شہد کے خواص

 

اور دیکھو تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کر دی کہ پہاڑوں اور درختوں میں، اور ٹیلوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں، اپنے چھتے بنا اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے۔ یقینا اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ (النحل : ۶۸۔ ۶۹)

 شہد قدرت کی طرف سے انسان کے لیے ایک شاندار تحفہ ہے۔ اس میں منفرد قسم کی حیرت انگیز غذائی اور طبی خوبیاں ہیں۔ یہ ایک لیس دار اور میٹھا نیم شفاف سیال ہے جس کا رنگ زردی مائل بھورا ہوتا ہے۔ ترشی مائل شیریں ذائقہ رکھتا ہے۔ کچھ دیر پڑا رہنے کے بعد یہ غیر شفاف اور بلوری ہو جاتا ہے۔ صرف شہد کی مکھیاں ہی شہد اور شہد کا چھتا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ شہد میں پائی جانے والی شکرین، کلوکوز (Glucose) اور سکروز (Succrose) پر مشتمل ہوتی ہیں۔ گلوکوز شکروں میں سب سے سادہ ہے۔ یہ زندہ حیوانوں کے خون میں اور پھلوں و سبزیوں میں پائی جاتی ہے۔ سکروز ایک چپکنے والا مادہ ہوتا ہے شہد میں بہت کم مقدار میں ہوتا ہے لیکن اس کی موجودگی شہد کو قابل ہضم بناتی ہے۔ شیخ الرئیس بو علی سینا کے مطابق شہد ایک قسم کی شبنم خفی ہے جو پھولوں و دوسرے نباتات پر گرتی ہے۔ اسے ایک خاص قسم کی نیش دار مکھی چوس کر اپنے چھتے میں کھانے کے واسطے جمع کرتی ہے۔

مختلف پھلوں اور پودوں سے حاصل ہونے والا شہد مختلف ہوتا ہے۔ اس میں شہد کی مکھی کو بھی دخل حاصل ہے۔ مکھی کے چوسنے کی وجہ سے اس میں گرمی، جلا اور نفخ زیادہ ہو جاتا ہے۔ جو شہد چھتے سے ٹپک کر نکلتا ہے وہ بہتر ہوتا ہے اور جو نچوڑنے سے حاصل ہوتا ہے، اس میں موم وغیرہ ملا رہنے سے اچھا نہیں ہوتا۔ بہترین شہد کی پہچان یہ ہے کہ وہ سرک، شفاف، گاڑھا خوش مزہ اور نہایت میٹھا ہوتا ہے۔ اس میں موم قطعی نہیں ہوتا اور دو انگلیوں کے درمیان لگانے سے تار بندھ جاتا ہے۔ یہ بطور دواء عام مستعمل ہے۔ دوسرا نمبر سفید رنگ کے شہد کا ہے یہ کھانے کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ سبز و سیاہ اور ایک سال سے زائد کا پرانا اور تیز و تلخ اور ترش، بدبودار، بہت رقیق اور بے حد خشک شہد بھی استعمال کے لیے ٹھیک نہیں۔ پرانا اور خراب شہد مضر صحت ہے اور جنون و سوداوی امراض پیدا کرتا ہے۔ کوئی چیز شہد میں رکھنے سے خراب نہیں ہوتی۔ اگر کوئی مردہ جسم شہد میں ڈبو کر رکھ دیا جائے تو کبھی خراب نہ ہو گا۔ تر میرے بھی اگر شہد میں رکھ دیے جائیں تو چھ ماہ تک خراب نہیں ہوتے نیز گوشت تین مہینہ تک خراب نہیں ہوتا۔ اطبا ءنے اس کی چار قسمیں بتائی ہیں۔

