جل کھڈ سے دودی پت سر تک

 

لاہور سے ۵ اگست کی شب ہم بالا کوٹ کے لیے روانہ ہوئے اور اگلی صبح وہاں پہنچ گئے۔ کبھی یہ سفر قسطوں میں طے ہوتا تھا یعنی لاہور سے راولپنڈی، راولپنڈی سے مانسہرہ اور وہاں سے بذریعہ بٹراسی بالاکوٹ … پورے ۲۴ گھنٹے اس سفر کی نذر ہو جاتے۔ اللہ کا شکر ہے۔ کہ موٹروے اور کچھ تیز رفتار بسوں نے یہ سفر آٹھ گھنٹے میں طے کروا دیا۔

بالاکوٹ کی شہرت سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کے باعث ہے۔ ان کی تحریک نے یہیں زور پکڑا، یہیں وہ جلیل القدر ہستیاں شہید ہوئیں اور ان کے مزار بھی یہیں ہیں۔

بر مزارِ ما غریباں نے چراغ نے گلے والا منظر ہے۔ سید احمد شہیدؒ شہیدوں کے قبرستان میں دفن ہیں۔ ان کے ساتھ دیگر شہداء کی قبریں ہیں۔ امیر المجاہدین مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی بھی یہیں مدفون ہیں۔ چند سال پہلے وہاں گیا، تو مولانا کی قبر پانی میں ڈوبی ہوئی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب یہ صورت حال نہیں۔ شاہ اسماعیل شہید کی قبر وہاں سے ۲ کلومیٹر دور ہے۔ ایوب خاں کے دور میں مزار کے ارد گرد صرف چار دیواری تھی، اب کچ اور قبروں کا اضافہ ہو گیا اور چھت تعمیر کر دی گئی ہے۔

بالا کوٹ بلند جگہ پر واقعہ ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں ’’بلند قلعہ‘‘ ہیں۔ یہ وادی کاغان کا دروازہ ہے۔ شاہراہ ریشم کی تعمیر سے پہلے لوگ اسی راستے سے گلگت اور کشمیر جاتے تھے۔ اس سڑک کی دوبارہ تعمیر حکومت کے پیش نظر ہے اور کام مکمل ہو چکا ہے۔

وادئ کاغان کا اکثر علاقہ ہم نے پہلے سے دیکھ رکھا ہے۔ کوائی، شوگران، سری پائے، مکڑا، بٹ گراں، پپرنگ، مانا منڈول، پارس، جھیل سیف الملوک، ناران، لالہ زار وغیرہ ہم بار بار دیکھ چکے تھے، اس لیے اب منصوبہ بنا کر جل کھڈ جا کر قیام کیا جائے۔

چھ اگست کا دن ہم نے بالا کوٹ میں گزارا، یہاں دو ساتھی ہمارے ساتھ جانے کے لیے تیار تھے۔ ذاکر صاحب ہمارے ساتھ روانہ ہوئے، خالد صاحب کئی دن سے جل کھڈ میں مقیم ہمارے منتظر تھے۔ ہمیں مغرب تک وہاں پہنچنا تھا۔ لیکن کچھ چلنے میں تاخیر، کچھ راستے میں مریضوں کے ہجوم اور گاڑی کی خرابی کی وجہ سے رات دس بجے پہنچے۔

تین سال کے دوران جل کھڈ کا یہ میرا تیسرا چکر تھا۔ پہلی دفعہ وہاں گیا، تو ایک ہی ہوٹل تھا۔ کچی سڑک کے ایک کنارے ہوٹل اور دوسری طرف ٹیڑھے میڑھے پتھروں سے ایک ریستوران بنا ہوا تھا۔ کرسی میز نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ چولہے میں لکڑیاں جلتی تھیں۔ کالک سے چھت اور دیواریں سیاہ ہو چکی تھی۔ اس ہال نما کمرے میں ۱۰ ×۲۵ فٹ کا ایک تخت پوش بچھا ہوا تھا جس پر لوگ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ زیادہ تر مٹر آلو پکتے اور کبھی کبھار انڈے بھی مل جاتے۔ روٹی دبلی پتلی اور بڑی جسامت کی ہوتی۔

کچی سڑک کی دوسری طرف دریا ہے۔ اس کے کنارے تین خیمے لگے ہوئے تھے جن میں تین سے پانچ آدمی ٹھہر سکتے تھے۔ یہی وہاں کا واحد ہوٹل تھا … پنج ستارہ ہوٹل۔ فی کس کرایہ بیس روپے جو اس سال بھی اتنا ہی تھا۔ بستر اور چارپائیاں موجود تھیں۔ شدید سردی کی وجہ سے کمبلوں کی بجائے موٹی رضائیاں دی گئیں۔ میں نے ہوٹل کے مالک، غلام ربانی سے پوچھا کہ کبھی تین خیموں سے زیادہ لوگ آ جائیں تو انہیں کہاں ٹھہراتے ہو؟

وہ کہنے لگا ’’اس سے زیادہ آدمی کبھی نہیں آتے، جس دن یہ تینوں بھر جائیں، ہم بہت خوش ہوتے ہیں۔‘‘

خیموں کے نزدیک ہی ایک چھوٹی سی مسجد بنی ہوئی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ ۲۵ آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ بیک وقت دس بارہ سے زیادہ لوگ مسجد میں کبھی نہیں آئے۔ مسجد سادگی کا مرقع ہے اور نماز پڑھتے ہوئے واقعی دل اللہ کی طرف کھنچتا ہے۔

