سنگ پاش

 

یہ اس وقت کی بات ہے جب مشکورہ آفتاب اسلامی جمعیت طالبات کی نظام اعلیٰ تھیں۔ موصوفہ تنظیم کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل اور چودھری نذیر احمد کی صاحبزادی ہیں۔ نذیر صاحب نے اس دور میں ایم اے ریاضی کیا جب بہت کم لوگ یہ ڈگری حاصل کر پاتے تھے۔ انگریز دور میں وہ نائب تحصیلدار بھرتی ہوئے۔ اس وقت بھی باقاعدگی سے نماز ادا کرتے اور تفسیر کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے تھے۔

ایک دن قرآن پاک پڑھتے ہوئے وہ یہ آیات پڑھ رہے تھے :

ترجمہ ’’ جو لوگ اللہ کے حکموں کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، وہی لوگ کافر ہیں، وہی لوگ ظالم ہیں، وہی لوگ فاسق ہیں۔‘‘ تو سوچ میں پڑ گئے۔ اسی سوچ کا نتیجہ نکلا کہ چند دن بعد انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور پھر ساری عمر اسلام کی راہ میں جدوجہد کرتے گزار دی۔

وہ والد گرامی، حکیم محمد عبداللہ کے منہ بولے بھائی تھے۔ اس لحاظ سے مشکورہ آفتاب والد محترم کی بھتیجی ہوئیں۔ ایک دن وہ جہانیاں ہمارے گھر آئیں۔ کچھ عرصہ پہلے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد یونین کے صدر، ڈاکٹر محمد آفتاب خاں سے ان کی شادی ہوئی تھی۔ ان کی بڑی بہن میری بھابی ہیں۔ دونوں بہنیں بیٹھی ہوئی تھیں کہ میرا تذکرہ آ گیا۔

’’اچھے سے اچھے رشتے آئے، لیکن لڑکا انکار کر دیتا ہے۔ کہتا ہے کہ صرف گھرانہ ہی دین دار نہ ہو بلکہ لڑکی خود بھی دین کی سوجھ بوجھ رکھتی ہو تاکہ ہم دونوں مل جل کر دین کی دعوت لوگوں تک پہنچا سکیں۔‘‘

مشکورہ بہن بولیں ’’لڑکے کی بات تو ٹھیک ہے۔‘‘

’’لیکن ایسا رشتہ لائیں کہاں سے؟ دینی گھرانوں سے لڑکی تو آ سکتی ہے لیکن اس کا دینی ذہن ہونا مشکل ہے۔‘‘ بھابی نے کہا۔

’’آپا! یہ بات مجھ پر چھوڑ دیں۔‘‘

میں رشتہ تلاش کرنے کی ذمے داری قبول کرتی ہوں۔‘‘ مشکورہ کہنے لگیں۔

چند دن گزرے تھے کہ ان کا پیغام آیا ’’میں نے لڑکی تلاش کر لی ہے۔ ملتان شہر میں رہائش اور خاکوانی خاندان سے تعلق ہے۔ لڑکی نے ایم اے کر رکھا ہے۔ شکل و صورت، خاندان ہر لحاظ سے معیاری ہے۔ دین سے گہرا شغف ہے۔ درس و تدریس سے تعلق اور مقرر بہت اچھی ہے۔‘‘

میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ ان معلومات کی تصدیق کر کے مجھے اطلاع کریں۔ ہر جگہ سے ’سب اچھا‘ کی رپورٹ ملی، یوں نومبر ۱۹۷۱ء میں اسی لڑکی سے میری شادی ہو گئی۔

شادی کے بعد سسرال میں جن بزرگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سب سے اہم شخصیت عبدالرحمن خاں خاکوانی تھے۔ درمیانہ جسم، ستتر اٹھتر سال عمر، قد کچھ نکلتا ہوا اور با رعب وجیہ چہرہ۔ یہ میرے دادا سسر تھے۔ ملے لیکن کچھ ناگواری سے پھر ان کا یہ تبصرہ بھی مجھ تک پہنچا کہ شہدے مہاجر ہیں (بے چار مہاجر ہیں)۔

