بلند فشار خون اور اس کا علاج

 

میٹرک کا امتحان میں نے ۱۹۶۱ء میں این اے سی ہائی سکول جہانیاں سے دیا اور طبیہ کالج میں داخل ہو گیا۔ جس وقت میرا داخلہ ہوا، اس سے ایک ہفتہ قبل پڑھائی شروع ہو چکی تھی۔ ہم ابھی جماعت میں آ کے بیٹھے ہی تھے کہ ایک پروفیسر صاحب تشریف لے آئے۔ انہوں نے آتے ہی سوال کیا کہ ضغطتہ الدم کیا ہوتا ہے۔ میں چکرا گیا۔ یہ گاڑھی گاڑھی عربی کا ثقیل سا لفظ میرے لیے بالکل اجنبی تھا۔ میں نے یوں ہی جماعت میں دیکھنا شروع کر دیا۔ انہوں نے عقابی نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور کہا ’’تم رول نمبر ۲۶ بتاؤ  ضغطتہ الدم کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’ جناب! مجھے تو بالکل معلوم نہیں، میں نے یہ لفظ پہلی بار سنا ہے۔‘‘ انہوں نے ایک لمبی ساری ’ہوں‘ کی اور مجھ سے کہنے لگے کہ میں نے کل تفصیل سے یہ سب کچھ پڑھایا تھا، تمہیں کیوں معلوم نہیں؟ میں نے عرض کیا ’’ـجناب! اس لیے کہ میں آج پہلی دفعہ جماعت میں آیا ہوں۔‘‘ اس پر وہ خاموش ہو گئے اور کہا کہ اس سے پہلے جو نوٹس میں نے لکھوائے ہیں ان پر ایک نظر ڈال لینا۔ میں نے ضغطتہ الدم کے بارے میں پڑھا، لکھا تھا ’’قلب کے فعل میں افراط و تفریط اور کمزوری سے دورانِ خون میں جو رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کا نام ضغطتہ الدم ہے۔ اسے فشار الدم اور فشار خون کہتے ہیں۔ انگریزی میں اسے بلڈپریشر کہتے ہیں۔‘‘ بلڈ پریشر اگرچہ انگریزی کا لفظ ہے لیکن بچے بچے کی زبان پر چڑھ گیا ہے اور ضغطتہ الدم متروک ہو گیا ہے۔ اسے اب بعض اطباء بھی نہیں سمجھتے۔

پاکستان میں تقریباً  بیس فیصد افراد بلند فشار خون کے مریض ہیں۔ کم عمری میں ہونے والی اموات کا ۴۰ فیصد بلند فشارِ خون ہی کی وجہ سے ہے۔ امراض قلب کا زیادہ تر سبب بھی بلند فشار خون ہے۔ اگر اس مرض کا علاج نہ کیا جائے تو دماغ کی شریان پھٹ سکتی ہے، گردے ناکارہ ہو سکتے ہیں یا حرکت قلب بند ہو سکتی ہے۔

بلند فشار خون کا سبب عموماً خاندانی ہوتا ہے۔ اگر آپ موٹاپے اور ذہنی دباؤ  کے شکار ہیں، نمک زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں یا کام کی زیادتی کے شکار ہیں تو آپ کا فشار خون بڑھ سکتا ہے۔ اگر بلند فشار خون کا مریض تمباکو نوشی کرتا ہو تو دوسرے مریضوں کی نسبت اسے دل کے دورہ کی کیفیت دس گنا بڑھ سکتی ہے۔ بلند فشار خون کا مریض انجائنا  کا  بھی شکار ہو سکتا ہے۔

جسمانی اور نفسیاتی دباؤ  کے نتیجے میں، کاروباری مصروفیات کی بنا پر اور غصے کی حالت میں عموماً ہمارا فشار خون بڑھ جاتا ہے لیکن نیند کی حالت میں ہمارا فشار خون کم ہو جاتا ہے۔ اسے اگر نیند کی حالت میں معلوم کیا جائے تو یہ کم سے کم ہوتا ہے۔ ایک عام شخص کا فشار خون رات کو آرام کی حالت میں ۹۵/۶۰۔ صبح اٹھنے کے بعد دوپہر سے پہلے پہل ۱۳۵/۸۰ اور شام کو ۱۵۰/۹۰ ہوتا ہے۔