ہوٹل سے کچھ فاصلے پر ایک بہت بڑا کھڈ نظر آیا جس کا قطر تقریباً ایک فرلانگ تھا۔ پتا چلا کہ مدت پہلے کوئی شہابِ ثابت گرا تھا جس سے وہ گہرا گڑھا پڑ گیا۔ شاید اسی وجہ سے اس جگہ کا نام ’’جل کھڈ‘‘ پڑا۔ کاغان کے بارے میں لکھی گئی کتب میں جل کھڈ کا نام بہت استعمال ہوا ہے۔ بالاکوٹ سے اس کا فصلہ تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر ہے۔ پہلے سڑک صرف ناران تک تھی جس کا فاصلہ ڈھائی تین گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے، باقی فاصلہ سات گھنٹے میں طے ہوتا۔ اب پٹہ کنڈی اور بوڑا وئی ایک سڑک بن گئی ہے، اس لیے تین چار گھنٹے لگتے ہیں۔ ان شاء اللہ جلد جل کھڈ تک سڑک مکمل ہو جائے گی، یوں یہ فاصلہ بھی پانچ گھنٹے میں طے ہونے لگے گا۔

صبح نماز کے بعد میں سیر کرنے نکل گیا۔ ایک جگہ دیکھا کہ بکروں کا ریوڑ چلا آ رہا ہے۔ تین چار گدھوں پر لوگ بیٹھے انہیں ہانک رہے تھے۔ ایک مقامی آدمی نے بارہ تیرہ سیر گوشت والے ایک بکرے کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ اس کی کیا قیمت ہے؟ میں قیمت سن کر حیران رہ گیا۔ اس نے کہا ’’تین سو روپے۔‘‘ لیکن سودا نہ ہو سکا کیونکہ گاہک دو سو روپے سے آگے بڑھنے کو تیار نہ تھا۔

گزشتہ سال ہم جل کھڈ پہنچے تو ستمبر کا مہینہ تھا۔ جل کھڈ سے ایک کلومیٹر آگے فوجی چھاؤنی کے قریب بھنگرہ سیاہ کے دو پودے نظر آئے۔ یہ بالوں کو جڑ تک سیاہ کرنے والی بوٹی ہے۔ میں گزشتہ تین برس سے اس کی تلاش میں تھا۔ پاکستان، بھارت اور جنوبی افریقہ میں اسے تلاش کیا مگر نہ ملی۔ اچانک اسے پا کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ مگر اس دفعہ تلاش بسیار کے باوجود مجھے بھنگرہ سیاہ نہ مل سکی۔ شاید یہ ستمبر ہی میں پیدا ہوتی ہے۔ اس سال غلام ربانی کے ہوٹل سے کچھ فاصلے پر ایک اور ہوٹل بن گیا تھا۔ دوسرے غلام ربانی نے خیموں کی جگہ تین کمرے تیار کر لیے تھے جن کا کرایہ وہی ہے۔ گمان غالب ہے کہ مستقبل قریب میں جل کھڈ آپ کو نیا ’’مری‘‘ نظر آئے گا۔ جب میں پہلی دفعہ کالام گیا، تو وہاں تین ہوٹل تھے، اب تین سو سے زائد ہیں۔

ہم ’’جلد کھڈ ریستوران میں بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ چاروں طرف دھواں ہی دھواں تھا۔ ایک صاحب گویا ہوئے ’’میں بالا کوٹ میں رہتا ہوں۔ مثانے کے سرطان کا مریض ہوں۔ ایک آپریشن بھی کروا چکا ہوں مگر فائدہ نہیں ہوا۔ گرمیوں کے موسم میں بالا کوٹ سے نکل کر جل کھڈ آ جاتا اور خیمہ لگا کر رہتا ہوں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہاں مجھے سرکان کی کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی، آپ وجہ بتا سکتے ہیں؟‘‘

میں نے اس سے پوچھا کہ ہوٹل میں جو لکڑی جلائی جاتی ہے، آپ اس سے واقف ہیں؟ اس نے کہا ’’کیوں نہیں، ہم اسے چھلئی کہتے ہیں اور یہاں اسی درخت کی لکڑی جلانے میں استعمال ہوتی ہے۔‘‘

میں نے انہیں کہا ’’دیکھو بھئی! تم چھلئی کے دھوئیں میں بیٹھتے، چھلئی کی لکڑی پر پکی چائے پیتے اور اسی پر پکایا ہوا کھانا کھاتے ہو۔ کیا تمہیں معلوم ہا کہ جدید ترین امریکی تحقیق کے مطابق آج کے دور میں ہر قسم کے سرطان کا سب سے موثر علاج چھلئی ہے۔‘‘

’’کیا؟‘‘ قریب بیٹھے چھوٹے بھائی حکیم عبدالرحمن سلیمانی اور اس کے شاگرد حکیم عبدالواحد نے حیرت سے پوچھا۔

