قبض بیماریوں کی ماں

 

پچھلے دنوں میاں طفیل محمد صاحب کے بڑے بیٹے میاں احسن فاروق دوائی کے لیے آئے تو میں نے ان سے میاں صاحب کے بارے میں پوچھا پتا چلا کہ انہیں بھی قبض کا مرض ہے۔ بعض اوقات ایک شخص کو قبض ہوتی ہے اور خاندان کے دوسرے افراد ا س سے محفوظ رہتے ہیں۔ الحمدللہ میری ۶۵ سالہ زندگی میں مجھے کبھی قبض نہیں ہوئی لیکن میرے چھوٹے بھائی حکیم عبدالمجید سلیمانی پیدائش سے لے کر اب تک قبض کے مریض ہیں۔

قبض جسے عربی میں حصر اور انگریزی میں Constipation کہتے ہیں اتنا عام مرض ہے کہ محتاج تعارف نہیں۔ اس کے نقصانات اور نتائج جتنے بھیانک ہیں عوام اس کے خطرات سے اتنے ہی لا پروا ہیں۔ پاخانہ کا روزانہ جسم سے خارج نہ ہونا بلکہ دوسرے یا تیسرے اور چوتھے روز آنا یا کم مقدار میں مینگنیوں کی شکل میں یا سخت حالت میں دن میں کئی بار آنا قبض کہلاتا ہے۔ جو کچھ ہم کھاتے ہیں وہ منہ میں لعابِ دہن کے ساتھ مل کر معدے اور چھوٹی آنت میں پہنچتا ہے۔ یہاں خوراک پکنا شروع ہوتی ہے اس کے رقیق اور صاف اجزا جذب ہو کر جگر اور مجری الصدر میں چلے جاتے ہیں اور باقی حصہ جو پھوک کی طرح ہوتا ہے آنتوں کی حرکت اور صفراء کی وجہ سے بڑی آنت میں سے ہوتا ہوا امعاء مستقیم میں جمع ہو جاتا ہے پھر ایک مناسب وقفہ کے بعد ناقابل برداشت ہو کر نیچے کو حرکت کرتا ہے۔ اگر غذا کا یہ فضلہ خارج نہ ہو اور بری آنت میں پڑا رہے تو بے شمار جان لیوا امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ضعف قلب، بلند فشارِ خون، دل کی گھبراہٹ، غشی، دل کی تیز دھڑکن، دردِ سر، نزلہ زکام، ضعف دماغ، غنودگی، تبخیر، تھکاوٹ، ہر وقت ہلکا ہلکا بخار رہنا، آنکھ کان اور ناک کی بیماریاں، اپنڈکس (ورم زائدہ اعور)، گردوں اور جگر کی بیماریاں، بواسیر، بھوک کی کمی، دردِ شکم، ورم جگر، جوڑوں کا درد، یرقان، خون کی کمی اور انتڑیوں اور پتہ میں پتھریاں وغیرہ وغیرہ۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ قبض ام الامراض ہے۔

قبض کی ۳ وجوہات ہیں۔

۱۔پہلی وجہ ناقص غذا ہے۔ نان، کلچے، چنے، جو، باجرے اور میداہ کی روٹی۔ ثقیل، چربیلی اور دیر سے ہضم والی غذائیں، وہ غذائیں جو خشک ہوں یا جن میں رطوبت کم ہو تب بھی قبض کا سبب بنتی ہیں۔

۲۔ آنتوں کے اندر ایک قسم کی قدرتی حرکت ہوتی ہے، جب یہ حرکت سست ہوتی ہے تو قبض لاحق ہو جاتی ہے۔

۳۔ گردوں کے راستے جسمانی رطوبتوں کا زائد مقدار میں خارج ہونا، قے کی زیادتی وغیرہ سے بھی قبض ہو جاتی ہے ان کے علاوہ بواسیر، آنتوں کی سوزش اور موٹاپا بھی قبض کا باعث بنتے ہیں۔ قبض کے مریض کو پانی کثرت سے پینا چاہیے اس سے قبض کشائی ہو جاتی ہے۔

