موٹاپا اور تین چ

 

حکیم نوید احمد شیخ آج کل گوجرانوالہ میں مقیم ہیں، پہلے نوشہرہ ورقاں میں مطب کرتے تھے۔ میرے ساتھ ان کا تعلق اس وقت سے ہے جب وہ طبیہ کالج میں پڑھتے تھے۔ جب پڑھائی سے فارغ ہوئے تو مجھے کہنے لگے ’’میں طب کی تربیت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ گوجرانوالہ یا اس کے قرب و جوار میں کسی حکیم کے پاس بھیج دیجیے۔‘‘

’’میں نے پوچھا آپ گجرات جا سکیں گے؟‘‘

کہنے لگے ’’کیوں نہیں، وہ تو ہمارے قریب ہی ہے۔‘‘

میں نے انہیں ایک رقعہ دے کر حکیم محمد نعیم صاحب، طبیب حاذق کے پاس بھیج دیا۔ حکیم نعیم، ان کے والد گرامی اور ان کے دادا جان محترم سب سے میرا تعلق رہا ہے۔ علمی ذوق، طب سے گہرا شغف اور نفیس مزاج کے مالک ہیں۔ حکیم نوید کچھ عرصہ ان کے پاس طب کی تعلیم حاصل کر کے آئے تو اچھے خاصے منجھ چکے تھے۔ اپنے مطب کے لیے ہر ماہ ہزار روپے کی ادویہ مجھ سے خرید کر لے جانے لگے۔

خوش مزاج، خوش شکل، چھوٹی چھوٹی داڑھی اور درمیانہ جسم … وقت گزرتا گیا اور حکیم نوید کی شادی ہو گئی۔ طبیعت میں کچھ کسل مندی تھی لہٰذا کچھ عرصہ بعد ان کا جسم موٹا ہونا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ گوشت کا پہاڑ بن گئے۔ ایک دن ملاقات ہوئی، تو میں نے ان سے کہا ’’حکیم صاحب! آپ ورزش نہیں کرتے کیا؟‘‘

کہنے لگے ’’مطب سے وقت ہی نہیں ملتا۔‘‘

میں نے کہا ’’اس طرح تو آپ بہت زیادہ موٹے ہو جائیں گے۔‘‘ پھر میں نے پوچھا ’’آپ نے کبھی اپنا وزن معلوم کیا ہے۔‘‘

کہنے لگے نہیں۔

میں نے کہا ’’اگلی دفعہ جب آپ آئیں تو اپنا وزن کر کے آئیں۔‘‘

انہوں نے اچھا کہا اور چلے آگئے۔ تقریباً ایک ماہ بعد دوبارہ تشریف لائے۔ میں نے پوچھا، شیخ صاحب وزن کیا؟‘‘

شرما گئے، کہنے لگے ’’میرا وزن ۱۲۰ کلو ہے۔ اب تو مجھے چلنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔‘‘

میں نے کہا ’’دوائی چاہتے ہیں یا غذائی علاج؟‘‘

کہنے لگے ’’سر دست کوئی پرہیزی علاج بتا دیں۔‘‘

میں نے کہا ’’حکیم صاحب! آپ تو جانتے ہی ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ پرہیز پوری پابندی سے کرنا ہو گا۔ اگر کسی قسم کی بدپرہیزی ہو گئی تو فائدہ نہیں ہو گا۔‘‘

انہوں نے وعدہ کیا’’میں پرہیز کروں گا، کسی قسم کی بے اعتدالی نہیں کروں گا اور ایک ماہ کے بعد آپ کو رپورٹ دوں گا۔‘‘

میں تاکید کرتے ہوئے بولا ’’نوید صاحب آپ کو تین ’چ‘ سے بچنا ہو گا۔‘‘

کہنے لگے ’’میں سمجھا نہیں، تین چ سے آپ کی کیا مراد ہے؟‘‘

میں نے کہا ’’چینی، چاول اور چکنائی … تینوں چ سے شروع ہوتے ہیں۔ انہیں یک قلم موقوف کر دیں۔ چینی کی جگہ شہد استعمال کریں، شہد جسم سے چربی اور چربیلے مادے دور کرتا ہے۔ چاول کسی بھی شکل میں استعمال نہ کریں، نہ پھیکے نہ میٹھے اور نہ نمکین۔ چکنائی میں اتنی رعایت ہے کہ مکئی کا تیل، سورج مکھی کا تیل اور روغن زیتون تھوڑی مقدار میں استعمال کر سکتے ہیں۔ ان تینوں تیلوں میں کولیسٹرول کم مقدار میں ہوتا ہے۔

میں نے انھیں دوسری ہدایت یہ دی کہ روزانہ فجر کے بعد ۴ کلومیٹر پیدل چلیں۔ انہوں نے منصوبے پر عمل کرنے کا وعدہ کیا اور چلے گئے۔ ٹھیک ایک ماہ بعد دوبارہ آئے، کہنے لگے ’’حکیم صاحب! چینی اور چکنائی تو مکمل طور پر چھوڑ دی لیکن میں گوجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہوں، چاول نہیں چھوڑ سکتا، دوسری بات یہ کہ پیدل چند دن تو چلا لیکن مستقلاً ایسا نہ کر سکا۔