’’کیا آپ کو معلوم نہیں کہ پشاور میں قائم شدہ لیبارٹری میں سی بک تھارن (Sea Buck Thorn)پر تحقیق ہو رہی ہے۔ اسے انگریزی میں شاپرل (Chapprel) اور اردو میں ’برو‘ کہتے ہیں۔ یہ چھلئی ہی تو ہے۔ سماوا اور دھمانسہ (جڑی بوٹیاں) پھیپھڑوں کے سردان میں مفید نہیں لیکن یہ ہر قسم کا سرطان ختم کرنے والی لاجواب دوا ہے۔ امریکی اس کا تیل نکال کر ہزار ہا ڈالر فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔‘‘

میں نے پھر ہوٹل کے مالک سے کہا ’’تم ہر ماہ لاکھوں ڈالر کا زر مبادلہ ضائع کر رہے ہو۔ جلانے کے لیے تو کوئی اور لکڑی بھی استعمال ہو سکتی ہے مگر سرطان کے لیے اس سے مفید دوا نہیں مل سکتی۔‘‘

اگلے دن صبح سویرے ہم بوٹیوں کی تلاش میں نکلے، تو ہمیں کالا سملو مل گیا۔ زرد سملو پانچ چھ فٹ بلند مگر کالے سملو کا پودا دو تین فٹ بلند ہوتا ہے اور کانٹوں سے بھرا ہوا۔ ہم نے تجربات کے لیے پودے توڑ لیے۔ یاد رہے پاکستان میں سب سے زیادہ بوٹیاں شاردہ (آزاد کشمیر) میں ملتی ہیں۔ اس کے بعد وادی کاغان کے علاقے، موسی کا مصلیٰ میں ساڑھے تین سو بوٹیاں ہوتی ہیں۔ تیسرے نبر پر بٹہ کنڈی، بوڑائی وئی، جل کھڈ اور بہسل کے علاقے ہیں جہاں تین سو سے زائد بوٹیاں دستیاب ہیں۔

بعض بوٹیاں ایسی ہیں جن کے صرف مقامی نام معلوم ہو سکے، اردو اور لاطینی نام نہیں ملے۔ میری خواہش ہے کہ بوٹیوں پر جس زبان میں بھی کتاب لکھی جائے، مصنف وہاں کا مقامی نام ضرور لکھے کیونکہ اس کے بغیر بوٹی کی پہچان ممکن نہیں۔ سیاچن کے رستے میں خپلو اور دم سم کے درمیان ہمیں ایک ایسی بوٹی ملی جو بہتے ہوئے خون پر ڈالیں، تو وہ چند سیکنڈ میں رک جاتا ہے۔ علاقے کے لوگ اسے ’یوما‘ کہتے ہیں لیکن مجھے اس کا متبادل نام نہیں مل سکا۔

اگلی صبح جل کھڈ سے جیپ کے ذریعے بہسل پہنچے۔ راستہ بے حد خراب اور تنگ ہے۔ ایک طرف سے جا رہی ہو، تو دوسری طرف والی سواری نہیں گزر سکتی۔ پہاڑوں کو کاٹ کر کہیں کہیں گزر گاہیں بنائی گئی ہیں۔ ایک گاڑی وہاں رک جاتی ہے، تب دوسری گاڑی گزرتی ہے۔ ایک طرف پہاڑ دوسری طرف دریا، بہت آہستہ رفتار سے چلتے ہوئے بہسل پہنچے۔ وہاں ایک ہوٹل، جنرل سٹور اور تین رہائشی کمرے نظر آئے۔

اس ہوٹل کا حساب بھی وہی جل کھڈ والا تھا۔ چند سال پہلے حاجی میر افضل نے اسے بنایا تھا۔ بالا کوٹ کے رہنے والے اور اچھے کاروباری آدمی ہیں۔ ذیابیطس کے مریض ہیں۔ پہلے بھی تعارف تھا، اس لیے ان کے لیے دوا لے کر گیا تھا۔ مل کر بہت خوش ہوئے۔ ہم نے ان سے معذرت چاہی کہ اب تو دودی پت سر جا رہے ہیں، واپسی پر آپ کے پاس قیام ہو گا۔ خالد بھائی نے گھوڑوں کا بندوبست کرنا تھا، اس لیے جل کھڈ سے وہ پیدل ہی چل پڑے تھے۔ چونکہ مقامی ہیں لہٰذا ایک گھنٹے میں بہسل پہنچ کر گھوڑوں کا انتظام کر چکے تھے۔

بہسل سے دو راستے جاتے ہیں : ایک لولو سر جھیل کو اور وہاں سے درہ بابوسر کے ذریعے چیلاس اور گلگت کی طرف۔ وہاں پختہ سڑک بنانے کا منصوبہ ہے جو جلد مکمل ہو جائے گی۔ دوسرا راستہ دودی پت سر کی طرف جاتا ہے۔ برف سے ڈھکے ہوئے سر بفلک پہاڑ، ہرے بھرے جنگل، اچھلتی کودتی تیز رفتار ندیاں، خوبصورت نیلگوں جھیلیں اور بے شمار گلیشیئر اس وادی کی پہچان ہیں۔

دل موہ لینے والے قدرتی مناظر، زرخیز زمینوں، روح پرور ہواؤں، سفید لباس میں ملبوس کوہساروں، دیدہ زیب مرغزاروں، ٹھاٹھیں مارتے تند و تیز ندی نالوں، گنگناتے جھرنوں، ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشموں، آنکھوں کو موہ لینے والی آبشاروں اور خوبصورت، پر اسرار اور طلسماتی نیلگوں جھیلوں نے اس وادی کو جنت ارضی بنا دیا ہے۔