قبض دور کرنے کے لیے ورزش اور سیر بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ چند تدبیریں بھی اکثر اوقات قبض کشائی کا باعث بنتی ہیں۔

۱۔ علی الصباح بیداری کے بعد بستر پر آنکھیں بند کر کے بیٹھیں اور دماغ کو دیگر تمام خیالات سے پاک کر کے ذہن میں یہی تصور لائیں کہ مجھے قضائے حاجت ہو رہی ہے اور اگر میں اُٹھ کر بیت الخلا میں نہ گیا تو یہیں فارغ ہو جاؤں گا۔ اس خیال کے بار بار دہرانے سے قبض اکثر اوقات دور ہو جاتی ہے۔

۲۔ مسواک جہاں دانتوں کی بے شمار امراض کا علاج ہے وہاں اس کے استعمال سے قبض کا بھی قلع قمع ہوتا ہے۔

۳۔ کھانا کھانے کے دوران نیم گرم پانی پینا بھی قبض کا قدرتی علاج ہے۔ کچھ عرصہ قبل مجھے چین کی سرحد پر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں چین سے آنے والے جتنے بھی لوگ تھے ان کے پاس تھرماس تھے۔ پوچھا کہ یہ کس مقصد کے لیے ہیں، تو ان کا سب کا ایک ہی جواب تھا کہ ان میں ہم گرم پانی رکھتے ہیں۔ جب بھی ہمیں پیاس لگے تو یہی پانی پیتے ہیں۔ انہوں نے اس کا ایک فائدہ یہ بتایا کہ انہیں قبض نہیں ہوتی۔

۴۔ برصغیر کے لوگوں کی عادت ہے کہ آٹا چھان کر استعمال کرتے ہیں۔ یہ عادت درست نہیں ہے۔ انہیں چاہیے بغیر چھانے آٹے کی روٹی استعمال کریں۔ اناج کے چھلکے میں ایک ایسا جوہر جو طاقت بخشتا ہے اور قبض کو بھی دور کرتا ہے۔

۵۔ صبح کو اُٹھ کر نہار منہ نیم گرم پانی کے دو یا چار گلاس پینا قبض کا بہترین علاج ہے۔

۶۔ صبح اُٹھ کر ۳ کلومیٹر پیدل چلنا قبض کا بہترین علاج ہے۔

۷۔ رات کو سوتے وقت ۵ تولہ گل قند اور پسی ہوئی سونف کا ایک چمچ گرم دودھ میں گھی یا بادامِ روغن ڈال کر استعمال کریں۔

قبض کی علامات انتی عام ہیں کہ انہیں سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ قبض کی صورت میں بدبودار سانس، زبان پر سفیدی، پیٹ میں درد، پیٹ کا پھولنا، بدہضمی، سر درد اور بے چینی وغیرہ پیدا ہوتی ہے۔ اگر قبض تھوڑی سی پرانی ہو جائے تو بواسیر کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ نوجوانوں میں قبض سے کیل مہاسے نکل سکتے ہیں۔ بڑی عمر کے لوگوں میں جلد پھیکی اور پیلی پڑ جاتی ہے۔

بقراط کا قول ہے کہ جس طرح اجابت کا نرم ہونا خطرناک ہے اسی طرح سخت ہونا بھی خطرناک ہے لیکن اجابت کی سختی اس کی نرمی سے زیادہ خطرناک ہے۔ عموماً ۲۴ گھنٹے میں ایک بار اجابت آتی ہے، لیکن بعض نوجوانوں کو ۲۴ گھنٹے میں دو بار اور بعض کو ۴۸ گھنٹے میں ایک بار اجابت ہوتی ہے۔

اعصاب اور آنتوں کے لیے مکھن، گھی، بادام، دودھ، سبز ترکاریاں اور موٹے آٹے کی روٹی بہترین غذا ان کے استعمال سے قبض بھی رفع ہوتی ہے۔ قبض کے مریضوں کے لیے ساگ پات، امرود، خرفہ، پالک، میتھی، چولائی، چقندر، شلغم، گاجر اور ہرے چنے بہترین غذا ہیں۔ اگر ادویات کا استعمال کرنا ہو تو اسپغول ایک تولہ سادہ پانی یا نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں یا رات سوتے وقت اطریفل زمانی ۹ ماشہ کیسٹر آئل ایک چمچ کے ساتھ استعمال کریں۔