۱۔         تیل کے رنگ کا یعنی سنہری جو مزاجاً سرد و خشک ہے۔

۲۔         روغن زرد جیسے رنگ کا یہ گرم خشک و سبک ہے۔

۳۔        سفید و شفاف جسے بھرا مر کہتے ہیں۔

۴۔        سیاہ جسے لوہے کے رنگ پر ماچھک نام دیا گیا ہے۔

تازہ شہد دوسرے درجہ میں گرم اور پہلے میں خشک ہوتا ہے۔

ایک دفعہ میرے ایک دوست نے نومبر کے مہینے میں تازہ آم کھلا کر مجھے حیران کر دیا۔ میرے استفسار پر انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ آموں کے موسم میں خوب پکے ہوئے آم شہد میں ڈبو کر محفوظ کر لیتے اور بعد ازاں حسب ضرورت نکال کر استعمال کرتے ہیں۔ شہد میں رکھے رہنے سے آم محفوظ رہتے ہیں اور ان کے خواص میں بھی فرق نہیں پرتا۔

یہ تو شہد کا ایک معمولی سا کرشمہ تھا۔ قدیم مصریوں نے یہ راز بہت پہلے پا لیا تھا اور وہ شہد حنوط شدہ لاشیں محفوظ کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے۔ لیکن آج کے دور میں خالص شہد کا ملنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ہمارے ایک تیز طرار عزیز پنسار کی دکان کرتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک صاحب شہد بیچتے بیچتے ان کے پاس پہنچ گئے۔ بیچنے والے نے بے ساختہ شہد دیکھا چکھا اور اس سے پوچھا کہ شہد چینی کا بنا ہوا ہے یا گڑ کا۔ انہوں نے جواب دیا چینی کا۔ پھر انہیں خیال آیا کہ میں کیا کہہ بیٹھا ہوں۔ اسی وقت وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئے اور آوازیں دینے پر بھی رکے نہیں۔

پاکستان میں تین چیزوں کو جب تک اپنی آنکھوں کے سامنے حاصل نہ کیا جائے ان کے خالص ہونے پر اعتبار نہیں آتا یعنی دودھ، گھی اور شہد۔ پاکستان میں جتنا شہد مکھیوں سے حاصل ہوتا ہے یا باہر سے برآمد کیا جاتا ہے اس سے کم از کم سو گنا مارکیٹ میں فروخت ہوتا ہے اور یہ سب کا سب مصنوعی ہوتا ہے۔ اصلی شہد کی پہچان کے جتنے گر کتابوں میں موجود ہیں جعلسازوں نے ان سب کا توڑ کر لیا ہے۔ اب میرے علم کی حد تک صرف تین طریقے رہ گئے ہیں جن سے شہد کی پہچان کی جا سکتی ہے۔

(۱)        نمک کی ڈلی شہد میں گھمائیں۔ آپ جتنی دیر چاہے نمک حل کر لیں شہد میں نمک کا ذائقہ نہیں آئے گا۔

(۲)       ان بجھے چونے کی ایک چھوٹی سی ڈلی لے کر اسے تھوڑے سے شہد میں ڈبو دیں۔ اگر چونا ویسے ہی پڑا رہے تو شہد خالص ہے۔ اگر اس میں سے چڑ چڑ کی آواز آئے یا دھواں نکلے تو خالص نہیں ہے۔

(۳)       شہد کے خالص ہونے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو خالص شہد استعمال کرائیں تو ان کی شوگر نہیں بڑھتی۔

حضرت ابوہریرہؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ جو شخص مہینے میں صبح تین دن شہد چاٹ لے اس کو اس مہینے میں کوئی بڑی بیماری لاحق نہ ہو گی۔

شہد کی افادیت کا علم آپ کو اس بات سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے شہد، دودھ اور شراب الصالحین کی نہریں بنائی ہیں۔

حضرت ابوسعید خدریؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا ’’حضورصلی اللہ علیہ وسلم! میرے بھائی کو دست لگے ہوئے ہیں، کوئی علاج تجویز فرمائیے۔‘‘