بہسل سے براہ دریائے کنہار دودی پتر سر کی طرف راستہ جاتا ہے۔ دریا پار کرنے کے لیے رسی کے ساتھ ایک کرسی بندھی ہوئی ہے جس پر ایک آدمی بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف سے آدمی رسی کھینچ لیتا ہے۔ ہلکا پھلکا سامان بھی ساتھ رکھ لیا جاتا ہے۔ اس طرح دن میں بیسیوں بار یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے۔ ہم آٹھوں افراد نے ایک ایک کر کے دریا پار کیا۔

دریا پار چار گھوڑے ہمارے منتظر تھے۔ دو گھوڑوں پر سامان لادا گیا، تیسرے پر میں بیٹھا۔ چوتھا گھوڑا واپس کر دیا گیا کیونکہ باقی لوگ پیدل جانا چاہتے تھے۔ ساٹھ ستر ندی نالوں اور تین گلیشیئر عبور کر کے میں چار گھنٹے بعد پہلے پڑاؤ، پوربی ناڑ پہنچا۔ راستے میں خطرناک ندی نالوں اور بلندی کی طرف سفر کرنے کے باعث پانچ دفعہ گھوڑے سے اتر کر سفر کرنا پڑا۔ چونکہ جیپ کا راستہ موجود نہیں لہٰذا سفر پیدل یا گھوڑوں پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

پوربی ناڑ ایک وسیع میدان ہے۔ اس میں ایک طرف بہت بڑی جھیل ہے، تو دوسری طرف کچھ فاصلے پر پہاڑ، درمیان میں ایک چھوٹی سی بستی ہے جس میں بیس پچیس مکان بنے ہوئے ہیں۔ ان سے پہلے تین خیمے نصب ہیں، ایک میں کھانا پکایا جاتا ہے اور دو میں رہائش کا انتظام ہے۔ ان میں رہنے کے لیے بہسل سے معلوم کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس جانب چھ نفوس گئے ہوں، تو ان کی واپسی تک آپ کو بہسل میں قیام کرنا پڑے گا۔ ہم چونکہ آٹھ افراد تھے، اس لیے ہم نے پہلے ہی ایک بڑے خیمے کا انتظام کر لیا تھا۔ کھانے کے لیے خشک راشن بھی ساتھ لے گئے تھے تاکہ وہاں انتظام نہ ہو، تو خود اہتمام کر لیں۔

پوری ناڑ تقریباً ۱۵ ہزار فٹ کی بلندی پر واقعہ ہے۔ بہسل سے نکلتے ہی کچھ فاصلے پر مجھے ’خط برف‘ (Snow Line) نظر آیا۔ پہاڑی علاقوں میں یہ وہ خط یا حد ہے جس کے اوپر پہاڑ ہر وقت برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔ عموماً یہ حد ۱۲۰۰۰۰ فٹ کی بلندی کے بعد آتی ہے۔ اسی علاقے میں بھرج پتر کا درخت ملتا ہے جس کے پتے نہیں ہوتے بلکہ تنا کچھ اس طرح لپٹا ہوتا ہے جسے کاغذ کا رم۔ پرانے زمانے میں علما اس پر تعویذ لکھتے تھے۔ یہ خط اس بات کی علامت ہے کہ علاقے میں اب تنے والا کوئی درخت نہیں، صرف رنگ برنگے، پھولدار اور چند انچ اونچے پودے ملتے ہیں۔

۱۹۹۴ء میں جب ہم دیوسائی گئے، تو خط برف سے پہلے بہت سی لکڑیاں کاٹ کر جیپ سے باندھ لی تھیں تاکہ شدید سردی میں آگ تاپنے کے کام آ سکے۔ چونکہ دیوسائی میں ریچھ اور چیتے بھی ہیں، اس لیے خیمے کے ارد گرد رات کو آگ جلائی جائے، تو وحشی جانور قریب نہیں آتے۔ پوربی ناڑ میں چونکہ بستی قریب ہے، اس لیے جانوروں کا ڈر نہیں تھا۔ سب سے پہلے میں وہاں پہنچا، تو ہمارے امیر سفر خالد بھائی پہلے سے موجود تھے۔ خیمہ لگ چکا تھا اور اس میں وافر بستر بھی تھے۔ کھانے پینے کا سامان سلیقے سے ایک طرف رکھا تھا۔ ان سے پوچھا ’’آپ تو پیدل تھے، مجھ سے پہلے کیسے پہنچ گئے؟‘‘

کہنے لگے ’’ہم ان راستوں پر چلنے کے عادی ہیں۔ سامان والے گھوڑوں کے ساتھ ایک گھنٹہ پہلے پہنچ گئے تھے۔ آپ آرام سے بیٹھیں اور چائے نو ش کریں۔‘‘

میں نے چائے پی، تو تھکے اعصاب کو کچھ سکون ملا۔ آرام دن بستر موجود تھے، ان پر لیٹتے ہی نیند آ گئی۔ آنکھ کھلی تو مغرب ہونے والی تھی اور ابھی تک کوئی ساتھی نہیں پہنچا تھا۔ عین مغرب کے وقت ایک گھوڑا آ کر رکا اور ہمارے ساتھی حاجی احمد میمن نیچے اترے۔ ان سے پوچھا ’’حاجی صاحب! آپ تو پیدل چلے تھے، یہ گھوڑا کہاں سے ملا؟‘‘