قبض کی شکایت زیادہ تر ان لوگوں کو ہوتی ہے جنہیں محنت کی عادت نہ ہو اور سارا دن بیٹھے یا لیٹے رہتے ہوں۔ اس لیے قبض دور کرنے کے لیے انہیں ورزش کی عادت ڈالنی چاہیے۔ دوڑنا، ۴ کلومیٹر روزانہ چلنا، باغ اور سبزہ زار میں سیر کرنا، کشتی چلانا، گھڑ دوڑ، تیراکی، ڈنڈ پیلنا، کبڈی، ہاکی، فٹ بال، والی بال، ٹینس کھیلنا ایسی کھیلیں ہیں جن سے قبض نہیں رہتی۔

مندرجہ ذیل طریقوں سے پھلوں کا استعمال بھی قبض کشائی کے لیے مفید ہے۔

۱۔ دن میں ۴ مرتبہ لیموں کا عرق نکال کر آدھے کپ پانی میں ملا کر استعمال کرنا مفید اثرات کا حامل ہے۔

۲۔ اگر اعصابی کمزوری اور معدے کے ضعف کی وجہ سے قبض ہو تو روزانہ نہار منہ ۲۔۳ سیب کھانا قبض کشائی کا باعث بنتا ہے۔

۳۔ کھانا کھانے کے بعد اگر پکے ہوئے امرود کھائے جائیں تو قبض کشا اور نہار منہ کھائے جائیں تو قابض ہیں۔

۴۔ خشک میوہ جات میں سے بادام قبض کشائی کے لیے مفید ہیں۔ رات کو سوتے وقت اگر ۱۱ سے ۱۵ بادام کھائے جائیں تو بہترین قبض کشائی ہوتی ہے۔ جن لوگوں کا معدہ کمزور ہو وہ باداموں کے ساتھ ایک چمچ سونف بھی استعمال کریں۔

۵۔ آلو بخارا اس سلسلے میں ایک بہترین پھل ہے۔ قبض کے ازالہ کے لیے ۷ دانے اور جلاب کے لیے ۲۰ آلو بخارے استعمال کرنا چاہئیں۔

۶۔۲ یا ۳ آموں کا میٹھا رس نکال کر رات کو سوتے وقت دودھ سے لیا جائے تو صبح اجابت کھل کر ہوتی ہے۔

۷۔ قبض کو دور کرنے کے لیے انجیر ایک بہترین پھل ہے۔ رات کو انجیر کے ۳ دانے پانی میں بھگوئیں اور صبح نہار منہ صاف کر کے کھائیں۔ قبض ختم ہو جائے گی۔

چند ادویاتی علاج جو میرے تجربے میں آئے ہیں، درج ذیل ہیں :

۱۔پنجاب کے دیہاتوں میں رواج ہے کہ پانچ تا دس تولہ گھی صبح نہار منہ نیم گرم پیتے ہیں اس سے قبض رفع ہو جاتی ہے۔

۲۔بنفشہ کے پھول ۶ ماشہ رات کو دودھ کے ساتھ لیں۔ صبح کھل کر اجابت ہو گی۔

۳۔یہ نسخہ میرے ماموں مولانا حکیم عبدالحکیم قصوری کا مجرب ہے۔ بہت عرصہ برما میں رہے۔ آخری عمر بہاولنگر میں گزاری وہ ساری زندگی اپنے مریضوں کو یہ نسخہ استعمال کراتے رہے۔

ھوالشافی : سقمونیا ولایتی۔ گوگل صاف شدہ۔ مصبر زرد۔ عصرہ ریوند خطائی ۱۲۔ ۱۲ گرم۔ پہلے گوگل کو پانی میں حل کریں اور دیگر ادویہ کا سفوف ملا کر چنے کے برابر گولیاں بنا لیں اور رات سوتے وقت ۱ تا ۳ گولی نیم گرم پانی یا دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ فوری قبض کشائی کرے گی۔

