا اس سے ملتی جلتی بیماری کا کہیں ذکر نہیں۔ ایلوپیتھی کی جدید ترین کتب کو دیکھا بھالا مگر ان میں بھی تذکرہ نہیں ملا۔جیسے یہ مرض عام ہے ویسے ہی اطباء اس کے ذکر سے خاموش ہیں۔

یہ سخت نامراد مرض ہے جس کی وجہ سے عورتوں کے بچے دوران حمل یا پیدائش کے کچھ عرصے بعد ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس مرض میں عورتوں کو حمل ٹھہرتے ہی جلد اسقاط ہو جاتا ہے یا مردہ بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر بچہ زندہ پیدا ہو، تو طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہو کر آخر چل بستا ہے مثلاً سوکھے کی حالت میں، ام الصبیان (بچوں کی مرگی)، فساد خون یا سرخبادہ وغیرہ۔

اس بیماری میں بعض عورتوں کے رحم میں ایسی خرابی جنم لیتی ہے کہ آٹھویں ماہ حمل گر پڑتا ہے اور بچہ مرا ہوا پیدا ہوتا ہے۔ حمل کے ساتویں ماہ پیدا ہونے والا بچہ زندہ تو رہتا ہے لیکن طبعاً کمزور ہوتا ہے مگر آٹھویں ماہ والے کے بچنے کے آثار بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر بچہ پوری مدت کے بعد پیدا ہو، تو بھی پیدائش کے آٹھویں دن، آٹھویں ہفتے، آٹھویں ماہ یا آٹھویں سال فوت ہو جاتا ہے۔

یہ بیماری اسقاط حمل کی طرح عورتوں کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔ توہم پرستوں کا خیال ہے کہ جس عورت کا بچہ اس مرض سے بچ جائے، اگر اس کا سایہ دوسری عورت پر پڑے، تو اسے بھی یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔ یہ بات خلافِ حقیقت ہے۔ دراصل اس بیماری کی اصل وجہ مرد کے مادہ کا کمزور ہونا ہے۔ اس وجہ سے حمل گر جاتا ہے۔ بالفرض نہ بھی گرے، تو بچہ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ زندہ نہیں رہ پاتا۔

یہ مرض جنم لینے کے اہم اسباب میں سؤ مزاج رحم، ضعف رحم، رقت اور قلتِ خون، عام جسمانی کمزوری یا دماغی خرابی، مرگی، جنون، مالیخولیا یا فساد خون کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض شامل ہیں۔ خون کی قلت، رقت یا عام کمزوری کی وجہ سے چہرہ زردی مائل یا بالکل سفید ہو جاتا ہے۔ بعض عورتوں کی پسلی کے نیچے ہلکا سا درد ہوتا ہے چاہے حمل ہو یا نہ ہو۔ ایسی خواتین کا تو حمل گر جاتا ہے یا خاص عمر میں پہنچ کر اولاد فوت ہو جاتی ہے یا پیٹ کے اندر بچہ سوکھ جاتا ہے۔

’’مخزن حکمت کے مصنف حکیم اور ڈاکٹر غلام جیلانی لکھتے ہیں ’’بعض عورتوں کے گھر اولاد نہیں ہوتی اور کچھ کے ہاں جنم لے کر فوت ہو جاتی ہے اور عمر طبعی کو نہیں پہنچتی۔ بعض کے لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور نرینہ اولاد جنم نہیں لیتی۔ اس حالت کو اٹھراہ کہتے ہیں۔

علاج یہ ہے کہ دوران حمل مصفی خون اشیاء کا استعمال بہ کثرت کیا جائے، اس سے بچہ تندرست پیدا ہوتا ہے، لیکن بچے کی پیدائش کے بعد قلیل مقدار میں وہی دوا بچے کو بھی کھلانی چاہیے۔ بعض اوقات سوزاک یا آتشک کے زہریلے مادے اٹھراہ کا سبب ہوتے ہیں، تب ان کا علاج کرنا چاہیے۔

اٹھراہ کا شروع میں تو علم ہی نہیں ہوتا، جب دو تین بچے مر جائیں تب پتا چلتا ہے کہ اس کا سبب کیا ہے۔ جدید سائنس اور ڈاکٹروں کے پا س اس کا علاج نہیں کیونکہ کوئی ڈاکٹر اس مرض کے جراثیم تلاش نہیں کر سکا۔