کہنے لگے ’’آپ کو یاد ہو گا کہ ایک چوتھا گھوڑا بھی تھا۔ میں پانچ چھ کلومیٹر تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ چلتا رہا پھر میری ہمت جواب دے گئی۔ وہ گھوڑا بھی ساتھ ساتھ آ رہا تھا۔ اس سے اجرت طے کی اور گھوڑے پر بیٹھ کر پہنچ گیا۔

حاجی احمد میمن ۶۲ سالہ باہمت نوجوان ہیں۔ دل کے مریض ہیں اور ان کی تین شریانیں بند ہیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں سفر سے منع کیا ہوا ہے لیکن وہ نہ صرف سفر پر نکلے بلکہ پندرہ ہزار فٹ بلندی پر بھی پہنچ گئے۔ ان کی بلند ہمتی دیکھ کر ہماری بھی ہمت بندھی رہتی ہے۔

تھوڑی دیر گزری تو احسن، عمار اور حکیم عبدالواحد بھی گھوڑوں سے نیچے اترتے دکھائی دیئے۔ ان سے وہی سول پوچھا، تو کہنے لگے ’’آپ کے گھوڑے واپس جا رہے تھے۔ ہم نے ان کے مالکوں سے درخواست کی کہ ہمیں بھی منزل تک پہنچا دو۔ نصف سے زائد فاصلہ طے ہو چکا تھا لیکن مزید چلنے کی سکت نہیں تھی۔ انہوں نے جو کرایہ مانگا، وہ دے کر پہنچ گئے۔

آخر میں ذاکر بھائی اور عبدالرحمن رہ گئے، وہ کافی دیر بعد پہنے اور اس حالت میں کہ زخمی تھے۔ پتا چلا کہ گھوڑے سے گر گئے تھے۔ بہرحال ہم نے شکر ادا کیا کہ سب ساتھی زندہ سلامت پہنچ گئے۔ خالد بھائی نے عقل مندی کی تھی کہ کھانا خود پکانے کے بجائے محمد جان کے ذمے لگا دیا۔ محمد جان پوربی ناڑ کا رہائشی تھا اور خیمے بھی اسی نے لگائے ہوئے تھے۔

جب سب ساتھی آ چکے تو کھانا کھایا، نماز پڑھی اور پھر سونے لیٹ گئے۔ سردی اتنی شدید تھی کہ دو لحاف لے کر بھی ختم نہ ہوئی۔ رات بھر سردی سے کانپتے رہے۔ صبح نماز کے لیے اٹھے، تو جھیل کا پانی تقریباً منجمد تھا۔ بڑی مشکل سے وضو کیا، نماز پڑھی اور پھر سو گئے۔ تھکاوٹ بہت زیادہ تھی، نو بجے تک سوئے رہے۔ اٹھے تو خالد بھائی ناشتہ تیار کروا چکے تھے۔ ناشتے میں مچھلی دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔

خالد بھائی نے بتایا ’’رات جب آپ سوئے ہوئے تھے، میں اور ذاکر جھیل پر چلے گئے۔ رات تین بجے واپس آئے۔ چند ایک ٹراؤٹ مچھلیاں مل گئیں، وہی تلی ہیں۔‘‘ خالد بھائی نے مزید بتایا کہ اتنے سرد پانی میں صرف ٹراؤٹ مچھلی زندہ رہ سکتی ہے جس کی تین قسمیں ہیں۔ ’رین بو‘ جس پر سرخ نشانات ہوتے ہیں۔ ’کیملوک‘ جس پر سیاہ نشانات ہوتے ہیں اور ’براؤن‘ جس پر کسی رنگ کا نشان نہیں ہوتا۔ یہ بھی بتایا کہ یہ شدید گرم مچھلی ہے، اس کے کھانے سے سردی کی شدت کم ہو جاتی ہے اور ایسا ہی ہوا۔ اس رات ہم سوئے، تو دو رضائیوں میں سردی نہیں لگی۔

ناشتے سے فارغ ہوئے ہی تھی کہ محمد جان نے بتایا، کچھ بیبیاں آئی ہیں، نبض دکھانا چاہتی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ انہیں کیسے پتا چلا کہ یہاں حکیم آئے ہوئے ہیں؟

کہنے لگا ’’میں نے رات سب کو بتا دیا تھا۔‘‘

اس علاقے میں چونکہ نہ کوئی ڈاکٹر ہے نہ حکیم، اس لیے لوگ بیماریاں پالتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی شدید بیمار ہو جائے تو اسے بالاکوٹ یا مانسہرہ جانا پڑتا ہے۔ مریضوں کا سلسلہ کچھ اس طرح چلا کہ اگلے روز واپسی تک وقفوں سے مریض آتے رہے۔ ہم جو ادویہ لے گئے تھے، وہ کم پڑ گئیں۔ محمد جان نے یہ بھی بتایا کہ یہاں صرف دس گھر آباد ہیں، باقی مریض دور دراز علاقوں سے آئے ہیں۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ دیگر گھروں میں ان کے مہمان ٹھہرتے ہیں۔ مہمان بھی اپنی برادری کے، دوسروںکو آنے کی اجازت نہیں۔