۴۔ثابت اسپغول ایک تولہ۔ گائے کا دودھ ایک پاؤ  لے کر اس میں ایک تولہ خالص بادام روغن ملائیں۔ رات سوتے وقت لے لیں چند دن کے استعمال سے پاخانہ کھل کر آئے گا۔

۵۔ھوالشافی : گل سرخ ۲۵۰ گرام۔ سنا مکی ۲۵۰ گرام۔ دونوں دواؤں کو رات بھر ایک کلو پانی میں تر کریں اور صبح آگ پر جوش دے کر پکا لیں۔ جب دو تہائی پانی سوکھ جائے تو ۷۵۰ گرام مصری ملا کر محفوظ رکھیں۔ نہایت مزیدار دوا تیار ہے۔ دوائی کی دوائی۔ مٹھائی کی مٹھائی۔ رات کو سوتے وقت چھ تا ۱۲ گرام دودھ سے لے لیں۔

۶۔گلاب کے پھولوں کی بنی ہوئی گل قند ۲۵۰ گرام۔ ہرڑ جلابہ ۵۰ گرام۔ عرق گلاب آدھ کلو۔ جلابہ ہرڑ کو کھرل میں باریک پیس کر گل قند میں شامل کر کے نیم گرم دودھ سے لیں۔ یہ بہترین قسم کی دوا ہے اور اس سے ہر ایک کو فائدہ ہوتا ہے۔

۷۔یہ نسخہ بہترین قبض کشا، مخرج بلغم ہے۔ پیٹ کے کیڑوں کو خارج کرتا ہے۔

ھوالشافی : مصبر سیاہ ۲۵۰ گرام۔ سونٹھ ۲۵۰ گرام۔ سرکہ ۱۶۰ گرام۔ سنلائٹ صابن کا ایک ٹکڑا ۵۰ گرام۔ سب سے پہلے مصبر اور سونٹھ کو باریک پیسیں۔ پھر صابن کو سرکہ میں ڈال کر کھرل کریں۔ جب اچھی طرح حل ہو جائے تو باقی سفوف اس میں شامل کر لیں اور خشک کر کے چنے کے برابر گولیاں بنائیں۔ رات کو سوتے وقت ۱ تا ۲ گولیاں دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

۸۔یہ دوا قبض کشا اور مسہل ہے۔ دائمی قبض میں تھوڑی مقدار میں ۱ تا ۳ گولی دینی چاہیے تاکہ اجابت با فراغت ہو جائے لیکن اگر ان گولیوں کو جلاب کے لیے استعمال کرنا ہو تو ۴ تا ۶ گولیاں استعمال کرائیں۔

ھوالشافی : ست صبر سقوطری ۱۲ گرام۔ گودہ اندرائن ۶ گرام۔ ستمو ۶ گرام۔ غاریقون ۶ گرام۔ اجوائن خراسانی ۶ گرام۔ سب ادویہ کو الگ الگ پیس لیں اور شہد ملا کر چنے کے برابر گولیاں بنا لیں۔

صبر سقوطری کو تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ صاف ستھرا سقوطرہ کا مصبر لے کر اسے کوٹ کر باریک کر لیں اور دس گناہ پانی میں حل کر کے رکھ دیں۔ ہر ایک گھنٹہ بعد مسلسل بارہ گھنٹے اسی میں چمچ پھیرتے رہیں۔ پھر ۱۴ گھنٹے اس کو محفوظ پڑا رہنے دیں۔ اس کے بعد پانی کو نتھار کر آگ پر پکائیں۔ جب گاڑھا ہو جائے تو آگ سے نیچے اتار لیں۔ پھر اس کو پانی کی بھاپ میں زیادہ گاڑھا کریں حتیٰ کہ بھاپ اڑنا بند ہو جائے۔ یہ وہ دوا ہے جو قبض کے لیے انتہائی مفید ہے اور ہمارے دواخانہ میں گزشتہ ۷۵ سال سے زیر استعمال ہے۔

Last Updated : Dec 22, 2012