آپؐ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ۔

وہ چلا گیا۔ اگلے روز پھر آیا اور کہنے لگا حضورؐ! میں نے اسے شہد پلایا مگر افاقہ نہ ہوا۔ آپؐ نے فرمایا اسے پھر شہد پلاؤ۔ تین چار دفعہ ایسا ہی ہوا۔ آپ ؐنے فرمایا  اللہ کا فرمان سچا ہے، تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ شہد میں ہر جسمانی اور روحانی مرض کے لیے شفا ہے۔ اس لیے اے لوگو! تم قرآن مجید اور شہد دونوں کو تھامے رکھو۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ قرآن و حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے شہد سے ہر مرض کا علاج کرتے تھے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شہد کے شفا بخش ہونے میں تو بقول قرآن و حدیث کوئی شک نہیں ہے لیکن یہ گرم مزاجوں کو موافق نہیں۔ اس لیے جب کسی گرم مزاج والے کو شہد استعمال کرائیں تو اس میں ٹھنڈی ادویہ کا اضافہ کر کے اس کی تعدیل کر لیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ شہد ملا پانی استعمال کرنے سے فائدہ بڑھ جاتا ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں اس کی ایک صفت یہ بیان کی ہے کہ یہ دوسری چیزوں کو اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔ جن دنوں میں بی فارمیسی کر رہا تھا، ہمارے ساتھ ایک طالب علم تھے جنہوں نے امتحان دے دیا تھا اور دو تین جگہ ملازمت کر کے چھوڑ چکے تھے۔ ایک دن وہ مجھے ملے اور کہنے لگا کہ میں مختلف جگہوں پر ملازمت کی لیکن اس لیے چھوڑ دی کہ ہر جگہ انگریزی دوا سازی میں شراب استعمال ہوتی ہے۔ میں نے اپنے ملنے والے کے ایک یونانی ادارے کا پتا بتایا اور کہا کہ وہاں چلے جائیں لیکن چند دن گزرنے کے بعد وہ وہاں سے بھی واپس آ گئے کہ معاملہ وہی ٹھہرا۔ پھر مجھے کہنے لگے کہ مجھے مولانا مودودیؒ سے ملواؤ  میں ان سے اس مسئلے کا حل معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ اسی شام میں انہیں مولانا کے پاس لے گیا۔ انہوں نے مولانا سے اپنی الجھن کا ذکر کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ الکحل کا متبادل شہد ہے یا عرق گلاب۔ آپ کسی جگہ ملازمت نہ کریں بلکہ اپنا کام شروع کریں۔ انہوں نے اس کے بعد دوا سازی کا کام شروع کر دیا اور اب بہت مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔

شہد بچے کی پیدائش سے لے کر مرتے دم تک استعمال کرایا جاتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو گھٹی کے طور پر اسے شہد چٹایا جاتا ہے اور جب مریض قریب المرگ ہوتا ہے تب بھی حکیم جان بہ لب مریض کے لیے شہد ہی تجویز کرتا ہے۔ اس لحاظ سے شہد اولین غذا ہے اور آخری بھی …

لندن کے عجائب گھر میں فرعون کی لاش پر شہد کی مکھی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ سکندر اعظم کے زمانے میں لوگ شہد کے علاوہ کسی میٹھی چیز کے ذائقے سے متعارف نہ تھے۔

شہد مقوی اعضائے رئیسہ ہے۔، دل، دماغ معدہ اور جگر کو طاقت بخشتا نیز قوت مردمی بڑھاتا ہے۔ اگر اس کو دودھ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ مادہ منویہ پیدا کرتا ہے۔ مصفی خون ہے اور مولد خون بھی۔ آنکھوں کی بینائی تیز کرنے کے لیے آنکھوں میں لگایا جاتا ہے۔

شہد زخموں کو صاف اور مندمل کرتا ہے۔ ورموں کو پکاتا ہے اور پھوڑتا ہے۔ شہد اور مچلی کی چربی ہم وزن ملانے سے بہترین قسم کا مرہم تیار ہوتا ہے۔ شہد اور کلیجی کو ملا کر مرہم تیار کریں تو پھوڑے پھنسیوں اور زخموں کے لیے بے حد مفید ہے۔

اگرچہ شہد تقریباً ہر مرض کے لیے مفید ہے مگر ذیل میں اس کے چیدہ چیدہ فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔

درد شقیقہ

یہ درد سر کے نصف حصہ میں ہوتا ہے۔ جو جوں سورج طلوع ہوتا ہے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ غروب آفتاب کے وقت درد ختم ہو جاتا ہے۔ مریض کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سر ہتھوڑے سے توڑا جا رہا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس حصہ میں درد ہو اس کے مخالف سمت کے نتھنے میں ایک بوند شہد ڈالیں ان شاء اللہ فوراً افاقہ ہو گا۔