میں نے محمد جان سے پوچھا ’’یہ بستی کتنی پرانی ہے؟‘‘

اس نے بتایا ’’یہ سینکڑوں سال پرانی ہے۔ ۱۸۳۱ء میں سید احمدؒ اور شاہ اسماعیلؒ کی شہادت کے بعد ان کے قافلے کے سینکڑوں مجاہد چھپتے چھپاتے پوربی ناڑ آ چھپے تھے، لیکن انگریزوں نے ان کا تعاقب کیا اور ایک ایک کو چن چن کر شہید کر دیا۔ اس لحاظ سے یہ شہیدوں کی بستی ہے۔‘‘

اسی دوران اذان کی آواز سنائی دی، دیکھا تو بستی کے باہر ایک چھوٹی سی مسجد بنی نظر آئی۔ مگر اس کے ساتھ نہ کوئی طہارت خانہ تھا نہ وضوہ گاہ۔ پتا چلا کہ اس علاقے میں کہیں یہ سہولت موجود نہیں۔ وضو کر کے مسجد پہنچے، تو ہمارے علاوہ صرف مؤذن ہی تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ پانچوں وقت اذان کہتا ہے۔ اگر کوئی نہ آئے، تو نماز پڑھ کر چلا جاتا ہوں۔

میں نے پوچھا ’’مسجد کا کوئی نام ہے؟‘‘

حیران ہو کر پوچھنے لگا ’’مسجد تو مسجد ہوتی ہے، اس کا نام رکھنے کی بھلا کیا ضرورت؟‘‘

میں نے بتایا ’’بہسل میں بھی چھوٹی سی مسجد ہے جس کا نام مسجد صدیق اکبرؒ ہے۔‘‘

’’وہ تو ہے۔‘‘

’’مدینہ شریف میں مسجد نبویؐ ہے۔‘‘

’’وہ تو ہے۔‘‘

’’مکہ مکرمہ میں مسجد حرام ہے۔‘‘

’’ہاں! وہ تو ہے۔‘‘

’’تو بھائی! جب ہر مسجد کا نام ہے، تو اس مسجد کا بھی کوئی نام ہونا چاہیے۔

’’ہاں بالکل ہونا چاہیے۔ پھر کیا نام رکھیں؟‘‘ اس بحث میں کچھ مقامی لوگ بھی شامل ہو گئے۔ آخر ہم نے مسجد کا نام پوری مسجد طے کر دیا۔

پوربی ناڑ بہت خوبصورت جگہ ہے، انتی خوبصورت کہ بس دیکھتے رہ جائیں اور دل نہ بھرے۔ کسی شاعر نے کہا ہے    ؎

اگر فردوس بروئے زمین است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

یہ بات پوربی ناڑ پر صادق آتی ہے۔ جوں ہی شام ڈھلے اس کی خوبصورتی اور بڑھ جاتی ہے۔ شدید سردی کی وجہ سے مغرب کے بعد خیمے سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی لیکن ایک رات باہر کا سماں دیکھنے ہم سب نکلے۔ آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ کوئی دمدار ستارہ، کوئی بہت زیادہ روشن ستارہ، کوئی ستارے کے اوپر ستارہ، لگتا تھا ہم سیارہ گاہ (پلینی ٹوریم) میں ہیں۔ یہ جادوئی منظر دیکھ کر میرے ساتھ حیرت زدہ رہ گئے۔ میں پہلے بھی یہ منظر داسو اور چلم چوکی میں دیکھ چکا تھا۔

وہ رات سوتے جاگتے میں کٹی۔ اگلی صبح دودی پت سر جانے کا منصوبہ تھا۔ فاصلہ اگرچہ دو کلومیٹر کا تھا لیکن ابھی تھکاوٹ کا اثر زائل نہیں ہوا تھا، اس لیے گھوڑے والوں سے کہہ دیا کہ ہمیں دودی پت سر سے لے لینا۔

دودی پت سر  (دودھ کی طرح سفید پانی والی جھیل) دو کلومیٹر قطر میں پھیلی ہوئی ہے۔ دور ہی سے اس کا دودھیا رنگ نظر آ جاتا ہے۔ پانی کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ ۱۴۹۹۳ فٹ بلند یہ جھیل غالباً پاکستان کی سب سے بلند جھیل ہے۔ دور سے دیکھیں، تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پیالے میں دودھ پڑا ہے۔ اس علاقے میں نہ کوئی آبادی ہے نہ کوئی ہوٹل یا دکان، اس لیے آنے والوں کو کھانے پینے اور رہائش کا بندوبست کر کے آنا چاہیے۔

وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ اس سے چار گھنٹے (ہم لوگوں کے لیے دس گھنٹے) کی مسافت پہ سات جھیلیں ہیں، چھ چھیلیں ساتھ ساتھ ہیں اور ساتویں ان سے کچھ فاصلے پر، انہیں سرل جھیل کہتے ہیں۔ مگر ہم خود کو سرل جھیل جانے پر آمادہ نہ کر سکے اور واپسی کا ارادہ کر لیا۔

باتوں باتوں میں عمار اور احسن نے بتایا ’’لولو سر جھیل بھی قریب ہے۔ کیوں نہ وہاں بھی ہو آئیں۔‘‘