میں نے پوچھا ’’وزن میں کچھ کمی ہوئی؟‘‘

کہنے لگے ’’ایک مہینے میں میرا وزن ۱۲ کلو کم ہو گیا۔ پہلے ۱۲۰ کلو تھا، اب ۱۰۸ رہ گیا۔‘‘

میں نے کہا ’’اسے منصوبے کو جاری رکھیے۔ چاول بھی مکمل بند اور ۴ کلومیٹر چلنے پر بھی روزانہ عمل کیجیے۔‘‘

انہوں نے وعدہ کر لیا اور چلے گئے۔ دو ماہ مزید گزرنے کے بعد وہ میرے پاس آئے۔ میں نے پوچھا ’’شیخ صاحب کیا صورت حال ہے؟‘‘

کہنے لگے ’’بہت فٹ ہوں، آپ کو کیسا نظر آ رہا ہوں؟‘‘

میں نے کہا ’’اب تو آپ بہت ’سمارٹ‘ نظر آ رہے ہیں۔‘‘

کہنے لگے ’’دو ماہ میں میرا ۲۴ کلو وزن کم ہو گیا ہے۔ اب میرا وزن ۸۴ کلو ہے۔ چاول چھوڑنا اگرچہ بہت مشکل کام تھا لیکن میں نے دل پر جبر کر کے چھوڑ دیے۔ پیدل چلنا شروع شروع میں تو مشکل لگا لیکن پھر میں اس کا عادی ہو گیا۔‘‘

حکیم نوید احمد صاحب سے اب بھی ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ ابھی پچھلے ماہ ملاقات ہوئی تو کہنے لگے ’’گزشتہ تین برس میں تقریباً ٹھیک ہی رہا ہوں۔ اگرچہ مہینے میں ایک دوبار چاول کھا لیتا ہوں لیکن وزن کبھی ۸۳/۸۲ کلو سے نہیں پڑھا۔ میں اللہ کا شکر گزار اور آپ کے لیے دعا گو ہوں جنہوں نے صرف پرہیز کے ذریعے میرا وزن کم کر دیا۔‘‘

اس کے بعد میں نے اسی منصوبے کے مطابق بے شمار لوگوں کو پرہیز کروایا۔ جنہوں نے مکمل پرہیز کیا، انہیں تو یہی فوائد حاصل ہوئے، لیکن جو وعدہ کر گئے اور صحیح معنوں میں عمل نہیں کر سکے، ان کے وزن میں کمی تو ہوئی، لیکن خاطر خواہ نہیں۔

بعد ازاں اس پرہیز کے ساتھ میں نے دو دوائیں بھی شروع کروا دیں۔ اس میں ایک تو عرق مہزل ہے جو موٹاپا دور کرتی ہے اور دوسری اکسیر گوکھرو ہے۔ اکسیر گوکھرو میں نے پرانے بخار، رحم کی رسولی، گلٹی اور چھاتی کے سرطان کے لیے تیار کیا تھا مگر یہ موٹاپا دور کرنے میں بھی مفید ثابت ہوئی۔ اکسیر گوکھرو کا نسخہ درج ذیل ہے :

مصبر ۱۰۰ گرام۔ سمبلو ۱۰۰ گرام۔ شاہترہ ۱۰۰ گرام۔ کٹکی ۲۰۰ گرام۔ کنڈیاری ۲۰۰ گرام۔ دھمانسہ ۲۰۰ گرام۔ ہلدی ۲۰۰ گرام اور گوکھرو ۲۰۰ گرام۔

یہ سب اشیاء کو کوٹ کر باہم ملا لیں اور کپڑے سے چھان کر چار رتی کے کیپسول بھر لیں۔ صبح و شام نہار منہ ایک کیپسول عرق مہزل نصف پیالی کے ساتھ لیں۔ عرق مہزل بنانے کا نسخہ بھی درج ذیل ہے :

سونف، سوئے ریٹھہ کا چھلکا، ادرک، پودینہ، اجوائن ہر ایک ۲۵۰ گرام، املتاس ۷۵۰ گرام۔ ان سب کو ۱۸ کلو پانی میں بھگو کر رات کو رکھ دیں ور ان میں سے ۱۰ کلو عرق کشیر کریں۔ اگر عرق نہ کشید کر سکیں تو املتاس ۱۵ گرام اور باقی اشیاء پانچ پانچ گرام ۳ پاؤ  پانی میں بھگو کر رات کو رکھ دیں اور آگ پر گرم کریں۔ جب پانی ڈیڑھ پاؤ  رہ جائے، تو صبح و شام ایک پیالی استعمال کریں۔

یہ ادویہ تین ماہ مسلسل استعمال کرنی ہیں۔ بفضل خدا موٹاپے سے نجات مل جائے گی۔ میں نے ایک صاحب تصنیف دوست کو ۳ چ کا نسخہ بتایا۔ انہو نے ایک اور ’چ‘ یعنی چٹخارے دار چیزیں شامل کر کے اسے اپنی نئی کتاب میں شامل کر لیا۔

 

)حکیم عبد الوحید سلیمانی اردو ڈائجسٹ اپریل ۲۰۰۷ء(

Last Updated : Dec 22, 2012