تھکن

دماغی اور جسمانی محنت سے بدن تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک گلاس گرم پانی میں دو بڑے چمچ شہد ملا کر پئیں، جسم ہشاش بشاش ہو جائے گا۔

فالج اور لقوہ

شہد خالص، ادرک کا پانی، پیاز کا پانی ایک یاک پاؤ لے کر بوتل میں ڈالیں۔ بوتل کا چوتھا حصہ خالی رہے۔ تین دن رکھنے کے بعد چھ چھ ماشہ روزانہ صبح استعمال کریں اور چار تولہ تک لے جائیں۔ ان شاء اللہ دونوں امراض سے نجات مل جائے گی۔

یاد داشت

طالب علموں، اساتذہ، وکلا اور علماء کے لیے یہ معجون بہت مفید ہے۔

مال کنگنی مقشر (چھلی ہوئی) ۱۴ تولہ، دار فلفل ۱۰ تولہ، سونٹھ دس تولہ، عاقرقرحا چار تولہ، ان سب چیزوں کو پیس کر گائے کے گھی میں لت پت کریں اور دو گنا شہد ملا کر معجون بنائیں اور ایک تا دو چمچ صبح نہار منہ دودھ سے لیں۔ ان شاء اللہ یاد داشت تیز ہو جائے گی اور بچن کی بھولی ہوئی باتیں بھی یاد آنے لگیں گی۔

کان بجنا

بعض مریضوں کے کانوں کے اندر باجے سے بجتے محسوس ہوتے ہیں اور بھن بھن کی آواز آتی ہے اس کے لیے چھ ماشہ شہد (ایک چھوٹی چمچ) میں چار رتی قلمی شورہ حل کر کے تھوڑے سے گرم پانی میں حل کر کے ۲۔۳ قطرے کانوں میں ٹپکائیں۔ ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔

دانتوں کی مضبوطی

شہد کو سرکے میں ملا کر کلیاں کرنے سے دانت مضبوط ہو جاتے ہیں۔

منہ کے زخم اور زبان پھٹنا

شہد ۷ تولہ، سہاگہ ایک تولہ، گلیسرین چھ ماشہ بوقت ضرورت منہ کے زخموں اور پھٹی ہوئی زبان پر لگائیں۔ چند دنوں میں فائدہ ہو گا۔

عرق النساء

میرے بہت اچھے دوست قاری فصیح الدین عرق النساء کے دردوں کے لیے سملو، چاکسو، سونٹھ، مرچ سیاہ ۵۔۵ تولہ میں ایک کلو شہد خالص ملا کر صبح دوپہر شام دو دو چھوٹے چمچے کھلاتے ہیں۔ چند دنوں میں مرض رفع ہو جاتا ہے۔ مولانا عبدالرشید اصغر کھڈیاں کے نامور عالم ہیں۔ انہیں طب سے بھی شغف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مکئی کے بھٹے سے دانے اتار کر جلائیں اور دو گنا شہد ملا کر صبح دوپہر شام لیں، پرانی سے پرانی ہچکی تین دن میں دور ہو جائے گی۔

امراض قلب

دل کے امراض کے لیے آب ادرک ۲۰ تولہ، شہد ۲۰ تولہ، لہسن ۲۰ تولہ کوٹ کر ان سب کو ملا لیں اور آگ پر جوش دیں۔ صبح دوپہر شام کھانے کے بعد ایک ایک چمچ لیں۔ دل کی اگر تین شریانیں بھی بند ہوں تو اس کے استعمال سے کھل جاتی ہیں۔

دل کے لیے دوسرا مفید نسخہ یہ ہے کہ ادرک کا پانی دس قطرے، لہسن کا پانی ۱۰ قطرے، سفید پیاز کا پانی ۱۰ قطرے، شہد آدھی چمچی ان سب کو ملا کر صبح و شام لیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کافی ہے۔

پیشاب کی رکاوٹ

پیشاب کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے دو چھوٹے چمچے شہد ایک پیالی پانی میں حل کریں اور چار ماشہ سرد چینی شامل کر کے استعمال کرائیں۔ ان شاء اللہ فوراً پیشاب جاری ہو گا۔