دنیا بھر کے ڈاکٹروں نے ایک فارمولا وضع کیا ہے جس سے حاصل کردہ فشار خون اوپری سطح تک اسی کے برابر ہونا چاہیے۔ عمر جمع(+) ۱۰۰ یعنی اگر ایک شخص کی عمر ۶۰ سال ہے تو اس کا بالائی سطح پر فشار خون ۱۶۰ ہو سکتا ہے اور نچلی سطح کے لیے عمر منفی (-) ۵۰ یعنی ۶۰ سال کی عمر میں ۱۰۰۔ گھریلو پریشانیاں، کاروبار کی پریشانیاں، لڑائی مارکٹائی، شور و شغب، بے چینی، گصہ، فشار خون کو عموماً بڑھا دیتے ہیں۔ بلند فشار خون کے مریضوں کو ثقیل اشیا سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مثلاً بھنا گوشت، بھنا مرغ، مغز، کلیجی، سر پائے اور گردے پورے وغیرہ نیز تلی ہوئی اشیاء پراٹھے۔ سموسے پکوڑے۔ وغیرہ۔ دودھ دہی بالائی اتار کر استعمال کریں تو کوئی حرج نہیں۔

گزشتہ دنوں مجھے بالاکوٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم حاجی منظور صاحب کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ان کے تمام صاحب زدگان مل چکے، لیکن حاجی صاحب نظر نہیں آ رہے تھے۔ میں نے ان کے بیٹے خالد سے پوچھا کہ ابا جان کہاں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ انہیں تو شدید قسم کا بلند فشار خون ہے اور وہ گھر میں آرام کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر وہ آسانی سے تشریف لا سکتے ہوں تو انہیں بلا لیں۔ تھوڑی دیر میں حاجی صاحب تشریف لے آئے لیکن آ کر لیٹ گئے۔ میں نے اپنے شاگرد رشید حکیم عبدالواحد سے کہا کہ حاجی صاحب کا فشار خون معلوم کریں، انہوں نے معلوم کیا تو نیچے والا ۱۳۰ اور اوپر والا ۲۳۰ تک پہنچا ہوا تھا۔ اتفاق ایسا کہ ہمارے پاس فشار خون کم کرنے والی کوئی دوا بھی نہیں تھی۔ میں نے حاجی صاحب سے پوچھا کہ آپ کے پاس پتریس ہے، کہنے لگا ہاں پڑا ہوا ہے۔ میں نے کہا منگوائیں۔ انہوں نے گھر سے تھوڑا سا پتریس منگوایا، میں نے آدھا گرام (۴ رتی) پتریس انہیں گرم دودھ سے نگلوا دیا۔ صرف ۱۰ منٹ بعد میں نے حکیم عبدالواحد سے کہا فشار خون پھر معلوم کریں۔ انہوں نے معلوم کیا تو حیران رہ گئے فشار خون کی نچلی سطح ۹۰ اور اوپر والی ۱۴۰ تک تھی۔ حاجی صاحب بہت خوش ہوئے کہنے لگے نسخہ تو گھر میں موجود تھا۔ فوائد نہ جاننے کی وجہ سے میں اتنے دن بستر پر پڑا رہا۔

پتریس وادی کاغان اور کشمیر میں ملنے والی عام بوٹی ہے۔ اس علاقے میں اس کا نام پتریس ہے۔ اردو میں اسے اتیس کہتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ اتیس شیریں اور اتیس تلخ۔ حکیم عبدالواحد اور حکیم عبدالرحمن سلیمانی جو میرے چھوٹے بھائی ہیں، انہوں نے مجھ سے کہا کہ فشار خون کے لیے اتیس کا استعمال آپ نے کیسے کروایا، یہ تو بخار کو رفع کرنے والی دوا ہے۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈال دیا کہ اس بیماری کا علاج اس علاقے میں پائی جانے والی بوٹی میں رکھ دیا گیا ہے۔ اللہ نے میرے ذہن میں القا کیا کہ اتیس تلخ اس کا بہترین علاج ہے۔ یہاں واپس آ کے میں وہاں سے لائی ہوئی اتیس تلخ مریضوں کو استعمال کرواتا رہا، جسے بھی دی اللہ نے اسے شفا دی۔ جب وہاں کی اتیس ختم ہوئی تو میں نے پاپڑ منڈی لاہور سے منگوائی اور مریضوں کو استعمال کروائی مگر ایک پیسے کا فائدہ نہ ہوا۔ پتہ یہ چلا کہ لاہور میں ملنے والی اتیس تلخ نہیں کوئی اور بوٹی ہے۔ جسے اتیس کہہ کر بیچا جاتا ہے۔ دوبارہ بالاکوٹ سے اتیس منگوائی تو اس نے وہی فائدہ کیا۔