بعد میں جب ان سے مسلسل ملاقاتیں ہوئیں تو پتا چلا کہ بہت نفیس آدمی ہیں۔ انگریز دور میں تھانیدار تھے۔ طب سے بھی شُد بُد ہے۔ ایک دن انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو انہی کی زبانی سنیے۔

ایک دفعہ امرتسر تھانے میں بستہ الف کا بدمعاش لایا گیا۔ وہ بہت ہٹا کٹا نوجوان تھا۔ جب اس کی ٹھکائی ہونے لگی، تو چیخ اٹھا اور کہنے لگا ’’تھانیدار صاحب! میرے پاس گردے کی پتھری ختم کرنے کا ایک نسخہ ہے، وہ آپ کو بتا دیتا ہوں۔ مجھے نہ ماریں۔‘‘

میں نے کہا ’’تمہیں کیسے پتا چلا کہ مجھے نسخے جمع کرنے کا شوق ہے؟‘‘

کہنے لگا ’’ہم جرم کی دنیا کے بادشاہ ہیں، اپنے افسروں کی ہر خوبی خامی ہمارے علم میں ہوتی ہے۔‘‘

میں نے سپاہیوں سے کہا ’’اسے ٹکٹکی سے اتار لو۔‘‘

وہ میرے سامنے آیا، تو میں نے اس سے کہا ’’تم میری تحویل میں ہو۔ میں اس وقت ہی تمہیں چھوڑوں گا جب نسخہ آزما کر دیکھ لوں۔‘‘

اس نے مجھے نسخے کے اجزا لکھوائے اور کہا ’’تھانیدارصاحب! میں آپ کو صرف نسخہ ہی نہیں دے رہا بلکہ دوائی اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے دوں گا۔‘‘ غرض دوائیں منگوائی گئیں اور نسخہ تیار کیا گیا۔ بعد ازاں گردے کی پتھری کا ایک مریض ڈھونڈا گیا اور اسے دوا استعمال کروائی گئی۔ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ تین چار دن بعد جب اس کی پتھری نکلی، تو وہ بدمعاش عدالتی فیصلے کے باعث ملزم سے مجرم بن کر جیل جا چکا تھا۔

خاکوانی صاحب نے پھر مجھے کہا ’’بیٹے! مجھے علم ہے کہ تمہیں طب سے دلچسپی ہے لیکن میں تمہاری آزمائش کروں گا۔ اگر پورے اترے تو نسخہ بتاؤں گا ورنہ نہیں۔‘‘

میں نے بھی اصرار مناسب نہ سمجھا۔ کچھ عرصے بعد ایک شادی پر ملاقات ہوئی، تو انہوں نے مختلف امراض کے بارے میں سوال و جواب کیے۔ یوں وقت گزرتا رہا اور وہ نسخہ بتانے سے گریز کرتے رہے۔ ایک دن میں نے ان سے کہہ دیا ’’دادا سائیں! لگتا ہے آپ کو نسخہ یاد نہیں رہا یا آپ میرا امتحان لے رہے ہیں؟‘‘

کہنے لگے ’’میں نسخہ کیسے بھول سکتا ہوں، میں اسے سینکڑوں دفعہ اپنے ہاتھوں بنا چکا ہوں۔ رہی بات امتحان کی، تو ایسی بات بھی نہیں۔ میں نسخہ اپنی بہو یعنی تمہاری ساس کو بتا چکا ہوں، اس نے بھی کئی دفعہ بنا کر آزمایا ہے۔ میں نے اسے کہا ہے کہ اب وہ تم سے دوا بنوائے۔‘‘

میں نے خاکوانی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور گھر آ کر اپنی ساس صاحبہ سے کہا ’’بڑے خان صاحب نے کسی نسخے کے بارے میں بتایا ہے؟‘‘

کہنے لگیں ’’ہاں پتھری دور کرنے والا نسخہ بتایا تھا۔ کل میں تمہیں ادویہ کی چٹ دے دوں گی، بازار سے لے آنا۔ میں تمہارے ہاتھوں سے دوائی تیار کروانا چاہتی ہوں۔‘‘

اگلے دن میں بازار سے اشیا لے آیا اور ساس صاحبہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نسخہ تیار کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نسخہ پہلے بھی کئی بار بنا چکی ہیں، پرانی سے پرانی پتھری اس کے پندرہ دن استعمال سے نکل جاتی ہے۔

