ایک تیر اثر نسخہ

 

۱۹۶۶ء کی بات ہے، میں جامعہ پنجاب میں شعبہ دوا سازی کا طالب علم اور مجیٹھیا ہال میں رہائش پذیر تھا۔ نماز عصر کے بعد میں ہاسٹل پہنچا، تو میرے کمرے کے ساتھی ظہیر (اب ڈاکٹر ظہیر، شفا انٹرنیشنل، اسلام آباد) نے مجھے بتایا کہ موچی دروازے سے فون آیا تھا، جہانیاں سے آپ کے والد تشریف لائے ہوئے ہیں۔

میں نے نمازِ عصر ادا کی، رکشا پکڑا اور فوراً موچی دروازے روزنہ ہو گیا۔ وہاں میرے خالو شیخ محمد قمر الدین رہائش پذیر اور اشاعت کا کام کرتے تھے۔ وہ اگرچہ بے شمار کتب کے ناشر تھے لیکن اشاعتی دنیا میں ان کا سب سے بڑا کام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی شہرہ آفاق تصنیف تفہیم القرآن کی اشاعت تھا۔ انہوں نے اس تفسیر کو بڑی محبت، شوق اور اہتمام سے شائع کیا۔ والد گرامی جب بھی لاہور آتے، یہیں ٹھہرتے۔

اگرچہ گھر بہت چھوٹا سا تھا، بستر بھی فرشی ہوتا مگر یہاں ٹھہر کر قلبی سکون محسوس کرتے۔ گو بے شمار رشتے دار لاہور میں رہتے تھے، میری بڑی بہن بھی لاہور میں تھیں اور وہ ہر بار ابا جان سے اپنے گھر ٹھہرنے کے لیے اصرار بھی کرتیں مگر ابا جان کا کہنا تھا:

’’بیٹی! میں تمہارے خالو کے پاس پاکستان بننے سے پہلے کا مقیم ہوں۔ ایک تو تمام دوست احباب کو اس ٹھکانے کا پتا ہے۔ میرے آتے ہی وہ سب جمع ہو جاتے ہیں، دوسرے وہ بہت مہمان نواز ہیں۔ مہمانوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دیتے۔ تیسرے تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ چوتھے یہ کہ کتابوں کی دکانیں بہت نزدیک ہیں اور میں کشمیری بازار اور زیر مسلم مسجد سے اپنی پسند کی کتابیں آسانی سے ڈھونڈ لیتا ہوں۔‘‘ باجی نے پھر ابا جان کو کبھی مجبور نہیں کیا اور وہ دورانِ قیام خود ہی ایک دو دفعہ آ کر انہیں مل جاتے۔

میں پہنچا، تو ابا جان بے چینی سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ فوراً ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور مجھے کہنے لگے ’’عبدالوحید چلو۔‘‘ میں ان کے ساتھ گھر سے باہر نکلا اور پوچھا کہ کہاں جانا ہے؟ فرمانے لگے ’’جگہ تو میں نے بھی نہیں دیکھی۔ بادامی باغ میں ریل کی پٹڑی کے پار ایک جگہ ہے۔ پتا میرے پاس لکھا ہواہے، جا کر ڈھونڈ لیں گے۔‘‘

ہم نے رکشا کرایا اور بادامی باغ ریلوے جنکشن کے پاس رکے، پٹڑی پار کی اور پھر متعلقہ مکان تلاش کرنے لگے۔ پتا چلا کہ وہ بڑے مکانوں میں نہیں بلکہ پٹڑی کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ دو مرلے کی جھگیوں میں سے کوئی جھگی ہے۔ سینکڑوں جھگیاں ایسی تھیں جن پر چھپر پڑے ہوئے تھے۔ گلی میں گندا پانی بہہ رہا تھا۔ کسی گھر کا دروازہ سلامت اور کسی کا وہ بھی نہیں تھا۔ میں حیران ہو رہا تھا کہ ایسی جگہ والد صاحب کی تلاش میں آئے ہیں۔ آخر ابا جان نے سکوت توڑا اور مجھ سے کہا ’’کسی سے پوچھو کہ ولایت علی سنیاسی کا مکان کون سا ہے؟‘‘ اکثریت اس نام سے ناواقف تھی۔ بالآخر ایک بوڑھے نے کہا ’’وہ جو دوائیاں بناتا ہے۔‘‘

والد صاحب نے کہا ’’ہاں وہی۔‘‘ اس نے کہا ’’چلو میرے ساتھ۔‘‘ وہ ہمارے ساتھ چلتا رہا۔ دس پندرہ مکان گزرنے کے بعد ایک ایسا مکان نظر آیا جس کا دروازہ سلامت تھا نہ اس میں کوئی کھڑکی تھی۔ اس کے اوپر پڑا ہوا چھپر دھوئیں سے سیاہ ہو چکا تھا۔ اس نے آواز دی ’’بھائی ولایتی! تینوں ملن لئی پروہنے آئے نیں۔‘‘ (بھالئی ولایت علی! آپ کو ملنے چند مہمان آئے ہیں)۔

تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا، ایک منحنی قد و قامت والا آدمی باہر نکلا۔ اس نے دھوتی باندھی ہوئی تھی اور چرڑ مرڑ سا کرتا پہنا ہوا تھا۔ والد صاحب کو دیکھا، تو خوشی سے کھل اٹھا اور پنجابی میں کہنے لگا ’’اج کیڑی دے گھر نرائن آ گیا اے۔‘‘ (آج چوینٹی کے گھر بادشاہ سلامت آ گئے ہیں)۔