بعض اوقات کچھ نسخے ایسے اشخاص سے مل جاتے ہیں جن کا طبابت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسا ہی ایک نسخہ ۱۹۷۷ء میں ملا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت نئی نئی بنی تھی۔ پیپلز پارٹی کے لوگ بے حد پریشان تھے اور ان میں سے بعض کا فشار خون بڑھا ہوا تھا۔ میں نے بلند فشار خون کے لیے قابل ذکر دوائیں انہیں استعمال کروائیں تو انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اتفاقاً ایک مریض آیا اور اس نے مجھے کہا کہ فشار خون کو متوازن کرنے کے لیے ایک نسخہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا فرمائیے۔ کہنے لگے کہ پانچ سے سات آلو بخارہ خشک رات کو ایک پیالی پانی میں ڈال دیں اور صبح انہیں پن چھان کر ایک ہفتہ استعمال کریں۔ فشار خون قابو میں آ جائے گا۔ اس کے بعد ضرورت محسوس ہو تو گاہے بگاہے استعمال کریں۔ میں نے ہزاروں مریضوں کو یہ ٹوٹکا استعمال کرایا۔ بہت مفید ثابت ہوا۔ تقریباً ڈیڑھ سال پہلے میں مطب میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک مریض آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو فشار خون تو نہیں ہے۔ کہنے لگے ۱۹۷۸ء کے بعد مجھے فشار خون رہتا تھا۔ نیچے والا ۱۴۰ اور اوپر والا ۲۴۰ ہو جاتا تھا۔ میں نے ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی اور طبی علاج کروائے لیکن فائدہ نہ ہوا۔ تنگ آ کر میں نے علاج چھوڑ دیا۔ ایک دن ۱۹۷۸ء کی بات ہے، میں شادی کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا۔ کھانا چننے سے پہلے گفتگو چل رہی تھی اور میں بھی اس میں حصہ لے رہا تھا۔ اچانک کسی بات پر میرا فشار خون بڑھ گیا۔ میں اٹھ کر جانے لگا تو ایک بزرگ نے مجھے بٹھا لیا اور پوچھا ’’بیٹا ! تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ میں نے کہا یہ صورت حال ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ نہ میں طبیب ہوں نہ ڈاکٹر، ایک اللہ والے نے مجھے ایک وظیفہ بتایا تھا۔ ۴۱ دن کرنا ہے۔ اس سے آپ کا فشار خون قابو میں آ جائے گا۔

وظیفہ یہ ہے کہ فجر کی نماز پڑھ کر ایک پیالی میں پانی ڈال کر رکھیں۔ اول آخر درود ابراہیمی ایک ایک بار پڑھیں اور درمیان میں سورۃ یاسین پڑھیں۔ میں نے ایسا ہی کیا، ۱۹۷۸ء کے بعد مجھے دوبارہ فشار خون نہیں ہوا۔ میں نے بے شمار لوگوں کو یہ عمل بتایا۔ ان میں سے اکثریت نے اس کی تصدیق کی۔

یہ سطور لکھی جا رہی تھیں کہ چنیوٹ سے پروفیسر دلدار سنیاسی صاحب تشریف لائے۔ موصوف سے میرے ۳۵ سال پرانے تعلقات ہیں۔ طب سے بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ فرمانے لگے کہ میری طبی زندگی کا نچوڑ فشار خون کا ایک نسخہ حاضر ہے۔ اس میں خوبی یہ ہے کہ اس کے استعمال سے بلند فشار خون ہو یا کم، قابو میں آ جاتا ہے۔ دونوں قسم کے فشار خون کے لیے میں سیکڑوں مریضوں کو دے چکا ہوں۔

نسخہ یہ ہے پشاوری قہوہ بنا کر صبح شام ایک ایک پیالی استعمال کریں۔ میرے شاگرد رشید حکیم عبدالواحد فشار خون کے مریضوں کے لیے ایک نسخہ استعمال کرتے ہیں۔ اس سے فشار خون قابو میں آ جاتا ہے۔ ۲ عدد سبز مرچ اور ۲ ترئی لہسن میں معمولی مقدار میں نمک شامل کر کے چٹنی بنائیں اور صبح شام روٹی سے لیں۔

Last Updated : Dec 22, 2012