شوگر کے علاج میں میٹھا منع ہے مگر شہد اگر خالص دستیاب ہو جائے تو صبح دوپہر شام ایک ایک چمچ میں چار چار رتی سلاجیت ملا کر استعمال کریں۔ اس سے شوگر اعتدال پر آ جائے گی۔

موٹاپا

موٹاپا بہت خطرناک مرض ہے۔ اس سے نجات کے لیے چینی، چاول اور چکنائی سے پرہیز کریں اور ۲۵ تولہ شہد، ایک تولہ ان بجھا چونا کھرل کر کے کپڑے میں سے گزاریں اور روزانہ صبح شام چھ چھ ماشہ استعمال کریں۔اس کے مسلسل استعمال سے موٹاپا دور ہو جائے گا۔

دیگر امراض

بولی تیزاب (Uric Acid) دور کرنے کے لیے صبح شام ایک چمچ شہد استعمال کریں۔ بولی تیزاب بدن سے خارج ہو جائے گا۔

اگر کسی شخص کا مادہ تولید کمزور ہو، لذت مباشرت سے محروم ہو تو گرم دودھ میں شہد ملا کر رات کو پینے سے قوت بحال ہو جائے گی اور پشت میں طاقت آ جائے گی۔

سفید پیاز کا پانی ایک پاؤ، شہد خالص تین پاؤ  ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں، جب پانی خشک ہو جائے اور صرف شہد باقی رہ جائے تو صبح نہار منہ اور رات سوتے وقت ایک ایک بڑی چمچ شہد استعمال کرے۔ فائدے خود ہی ظاہر ہو جائیں گے۔

جن خواتین کا رحم کمزور ہو اور اس وجہ سے حمل نہ ٹھہرتا ہو وہ اسگندھ ۲ تولہ آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ جب آدھ پاؤ  رہ جائے تو ۲ تولہ شہد ایک تولہ گائے کا گھی، گائے کا دودھ پانچ تولہ اور مصری ایک تولہ ملا کر بوقت عصر نوش فرمائیں۔ یہ دوا حیض سے فارغ ہو کر ایک ہفتہ استعمال کریں۔ ان شاء اللہ حمل قرار پا جائے گا۔

بچوں کی اکثر امراص میں شہد مفید ہے۔ لذیذ ہونے کی وجہ سے بچے اسے شوق سے بھی کھاتے ہیں۔ بچوں کا وزن بڑھانے کے لیے شہد استعمال کرائیں۔

آگ سے جلے ہوئے مریض بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ جلی ہوئی جگہ پر شہد لگائیں تو زخم ہی ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ نشان بھی نہیں رہتا۔ ایک دفعہ ایک مزدور تیل کے بھرے ہوئے کڑاہے میں گر پڑا۔ پورا جسم جل گیا۔ پاس ہی شہد کے بھرے ہوئے تین چار کنستر پڑے تھے۔ مالکان نے فورا اس پر شہد کے کستر انڈیل دیے۔ کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آیا۔ ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے کہا اس کے جسم پر نہ زخم کے نشان ہیں نہ جلے کے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ جلے ہوئے مقام پر شہد لگانے سے مکمل فائدہ ہو جاتا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہد، حلوہ اور گوشت پسند فرماتے تھے اور آپؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ یہ بہترین غذا ہے۔

اگر کسی چیز کو شہد میں بھگو کر رکھیں تو وہ خراب نہیں ہو گی، خواہ کوئی پھل ہو، سبزی ہو یا گوشت حتیٰ کہ اگر کسی لاش کو خراب ہونے سے بچانا ہو تو اس کو بھی شہد لیپ کر رکھنا مفید ہے۔ اگر کسی زچہ خاتون کو دودھ کم اترتا ہو یا حیض تنگی سے آتا ہو تو صبح شام دو دو چمچ شہد کھانے سے مرض چلی جائے گی۔ شہد کے اتنے فائدے ہیں کہ شمار نہیں کیے جا سکتے۔ میں نے چند امراض اور ان کے فوائد کا ذکر کیا ہے۔ اگر اللہ نے زندگی رکھی تو مزید فوائد پھر کبھی بیان کیے جائیں گے۔

Last Updated : Dec 22, 2012