گھر میں داخل ہوئے، تو ایک پھٹی پرانی دری پڑی تھی۔ اس نے ایک کونے میں پڑی میلی سی سفید چادر اٹھا کر بچھا دی اور ہمیں اس پر بٹھایا۔ دری کے کنارے وہ خود بیٹھ گیا۔ گھر میں سامان نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ گنتی کے تین چار برتن، ایک ہانڈی اور چائے کے تین پیالے۔ ایک طرف چھت کے قریب لکڑی ٹنگی ہوئی تھی جس پر ان دھلے کپڑوں کا ایک جوڑ الٹکا ہوا تھا۔ وہ آدمی کہنے لگا ’’حکیم صاحب! دو منٹ انتظار کریں۔ میں چائے کا کہہ کر آتا ہوں۔‘‘

اس کے جانے کے بعد والد صاحب نے بتایا کہ ولایت علی سنیاسی عمر میں مجھ سے دو ایک سال بڑے ہوں گے۔ انہو ں نے قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد میں بھی کوئی دس بارہ سال ہندو جوگیوں کے ساتھ گزارے ہیں۔ جڑی بوٹیوں کے علم میں ماہر ہیں، کشتہ سازی میں جواب نہیں رکھتے، ہر مشکل سے مشکل دوائی تیار رکھتے ہیں۔ میں نے ان سے کبھی کوئی نسخہ نہیں مانگا۔ خود ہی جو دل میں آئے نسخہ عطا کر دیتے ہیں۔ آج پتا نہیں کون سا نسخہ دیتے ہیں۔ مجھ پر بہت مہربان ہیں۔

تھوڑی دیر بعد سنیاسی صاحب آ گئے۔ ہمیں چائے پلائی۔ تھوڑی دیر مختلف طبی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ دورانِ گفتگو کہنے لگے ’’حکیم صاحب آج کل ایک نسخہ بنا رہا ہوں، پہلے بھی بیسیوں بار بنایا۔ میری نظر میں سیلان الرحم (لیکوریا) کے لیے اس سے بہتر کوئی اور نسخہ نہیں۔ نسخہ جتنا پرانا ہو اس کی تاثیر بڑھتی جاتی ہے۔ میں اس نسخے کو عموماً بقر عید کے بعد بناتا اور سارا سال چلاتا ہوں۔‘‘

ابا جان نے وہ نسخہ لکھ لیا لیکن صاحب نسخہ کی نزدگی میں اسے نہیں بنایا بلکہ ان سے خرید کر مریضوں کو دیتے رہے۔ ایک دفعہ میں نے وجہ پوچھی، تو کہنے لگے کہ اگر غریب آدمی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو اسے نقصان بھی نہ پہنچاؤ۔ بہرحال نسخہ حاضر ہے :

صدف سادہ لے کر اس کی سیاہی چاقو سے دور کریں پھر ہاون دستے میں اچھی طرح کوٹ کر سفوف بنا لیں۔ اب ایسی نوجوان گائے جو گابھن نہ ہوئی ہو، اس کے سرین کی ہڈی، جو پنڈلی سے اوپر ہوتی ہے، آری سے کاٹ لیں مگر دائیں طرف کی ہڈی لیں۔ اس ہڈی کا مغز (مخ) نکال لیں۔ اس میں ہم وزن سفوف صدف ملا کر بتیاں سی بنا لیں اور پھر اس آمیزے کو اسی ہڈی میں بھر دیں۔ پھر ہڈی کا جوڑ ملا کر اس پر لوہے کی تار لپیٹ دیں تاکہ وہ الگ نہ ہو۔ اس پر مضبوط قسم کا کپڑا باندھیں، اوپر بان لپیٹیں، چاروں طرف مٹی لگا کر دھوپ میں خشک کریں اور پھر زمین میں گڑھا کھود کر ڈیڑھ من اپلوں کی آگ دیں۔ جب آگ ٹھنڈی ہو جائے تو اسے نکال کر مٹی الگ کریں، کشتہ صدف معہ ہڈی کے نکالیں، کھرل میں بڑی احتیاط سے پیسیں اور شیشی میں بھر کر رکھیں۔ لیکوریا کے لیے ۲ تا ۴ رتی صبح شام نہار منہ مکھن میں لپیٹ کر کھائیں اور ایک ایک پاؤ  دودھ پی لیں۔ سیلان الرحم کی وہ مریضہ جو ہڈیوں کا ڈھانچہ دکھائی دیتی ہو، دو ماہ کے استعمال سے بالکل صحت یاب ہو جائے گی۔

میرے بڑے بھائی ڈاکٹرسعید جو حال ہی میں بھاٹی دربار ہسپتال، لاہور سے بطور ماہر معالج تشخیص سبکدوش ہوئے ہیں، آج سے چونتیس پینتیس سال پہلے ایران کے صوبہ اصفہان میں تعینات تھے۔ انہوں نے والد صاحب سے ذکر کیا کہ سیلان الرحم کا مرض ایران میں زیادہ ہے اور ایلوپیتھی میں اس کا کوئی شافی علاج نہیں۔ والد صاحب نے انہیں یہی دوا دی۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بیسیوں مریضاؤں کو استعمال کروائی، کہیں ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔ میں نے یہ دوا جریان اور احتلام کا شکار مردوں کو بھی استعمال کروائی الحمدللہ کامیابی ہوئی۔

 

)حکیم عبد الوحید سلیمانی اردو ڈائجسٹ اکتوبر ۲۰۰۶ء(

Last Updated : Dec 22, 2012