حکیم انقلاب دوست، محمد صابر ملتانی کی رائے یہ ہے کہ اٹھراہ کا مرض ان خاندانوں میں پایا جاتا ہے جن میں کسی نہ کسی شکل میں سوزاک کا اثر ہو۔ یہ اثر باپ کی طرف سے اولاد میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم پہلے بیوی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے میاں بیوی کو اول تو اولاد ہی پیدا نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو زندہ نہیں رہتی۔ اگر انتہائی جدوجہد سے بچ جائے، تو اس کی آئندہ نسلوں میں اٹھراہ کا مرض ضرور جنم لیتا ہے۔ یہ بات نہایت اہم ہے کہ عورتوں میں یہ خرابی مردوں کی طرف سے آتی ہے، اس لیے لازم ہے کہ مردوں کا بھی علاج کرایا جائے۔

اٹھراہ میں مبتلا عورتوں کا جب معائنہ کیا گیا تو ان میں درج ذیل علامات پائی گئیں:

پیشاب کے دوران جلن، ہاتھ پاؤں یا بغلوں میں جلن اور وہاں زخم ہونے کا احساس، شدید قسم کی قبض یا خشکی، یوں محسوس ہو کہ رحم کے گرد کسی نے کس کر پٹی باندھ دی، چہرے پر دانے، خارش یا پھوڑے پھنسی، گلے میں زخم، مستقل نزلہ رہنا، آنکھوں میں جلن، باؤ گولہ، اختناق الرحم، طبیعت میں چڑچڑاہٹ، غصہ کسی کی بات برداشت نہ کرنا اور گھر کے ہر فرد سے ناراضی کی کیفیت۔

ایسی خواتین کے بچے ہو بھی جائیں، تو سوکھے سڑے اور خلقی طور پر بیمار ہوتے ہیں۔ جسم پر دانے، زخم یا پھنسیاں اور ہاتھ پائوں ٹیڑھے میڑھے۔ بعض بچوں میں پیدائشی طور پر سوزاک کی علامتیں موجود ہوتی ہیں۔ بعض عورتوں کے اندھے بچے پیدا ہوئے اور بعض کے آٹھ دن، آٹھ ہفتے یا آٹھ ماہ میں اندھے ہو گئے۔ ضروری نہیں کہ اٹھراہ کی تمام مریضاؤں میں سبھی درج بالا علامتیں موجود ہوں، کسی میں ایک، کسی میں دو اور کسی میں زیادہ علامتیں بھی پائی گئی ہیں۔

والد گرامی، استاذ الحکماء حکیم محمد عبداللہؒ نے اپنی کتاب کنزالمجربات میں اٹھراہ کا ذکر بھی کیا ہے۔ وہ بیان فرماتے ہیں :

’’آج سے پچیس سال پیشتر برادر عزیز مولانا حکیم محمد عبدالرحیم اشرف (مالک اشرف لیبارٹریز، فیصل آباد) نے مجھے ریل میں دورانِ سفر کاغذ کی ایک پڑیا کھول کر دکھائی جس میں نہایت لطیف قسم کے سنہرے باریک باریک ریشمی ریشے نظر آئے۔ ان کا وزن بمشکل ایک رتی ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مرض اٹھراہ کی اکسیر دوا ہے جس کی ایک چاول کے لگ بھگ خوراک دینے سے بفضلہ تعالیٰ بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی نسخے کو اخفا میں رکھنے کی تاکید کی۔

’’بعد ازاں انہوں نے اس سنہرے ریشے کے راز کا انکشاف کیا جسے میں نے اپنی حد تک محفوظ کر لیا۔ مگر ابھی اس کی تیاری کی نوبت نہیں آئی تھی کہ مولانا حکیم حافظ ثناء اللہ (ثنائی دواخانہ، آسٹریلیا چوک، لاہور) سے اس کا ذکر کر بیٹھا اور ذکر بھی صرف اتنا کہ اشرف صاحب نے مجھے یہ نسخہ عطا کیا ہے۔ حافظ صاحب میرے انتہائی عزیز دوست ہیں جن سے مجھے بھائیوں کی طرح محبت ہے۔ انہوں نے یہ بات حکیم اشرف کے کانوں تک پہنچائی، تو موصوف نے مجھے شکایتی خط لکھا۔

