دیسی گھی کے کرشمے

 

ہم پرانے زمانے کے لوگوں کی قابل رشک صحت کے اسباب پر غور کرتے ہیں اور پھر موجودہ زمانے کے مریل نوجوانوں کی طرف نگاہ حسرت اٹھاتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ اگلے وقتوں کے لوگوں کی قابل رشک صحت کا سبب یہی تھا کہ وہ اعتدال کی زندگی بسر کرتے تھے اور اب یہ امر عنقا ہے، مگر اس کے علاوہ ایک بڑی بات اور بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت چٹ پٹے مسالے دار کھانوں سے معدے کی قوتوں کو تباہ کرنے کی وبا نہ پھیلی تھی اور اسی وجہ سے وہ لوگ ہم سے عمر، قوت اور صحت میں ہر طرح بڑھ چڑھ کر تھے۔ جوں جوں خالص دودھ اور گھی کی کمی اور اس کے ساتھ قسم قسم کے چٹ پٹے کھانوں کی رغبت زیادہ ہوتی گئی، ہم لوگوں کی صحت، قوت اور عمر میں کمی رونما ہوتی گئی۔ آج بھی دیہاتوں میں رہنے والوں کی صحت اس لیے قابل رشک ہوتی ہے کہ وہ آلودگی سے پاک فضا میں سانس لیتے اور خالص غذا نوش جاں کرتے ہیں۔ شہر کے باسیوں کی اکثر بیماریاں ملاوٹ شدہ اور کیمیاوی طریقوں سے تیار ہونے والے اشیائے خور و نوش ہیں۔ ذیل میں، دیسی گھی کے چند کرشمے قارئین کی بحالی صحت کے لیے اس یقین کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں کہ اگر آپ دیسی گھی کو اپنی روز مرہ غذا کا حصہ نہ بھی بنا سکیں تو بطور دوا تو استعمال کر ہی لیں۔

خالص گھی کی پہچان

ذیل میں اصلی و نقلی دیسی گھی کی شناخت کا طریقہ عرض کرتے ہیں۔

امتحانی نلی (Test Tube)گھی سے نصف پر کریں اور پھر اس میں نائٹرک ایسڈ ۴/۱ حصہ ڈال کر اُنگلی سے بند کر کے ہلائیں۔ کوئی تبدیلی نظر نہیں آئے گی۔ بعد ازاں ٹنچکر آیودین ۵ بوند ڈالیں اور بدستور ہلا کر رکھ دیں۔ اگر گھی اسی حالت میں رہے تو اسے خالص سمجھیں اور اگر جوش میں آ جائے تو نقلی خیال فرمائیں۔ یہ بارہا کی مجرب تدبیر ہے۔

طبیعت

پہلے درجے میں گرم تر، پھر جوں جوں پرانا ہوتا جاتا ہے اس کی گرمی بڑھتی اور تری گھٹتی جاتی ہے۔

دماغی امراض

یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ گھی بے حد مقویٔ دماغ شے ہے، لیکن حکما نے چند اشیا کے اثرات سے جو بذاتِ خود مقوی دماغ ہوتی ہیں، حکیمانہ طریق پر گھی میں جذب کر دینے کے طریقے ڈھونڈے ہیں جن سے اس کے فوائد میں بیش بہا  اضافہ ہو جاتا ہے۔

نسیان، ضعفِ دماغ اور کمزوریٔ نظر

گھی میں قند سیاہ آدھ پاؤ  لے کر اسے تھوڑا سا کوٹ کر یا توڑ کر ڈال دیں اور ہلکی ہلکی آگ پر پکائیں۔ پہلے گڑ تہ نشین ہو گا، بعد میں اوپر آنا شروع ہو گا حتیٰ کہ تمام سطح پر آ جائے گا۔ اس میں چیپ باقی ہو گا، اسے اور پکنے دیں۔ جب دیکھیں کہ پکتے پکتے اس کی چیپ دور ہو گئی ہے اور گڑ لاکھ کی طرح ہونے لگا تو فوراً اتار لیں۔ اگر دیر ہوئی تو گھی کڑوا ہو جائے گا۔ اتار کر گڑ گھی سے الگ کر لیں۔ باقی رہ جانے والا گڑ سخت سا ہو جاتا ہے جسے بچے بطور بتاشا کھا جاتے ہیں۔  اس گھی کو سنبھال رکھیں۔ گھر میں عام طور پر جو گھی استعمال ہوتا ہے، اگر اسی طرح صاف ہو کر ہی استعمال ہو، تو تمام گھر والوں کی نظریں تیز ہو جائیں گی۔ کوئی ضرر والی چیز ہے اور نہ ہی زیادہ لاگت کی۔ صرف معمولی طریق سے گھی کی ایک صفائی ہے اور بس، لیکن فوائد کا اندازہ وہی لوگ کریں گے جو استعمال کریں گے۔