جن اجزا سے دوائی تیار کی گئی وہ یہ ہیں :

قلمی شورہ ۱۰۰ گرام۔ بھلانواں ۱۰۰ گرام۔ نوشادر ۵۰ گرام۔ جوکھار اصلی ۵۰ گرام۔ سہاگہ خام ۵۰ گرام۔ حجر الیہود ۵۰ گرام۔ پوست ریٹھہ ایک عدد۔

طرقہ استعمال : سب سے پہلے نوشادر اور سہاگا باریک پیس لیں۔ اس کے بعد حجر الیہود الگ پیسئے۔ ریٹھے کا چھلکا گٹھلی نکال کر اسے بھی الگ پیس لیں۔ اب لوہے کی کڑاہی میں قلمی شورہ ڈال کر تیز آگ جلائیں، قلمی شورہ پانی کی طرح پگھل جائے گا۔ اس میں تین چار ثابت بھلانواں ڈال دیں۔ ان کے ڈالتے ہی کڑاہی میں آگ لگ جائے گی۔

پھر نوشادر ڈال کر مزید تین چار بھلانواں ڈال دیں، پھر آگ بھڑکے گی۔ اس کے بعد جوکھار ڈالیں اور پھر تین چار بھلانواں ڈالیں، پھر سہاگہ ڈال دیں اور تین بھلانواں، بھلانواں ختم ہو جائیں اور دوا پانی کی طرح زردی مائل ہو جائے، تو آگ سے اتار لیں۔

جب دوا خشک ہو چکے، تو کڑاہی سے کھرچ کر باریک پیس لیں۔ سفید رنگ کی دوا تیار ہو گی، اسے حفاظت سے رکھ لیں۔ صبح، دوپہر اور شام کھانے کے ایک گھنٹے بعد چٹکی بھر (۴ رتی) پانی کے ساتھ استعمال کریں۔ ان شاء اللہ ہٹیلی سے ہٹیلی پتھری خارج ہو جائے گی۔ زیادہ سے زیادہ دو ہفتے استعمال کافی ہے۔ میں نے اس دوا کو بنایا اور مفید پایا۔

ایک دن ابا جان کو یہ نسخہ دکھلایا اور اس کے فوائد سے آگاہ کیا۔ وہ نسخہ دیکھ کر بہت ہنسے اور کہنے لگے ’’پتھری کے اخراج کے علاوہ بھی دیگر فوائد انہوں نے بتلائے؟‘‘

میں نے کہا ’’نہیں تو، انہیں اسی فائدے کا علم تھا۔‘‘

کہنے لگے ’’یہ طب کا معروف نسخہ ہے۔ میں نے اپنی کتاب کنزالمجربات جلد سوم کے باب طبی صندوقچہ میں اسے امروسیا کے نام سے درج کیا ہے۔ یہ گردے کی پتھری کے علاوہ ورمِ رحم، ہسٹیریا اور دردِ گردہ میں بھی مفید ہے۔‘‘ وبائی امراض دور کرنے کے لیے دو رتی تازہ پانی میں حل کر کے استعمال کریں۔ معدے کی کمزوری اور دستوں کے لیے بھی اتنی ہی مقدار میں دوا لیں۔ یہ نسخہ جگر اورتلی کے ورم بھی تحلیل کرتا ہے۔

میں نے اس نسخے کا نام ’’سنگ پاش‘‘ رکھا ہے۔ تجربات سے معلوم ہوا کہ واقعی یہ پتھری پاش پاش کر دیتا ہے۔ والد صاحب نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا ’’بیشتر نسخے کتابوں میں درج بھی ہوتے ہیں لیکن کئی لوگ نسخے چھپاتے ہیں، یہ اچھا عمل ہرگز نہیں۔ بہرحال بیشتر امراض میں یہ دوا مفید ثابت ہوئی۔ آپ بھی یہ دوا بنائیے اور اس کے معجز اثر فوائد سے بہرہ مند ہوں۔

 

)حکیم عبد الوحید سلیمانی اردو ڈائجسٹ فروری ۲۰۰۷ء(

Last Updated : Dec 22, 2012