حاجی میر افضل کے صاحبزادے قیصر نے کہا ’’میرے پاس جیپ موجود ہے۔ میں دو گھنٹے میں آپ کو گھما لاتا ہوں۔‘‘ یوں اچانک منصوبہ بن گیا اور ہم کچھ دیر بعد لولو سر جھیل پر موجود تھے۔

لولوسر (پانی کی لمبی جھیل) اس علاقے کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ اس کا قطر ساڑھے تین کلومیٹر ہے۔ سحر انگیز اور طلسماتی جگہ ہے۔ ۱۱۵۰۰ فٹ بلندی پر واقع ہے۔ اس جگہ پہنچ کر دہشت اور ویرانی کا احساس بڑھ جاتا ہے اور انسان پر خوف کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

جھیل کا پانی سیاہی مائل ہے۔ یہ روایت مشہور ہے کہ آنکھوں کی جملہ بیماریوں کے لیے مفید ہے۔ ایک دفعہ مغل شہنشاہ اکبر اپنے بال بچوں سمیت یہاں آیا۔ اس کی ایک نابینا بیٹی نے یہاں غسل کیا، تو اس کی بینائی لوٹ آئی۔ اس وجہ سے لوگ بوتلوں میں پانی بھر کر لے جاتے ہیں۔ یہاں چاؤ  نامی ایک بوٹی پائی جاتی ہے جس کے سونگھنے سے انسان بے ہوش ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہاں بھی آبادی بالکل نہیں، اس لیے کھانے پینے کا سامان رکھنا ضروری ہے۔

لولو سر جھیل کی سیر کے بعد ہم واپس جل کھڈ چلے آئے۔ دو دن وہاں قیام کیا اور پھر بالاکوٹ کے لیے رخت سفر باندھا۔ بالاکوٹ میں ایک بوڑھے شخص نے بتایا کہ جب پہلی دفعہ سڑک بنی اور اس پر بس چلی تو لوگ دور دراز سے اسے دیکھنے آئے تھے۔ ان کے لیے بس عجوبہ تھی۔ آنے والے لوگوں میں بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے سروں پر گھاس کے گٹھے اٹھا ررکھے تھے۔ دراصل ان کا خیال تھا کہ بس کوئی زندہ مخلوق ہے۔

---

واپسی پر ہم سب گھوڑوں پر بالا کوٹ پہنچے تھے۔ وہاں سفر دو ہی طرح طے ہو سکتا ہے، پیدل یا گھوڑوں پر۔ پیدل سفر کا مزہ ہم پوربی ناڑ جاتے ہوئے چکھ چکے تھے۔ بہسل سے پوربی ناڑ کے ۱۸ کلومیٹر فاصلے کو مقامی لوگوں کے مطابق چار گھنٹے میں طے ہونا تھا لیکن ہمیں اس میں دس گھنٹے لگے۔ واپسی پر کسی میں بھی ہمت نہ تھی کہ اتنا لمبا سفر پیدل طے کر سکیں۔ میں اور میرا بیٹا عمار سب سے پیچھے تھے۔

پانچ چھ کلومیٹر فاصلہ طے کیا تھا کہ ایک مخصوص سیٹی کی آواز سنائی دی۔ میں نے پوربی ناڑ میں یہ سیٹی پہلے بھی کئی دفعہ سنی تھی۔ یہ کھن چوہے کی آواز تھی۔ کھن چوہا ۱۲ ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر پتھروں کے نیچے بستیاں بنا کر رہتا ہے، ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری بستی۔ ہزار ہا کھن چوہوں کے بل بڑے طریقے اور سلیقے سے ساتھ ساتھ بنے ہوتے ہیں۔ یہ بستی ختم ہو، تو ڈیڑھ دو کلومیٹر دور دوسری بستی ہوتی ہے۔

یہ جانور بے ضرر سمجھا جاتا ہے اور لوگ اسے مارنے سے گریز کرتے ہیں۔ کھن چوہے سے میرا تعارف ۱۹۹۲ء میں ہوا تھا جب میں چین کی سرحد پر واقعہ خنجراب جا رہا تھا۔ رات ہم نے آخری سرحدی چوکی سوست میں گزاری۔ سوست سے گاڑی میں بیٹھے ہی تھے کہ خنجراب سے آنے والی ایک گاری آ کر رکی اور اس میں سے پنجاب یونیورسٹی کے سید نعیم باہر نکلے جو میرے واقف ہیں۔ جب انہیں پتا چلا کہ ہم خنجراب جا رہے ہیں اور میرے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، تو کہنے لگے ’’سلیمانی صاحب! بچوں کا خیال رکھیے گا، وہاں پانچ پانچ کلو کے چوہے ملتے ہیں۔‘‘

’’پانچ کلو کے چوہے!‘‘ میں نے خوفزدہ ہو کر پوچھا۔

’’ہاں! ہاں! پانچ کلو کے چوہے، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، کہیں بچوں کو کاٹ لیں۔‘‘

میں ان سے رخصت ہو کر گاڑی میں بیٹھا۔ راستے میں نیشنل پارک میں کہیں خرگوش سے بڑے اور کہیں بلی سے بھی بڑے کھن چوہے نظر آئے۔ دو سال بعد جب میں دیوسائی گیا، تو وہاں بھی کھن چوہوں کی بے شمار بستیاں نظر آئیں۔ میرے ساتھی حکیم منیر احمد قریشی نے ایک کھن چوہا شکار کیا تو سکردو کے رہنے والے سید جواہر شاہ اور خواجہ مشتاق نے برا منایا بلکہ باقاعدہ ناراض ہو گئے۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے ’’خیوا (بلتی میں کھن چوہے کا نام) بنی اسرائیل کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی شکلیں اللہ تعالیٰ نے بد اعمالیوں کے باعث مسخ کر دی تھیں۔‘‘