ضعف دماغ کی دوسری دوا

سونف کے سبز پودے پانی میں دھو لیں اور پھر کچل کر ان کا رس کپڑے میں نچوڑ کر نکال لیجیے۔ اس رس کے وزن سے آدھا گائے کا خالص گھی اس میں ملا کر قلعی دار دیگچی میں ڈال کر ہلکی ہلکی آگ پر پکائیں۔ جب تمام پانی جل کر محض گھی باقی رہے تو سنبھال کر کسی روغنی برتن یا شیشی میں رکھ لیں۔ ایک تولہ صبح، ایک تولہ شام گائے کے دودھ میں ملا کر پلائیں اور سر پر مالش کریں۔

گھی کی خوش ذائقہ چٹنی

یہ نسخہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، لیکن فائدے میں بڑا ہی اکسیر ہے۔ اس کے متواتر اکیس ۲۱ روز کے با پرہیز استعمال سے ضعف دماغ، نسیان، قلب کی کمزوری وغیرہ بالکل دور ہو جاتے ہیں۔ انسان کی صحت قابل رشک ہو جاتی ہے اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مرکب اس قدر لذیذ بنتا ہے کہ اس کے سامنے حلوے، خمیرے، یاقوتیاں وغیرہ ہیچ ہیں۔ ایک خوراک بوقت صبح کھا لینے سے طبیعت تمام دن ہشاش بشاش و مسرور رہتی ہے۔

اجزا

مغز بادام (چھلے ہوئے) ۷ عدد، الائچی خورد ۴ عدد، چھوہارہ عمدہ ایک عدد، مصری ۵ تولہ گائے کا مکھن ۵ تولہ۔

ترکیب تیاری

مغز بادام و چھوہارہ کو بوقت شب مٹی کے کورے برتن میں ڈال کر بھگو دیں۔ صبح باداموں کو چھیل لیں۔ چھوہارہ کی گٹھلی دور کریں اور الائچی کے تخم نکال کر خوب پیسیں۔ پھر مصری ملا کر باریک کریں۔ آخر میں مکھن ملائیں اور نوش جان فرمائیں۔ اگر ایک ہفتہ کے بعد ہر ایک چیز کا وزن دگنا کر دیا جائے تو بہتر ہے۔ دو ہفتہ کے مسلسل استعمال سے کافی فوائد ظہور میں آنے لگتے ہیں۔

مالیخولیا یعنی پاگل پن

اس مرض میں مبتلا کوئی مریض اپنے آپ کو بادشاہ خیال کرنے لگتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو انسانیت سے گرا کر بکرا یا مرغ وغیرہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا اصل علاج تو کسی ماہر طبیب ہی سے کرانا چاہیے، لیکن مریض اگر تین چار سال سے بیمار ہو، اسے مطلق رات بھر نیند نہ آتی ہو، تو ایسے مریض کو گائے کا مکھن زیادہ سے زیادہ مقدار میں کھلائیں۔ چونکہ بغیر کسی ہاضم دوا کے مکھن زیادہ مقدار میں نہیں کھلایا جا سکتا لہٰذا ذیل میں مکمل تدبیر لکھی جاتی ہے۔

سفید پھٹکڑی کو باریک پیس کر تین تین ماشہ کی پڑیاں بنا لیں اور ہر روز بوقت صبح ایک پڑیا گائے کے پاؤ بھر دہی میں ملا کر پلائیں۔ ایک گھنٹے بعد گائے کا مکھن جس قدر کھا سکے، کھلا دیں۔ کم از کم پاؤ  بھر تو ضرور کھلا دینا چاہیے۔ اسی طرح سات دن اسی طریق سے پھٹکری کی ساتوں پڑیا پوری کر دیں اور بدستور دہی اور مکھن استعمال کراتے رہیں۔ ان شاء اللہ ضرور آرام آئے گا۔