’’اس خط کے باعث مجھے اس قدر شرمندگی ہوئی کہ میں نے اپنی صفائی دینا پسند نہ کی اور فیصلہ کر لیا کہ میں اس نسخے کو خود بنا کر فائدہ نہیں اٹھاؤں گا بلکہ اپنے مریضوں کو بھی حکیم اشرف سے منگوا کر دوں گا۔ ان دنوں حکیم صاحب یہ دوا کیپسول میں بند کر کے دیتے تھے اور فی کیپسول پچیس روپے لیا کرتے۔ میں نے اس عرصے میں بے شمار مریضوں کو دوائی دی اور تقریباً ہر جگہ کامیابی نصیب ہوئی سوائے ایک آدھ جگہ کے۔‘‘

حکیم اشرف نے بعد میں نامعلوم وجہ سے نسخہ بدل دیا۔ بدلنے سے اس میں پہلا سا اثر باقی نہ رہا، لیکن اب والد صاحب بھی وفات پا چکے ہیں اور حکیم اشرف صاحب بھی۔ اب یہ نسخہ میرے برادرِ اکبر، حکیم عبدالحمید سلیمانی کے بیٹے خالد حمید سلیمانی تیار کرتے ہیں۔ خالد نے ایم فارمیسی کر رکھا ہے۔ وہ جدید دوا سازی کا فن بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس دوا کا نام انہوں نے حب اٹھرا، رکھا ہے۔ میں نے اس دوا کو بلا مبالغہ ہزاروں مریضوں پر آزمایا، الحمدللہ کامیاب ثابت ہوئی۔ اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں پڑھے لکھے بھی ہیں اور ان پڑھ بھی۔ شہری بھی ہیں اور دیہاتی بھی۔ ہر جگہ اس نے معجزہ نما اثر دکھایا۔

گزشتہ سال ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کی بہو بھی اس علاج سے فیض یاب ہوئیں۔ میں نے اکتوبر ۲۰۰۳ء کے اردو ڈائجسٹ میں خون کے سرطان میں مبتلا ایک مریضہ کا ذکر کیا تھا۔ اس مریضہ کو نہ صرف سرطان سے چھٹکارا حاصل ہوا بلکہ اٹھراہ سے بھی نجات مل گئی۔ اس مریضہ کو  میں نے دونوں امراض کے لیے حب اٹھراہ ہی دی تھی۔ اس دوا کا  نسخہ اور ترکیب استعمال درج ذیل ہے، فائدہ اٹھائیں :

نوجوان مادہ بھینس کا پتہ لے کر اس میں ۱۲ گرام مگھاں (فلفل دراز) اور ۱۲ گرام کچور کا موٹا موٹا سفوف کر کے اس میں ۱۲ گرام براہ فولاد جوہر دار ملا لیں اور پتے میں ڈال دیں۔ اب اس کا منہ دھاگے سے باندھ کر اونچی جگہ لٹکا  دیں  اور تقریباً  ایک  ماہ لٹکائے رکھیں  تاکہ تمام پانی ادویات میں جذب ہو جائے۔ پھر تمام ادویہ بالکل باریک پیس کر خشک کر لیں اور اس کا وزن کر کے دوا کی مجموعی مقدار سے آٹھ گنا زیادہ خشک دھمانسہ ملائیں اور اچھی طرح کھرل اور شہد آمیز کر کے چنے سے ذرا بڑی گولیاں بنا لیں۔

اٹھراہ کی مریضہ کو  جب حمل کا یقین ہو جائے، تو وہ ایک گولی روزانہ ناشتے کے ایک گھنٹے بعد تازہ پانی کے ساتھ لے اور وضع حمل تک مسلسل لیتی رہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد چوتھائی گولی ماں کے دودھ میں حل کر کے چھ ماہ تک بچے کو بھی استعمال کرائیں۔ ان شاء اللہ بچہ صحت مند رہے گا۔ اس ضمن میں دو باتیں یاد رکھنے کے قابل ہیں :

 

’’دھمانہ بوٹی ایسے وقت اکھاڑیں جب اس پر پھل لگ کر پکنے کے قریب ہو، لیکن پوری طرح سے پختہ نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ گولی چنے سے ذرا بڑی رکھیں تاکہ سوکھنے پر چنے کے برابر رہ جائے۔ یہ نسخہ میں الحمدللہ ہزاروں مریضوں پر آزما چکا ہوں اور ملک کے بڑے بڑے حکماء  اس کے فوائد کے معترف ہیں۔

 

 

 

(حکیم عبد الوحید سلیمانی اردو ڈائجسٹ مئی ۲۰۰۶ء)

Last Updated : Dec 22, 2012