میں نے انہیں بتایا کہ بنی اسرائیل کے جس گروہ کی شکلیں مسخ کی گئیں، اللہ نے ان کا وجود ختم کر دیا تھا۔ بہرحال ہمیں ان سے معذرت کرنا  پڑی۔

کھن چوہے کی آواز سن کر مجھ سمیت میرے بیٹے اور گھوڑوں کے سائیس نے اوپر دیکھا، تو ایک بڑا سا پتھر لڑھکتا آ رہا تھا۔ سائیس نے تیزی سے گھوڑے دوڑائے اور ہم اس کی زاد میں آنے سے بال بال بچ گئے۔ ہم نے سجدہ شکر ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کھن چوہے کے ذریعے ہماری غیبی مدد کی اور ہماری جان بچا لی۔

---

اگرچہ شوگران پیچھے رہ گیا تھا، لیکن ہمیں پھر واپس جانا پڑا کیونکہ ہمارے میزبان، حاجی حسن اور شاہد ہمارے منتظر تھے۔ انہوں نے ہمارے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ عشائیے میں شوگران کے نمایاں افراد شامل تھے جن میں پنجاب ہوٹل کے شاگر شاہ بھی نظر آئے۔ ان سے دورانِ گفتگو مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو میں نے شاہ صاحب کو بھی سنایا۔

چند سال قبل میں اپنے بڑے بھائی، ڈاکٹر محمد سعید اور حامد مرزا کے ساتھ شوگران پہنچا۔ مغرب کا وقت قریب تھا، لوگوں سے مسجد کا پتہ پوچھا تو معلوم ہوا کہ قریب ہی مسجد ہے۔ ڈاکٹر صاحب تھکاوٹ کے باعث کمرے ہی میں نماز پڑھ لی البتہ میں اور حامد مرزا مسجد کی تلاش کو نکلے۔ ہم چلتے گئے یہاں تک کہ شہر ختم ہو گیا اور کھیت شروع ہو گئے۔ رفتہ رفتہ تاریکی بڑھ گئی۔ مرزا صاحب نے ایک زیر تعمیر ہوٹل میں مقیم لوگوں سے مسجد کا پتا پوچھا۔ پتا چلا کہ بائیں ہاتھ مسجد ہے۔ دیکھا تو چھوٹی سی مسجد تھی جس میں بمشکل دو صفوں کی گنجائش تھی۔

مرزا صاحب بہت اچھے قاری ہیں، میں نے ان سے درخواست کی کہ اذان کہیے۔ اذان ختم ہونے پر انہیں میں نے اپنے بائیں طرف کھڑا کیا اور کہا کہ جماعت کرائیے۔ ابھی انہوں نے نیت باندھی تھی کہ مسجد کی مغربی جانب سے کچھ لوگوں کی آوازیں کانوں میں پڑیں۔ کچھ دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میری قمیص پکڑ کر کھینچ رہا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ اگر ایک ہی مقتدی ہو، تو بعد میں آنے والا پہلے شخص کو پیچھے کھینچ سکتا ہے، لہٰذا میں پچھلی صف میں چلا گیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرے دائیں اور بائیں کئی نمازی ہیں۔ ان کے پاؤں میرے پاؤں سے جڑے ہوئے تھے۔ میں نے پوری نماز اسی طرح ادا کی۔

جب سلام پھیرا تو یہ دیکھ کر حیران پریشان ہو گیا کہ میں تنہا تھا۔ نجانے صف میں شریک وہ سب نمازی یکایک کہاں چلے گئے تھے۔ تاہم میں نے مرزا صاحب سے اس واقعے کا تذکرہ نہیں کیا۔ اگلی صبح تھکاوٹ اور کچھ خوف کی بنا پر ہم نے پنجاب ہوٹل ہی میں نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو ڈاکٹر سعید نے مجھ سے کہا ’’ہاں وحید! رات مسجد میں تمہارے ساتھ کیا ہوا تھا؟‘‘

میں بڑا حیران ہوا کہ میں نے اس واقعے کا کسی سے ذکر نہیں کیا اور نہ حامد مرزا کو علم تھا پھر انہوں نے کس بنیاد پر یہ بات مجھ سے کہی۔ بہرحال انہیں واقعہ سنایا۔

شوگران سے لاہور واپس آ کر میں نے گھر میں اس کا تذکرہ کیا، تو میرا بڑا بیٹا طلحہ کہنے لگا ’’ابو! آپ کو علم ہے یہ مسجد کس نے بنائی ہے؟‘‘

میں نے حیرت سے کہا ’’نہیں تو۔‘‘

کہنے لگا ’’اگرچہ مسجد تو بہت پرانی ہے لیکن اس کی تعمیر نو معروف فلمی اداکار، سلطان راہی نے کروائی تھی اور اب وہ جنوں والی مسجد کے نام سے معروف ہے۔‘‘

 

)حکیم عبد الوحید سلیمانی اردو ڈائجسٹ جون ۲۰۰۶ء(

Last Updated : Dec 22, 2012