پرہیز

لہسن، پیاز، بینگن کھانے، محنت کرنے اور اکیلا رہنے سے پرہیز کریں۔

غذا

جلد ہضم ہونے والی غذا مثلاً خشکہ، کھیر، مونگ کی دال، پھلکا، سبز ترکاریاں وغیرہ دیں۔

پھیپھڑے اور معدے کی بیماریاں

عام لوگ سینے اور پھیپھڑے کی بیماریوں کے لیے گھی وغیرہ کو ایک مہلک زہر خیال کرتے ہیں لیکن اگر اس خیال کو طب کے ترازو میں دال کر تولا جائے تو یہ بالکل ہلکا اور صداقت سے کوسوں دور نظر آتا ہے کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ بعض حالات میں گھی اور مکھن سینہ کی بیماریوں کے لیے نہ صرف نفع بخش بلکہ آب حیات کے مترادف ہے۔ چنانچہ ذیل میں ان بیماریوں کے لیے گھی کی نفع رسانی کا حال الگ الگ طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

خشک کھانسی

گائے کا مکھن دو تولہ، مغز بادام چھلے ہوئے ۷ عدد، مصری ۵ تولہ، دونوں کو پیس کر چٹائیں۔ خشک کھانسی کے لیے بڑا ہی پر تاثیر نسخہ ہے۔

گائے کا دودھ آدھ پاؤ، گائے کا گھی ۹ ماشہ، پانی آدھ پاؤ، تمام کو ملا کر آگ پر پکائیں۔ جب پانی جل کر صرف دودھ رہ جائے تو دو تولہ مصری ملا کر بچے کو تھوڑا تھوڑا کئی بار پلائیں۔ ان شاء اللہ آرام ہو گا۔

دمہ

گائے کا خالص گھی دو تولہ لے کر گرم کریں اور اس میں تین ماشہ نمک باریک پیس کر ملا لیں اور مریض کی چھاتی اور گلے پر مالش کریں۔ بفضلہ دورہ وہیں کا وہیں رک جائے گا۔

سل کے لیے آب حیات

جب کسی مریض کے پھیپھڑے کمزور ہو جاتے ہیں تو اس کو بہت جلد مرض سل ہو جانے کا اندیشہ ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر مکھن کو بہترین شے خیال کرتے ہیں۔

قبض

یہ وہ بیماری ہے کہ جس کی تشریح کرنے کی اب ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ تقریباً ۹۰ فی صد لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ اس کے مریض کو پاخانہ کی تنگی کی وجہ سے تکلیف رہتی ہے بلکہ اس سے بیسیوں بیماریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔

دائمی قبض رفع کرنے کی تدبیر

قبض کا عارضہ عام طور پر آنتوں کے اندر خشکی پیدا ہو جانے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔ اگر آنتوں کی خشکی دور ہو جائے تو پھر قبض کا نام و نشان باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ ہم آنتوں کی خشکی دور کرنے کے لیے ایک تدبیر عرض کرتے ہیں جس سے قبض بآسانی دور ہو جاتی ہے۔

ترکیب

بوقت صبح مکھن حسب دلخواہ ۳ تولہ سے ۱۰ تولہ تک لے کر اس میں مصری برابر وزن ملا کر کھایا کریں۔ اس لذیذ و دل پسند غذا کو چند دن جاری رکھ کر دیکھیں۔ قبض کا نام و نشان نہ رہے گا۔ کیونکہ قبض دور کرنے کے لیے مکھن اور کھانڈ دونوں مفید ہیں۔

دیہات میں زندگی بسر کرنے والے لوگ گھی کو آب حیات خیال کرتے اور اس کو ہر مرض کے لیے تریاق اعظم سمجھتے ہیں۔

چنانچہ دیہاتی باشندے قبض کے ازالہ کے لیے بوقت صبح نہار منہ ۵ تولہ سے ۱۰ تولہ گھی گرم کر کے پیتے ہیں جس سے قبض قطعی دور ہو جاتی ہے۔

Last Updated : Dec 22, 2012