ذیابیطس کا نیا نسخہ

 

حکیم افتخار احمد مانانوالہ ضلع شیخوپورہ کی معروف سماجی شخصیت اور جماعت اسلامی کے مقامی امیر ہیں۔ ان کے ساتھ میرے دیرینہ تعلقات ہیں۔ اکثر مجھ سے مطب کے لیے ادویہ خریدتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تشریف لائے، تو دریافت کیا کہ کبھی آپ نے اسگندھ پاک کو مرض ذیابیطس میں استعمال کیا؟ میں نے بتایا نہیں، کہنے لگے ’’عجیب اتفاق ہوا۔ میرے پاس پچھلے ماہ ایک صاحب آئے۔ انہیں ذیابیطس کا عارضہ تھا۔ خالی پیٹ خون میں شکر کی سطح ۴۵۰% جا پہنچی تھی۔ تب ذیابیطس سے متعلق ایک بھی دوائی میرے پاس نہیں تھی۔

’’مریض نے اسگندھ پاک کی ایک شیشی اٹھائی اور کہا کہ یہ لے جا رہا ہوں۔ پندرہ دن بعد دوا کھا کے پھر آؤں گا۔ وہ دوا لے کر چل دیے۔ ۱۵ دن بعد آئے تو آتے ہی کہنے لگے کہ حکیم صاحب یہ دوا تو بہت کامیاب رہی۔ ایک شیشی اور دے دیں۔

’’میں نے پوچھا کہ آپ اپنی پوری کیفیت بتائیں، کہنے لگے کہ پندرہ دن میں خون میں شکر کی سطح ۴۵۰ سے ۱۷۳ پر آ گئی۔ انہیں نئی دوا دیے ہوئے دس دن گزرے ہوں گے کہ ایک دوسرے صاحب آئے، کہنے لگے کہ اسگندھ پاک دے دیجیے۔ میں نے پوچھا، کس مقصد کے لیے؟ کہنے لگے، مجھے ذیابیطس ہے۔ فلاں صاحب کا مرض اس دوا سے ٹھیک ہو گیا۔ ایک شیشی مجھے بھی دیں۔ وہ دوا لے کر ابھی نکلے ہی تھے کہ ایک اور صاحب آ گئے۔ اس کے بعد تو تانتا بندھ گیا۔ میرے پاس پندرہ شیشیاں پڑی تھیں، سب ایک دن میں نکل گئیں۔‘‘ حکیم افتخار صاحب پھر میرے پاس سے اسگندھ پاک کی تمام شیشیاں لے گئے۔ ان کا کہنا تھا ’’مجھے تو ذیابیطس کا نیا نسخہ ہاتھ آ گیا۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسگندھ پاک کا تذکرہ اردو ڈائجسٹ ماہ اپریل ۲۰۰۵ء میں شائع ہو چکا ہے۔ میں نے اسے دمہ، کھانسی، بواسیر، نظر ختم ہونا اور عام کمزوری کے لیے مفید بتایا تھا۔ تب سے میں نے اسے ہزارہا مریضوں پر آزمایا اور مفید پایا، مگر یہ معلوم نہ تھا کہ نسخہ ذیابیطس میں بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ اس کے بعد حکیم افتخار پھر آئے، کہنے لگے ’’جس مریض کو میں نے سب سے پہلے دوا دی تھی، ایک مہینے میں ان کی سطح ۱۰۰ پر آ گئی۔ اب وہ بہت مطمئن ہیں۔ دوسرے مریض بھی تقریباً ٹھیک ہیں۔‘‘ جتنی اسگندھ پاک میرے پاس موجود تھی، وہ تمام پھر لے گئے۔

چند دن پہلے وہ پھر تشریف لائے۔ انہوں نے بتایا ’’میں آپ سے دو دفعہ اسگندھ پاک لے کے گیا۔ پھر آپ سے نہیں ملی تو آپ کی اردو بازار والی شاخ سے لیتا رہا۔ الحمدللہ تقریباً ہر مریض کو فائدہ ہوا۔‘‘ اس دن میرے پاس بھی ذیابیطس کے تین مریض آئے۔ میں نے انہیں اسگندھ پاک دی۔ ان میں سے دو صاحبان میرے پاس واپس آئے۔ ان کے خون میں بھی شکر خاطر خواہ کم ہوئی تھی۔ اتفاق سے اسی دن اسگندھ پاک کی ایک شیشی میں گھر لے گیا۔ اسی شام میری ہمشیرہ محترمہ ملنے آئیں۔ انہیں بھی یہی مرض لاحق تھا۔

دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ ان کی سطح بہت بڑھ گئی ہے، کوئی علاج ہو تو بتائیے۔ معلوم ہوا کہ ساڑھے تین سو ہے۔ میں نے اسگندھ پاک کی وہی شیشی انہیں دی۔ پانچ دن بعد ان کا فون آیا کہ اب سطح ۱۴۷ ہے۔ میں نے چند اور دوستوں کو بھی بتایا، سب کی طرف سے مثبت رپورٹ آئی۔ میں نے اپنے ایک شاگرد حکیم محمد صدیق سے ذکر کیا کہ شہد اور مصری کے باوجود اسگندھ پاک نے یہ مثبت نتیجہ دیا ہے۔ کہنے لگے کہ آپ دونوں چیزوں کو شامل نسخہ رکھیں، ممکن ہے ان کے باعث ذیابیطس کی سطح کم ہوئی ہو۔ تبھی مجھے طب کی ایک اہم کتاب قرابادینی داکائی (مطبوعہ ۱۸۶۷ء) کا ایک نسخہ ذہن میں آ گیا کہ پنبہ دانہ (بیج بنولہ) اور مصری ہم وزن استعمال کرنے سے خون میں شکر کی سطح معمول پر آ جاتی ہے۔

اس موقع پر مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا۔ ۱۹۶۷ء یا ۱۹۶۸ء کی بات ہے، میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ ایک دفعہ یونیورسٹی میں مشاعرہ تھا۔ میرا ذمے لگا کہ معروف شاعر احسان دانش سے وقت لوں۔ میری ان سے یاد اللہ تھی اور میں ان سے ملنے انار کلی جاتا رہتا تھا۔ اس دفعہ انہیں ملنے گیا تو مجھے اوپر بلا لیا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ موصوف ایک کڑاہی میں سے کھرچ کھرچ کر حلوہ نوش کر رہے تھے۔ میں نے عرض کیا ’’دانش صاحب! آپ تو ذیابیطس کے مریض ہیں، یہ کیا کر رہے ہیں؟

فرمانے لگے ’’اب مجھے مٹھاس کچھ نہیں کہتی، میں بلا تکلف استعمال کر لیتا ہوں۔‘‘ ساتھ ہی فرمایا کہ ایک چھوٹا سا ٹوٹکا ہاتھ آ گیا ہے۔ ایک سنیاسی نے مجھے بتایا کہ جب بھی پیشاب کی حاجت ہو، پانی کا ایک گلاس پی کر پھر جائیں۔ لیکن اس عمل کو مستقلاً عادت بنانے کی ضرورت ہے، تب فائدہ ہو گا۔ میں نے پوچھا کہ دانش صاحب، کیا اس ترکیب کے بعد کبھی آپ کو ذیابیطس نہیں ہوئی؟ کہنے لگے کہ میں کسی دن میٹھا ضرورت سے زیادہ استعمال کر لوں، تو ۶ ماشہ گڑ مار بوٹی لے لیتا ہوں۔ اس کے علاوہ مجھے دوا کی ضرورت نہیں پڑی۔

ڈاکٹر طارق عزیز خواجہ میرے دوست ہیں۔ تین سال قبل ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ کی ذیابیطس کا کیا حال ہے؟ کہنے لگے، ایک صاحب نے کلونجی استعمال کرنے کا کہا ہے، لیکن افاقہ نہیں ہوا۔ میں نے کہا، بھائی! یہ تو بہت زیادہ مقدار ہے۔ آپ صرف صبح نہار منہ کلونجی کے پانچ دانے استعمال کریں۔ انہوں نے ہامی بھر لی۔ کچھ دن پہلے ان سے ملاقات ہوئی۔ ذیابیطس کا پوچھا تو کہنے لگے، آپ کے کہنے کے مطابق پانچ دانے روزانہ استعمال کرتا ہوں۔ اب میری سطح ٹھیک رہتی ہے۔ کنجاہ ضلع گجرات سے ایک بزرگ طبیب آیا کرتے تھے۔ چند سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے ایک دفعہ ذیابیطس کا نسخہ بتایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس سے ستر پچھتر فیصد مریض کامیاب ہوئے ہیں۔ نسخہ یہ ہے :

گڑمار بوٹی ۱۰ گرام۔ گٹھلی جامن ۱۰ گرام۔ پھلی کیکر ۱۰ گرام۔ ست گلو خالص ۲۵ گرام۔ سلاجیت ۲۵ گرام۔ کشتہ فولاد ۲۵ گرام۔ برگ نیم ۵۰ گرام۔ سونٹھ ۵۰ گرام۔ یہ ساری اشیا باریک پیس کر ملا لیں۔ صبح شام ۲۔۲ گرم بعد غذا تازہ پانی کے ساتھ لیں۔

ذکر ہو رہا تھا اسگندھ پاک کا! اپریل ۲۰۰۵ء کے بعد اسگندھ پاک کے دیگر فوائد بھی سامنے آئے۔ وہ پیش خدمت ہیں تاکہ عوام الناس ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔

۱۔بعض خواتین کی چھاتیاں پست ہوتی ہیں۔ وہ ۱۰ گرام اسگندھ پاک میں ایک چاول جواہر مہرہ ملا کر صبح نہار منہ ناشتے سے پہلے استعمال کریں۔ ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔ اگر جواہر مہرہ میسر نہ ہو تو اسگندھ پاک میں ہم وزن بداری کند بوٹی شامل کر لیں صبح شام ایک ایک چمچ ٹھنڈے دودھ کے ساتھ ۴۰ روز استعمال کریں۔

۲۔مرگی کا دورہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس سے نجات کے لیے صبح نہار منہ اسگندھ پاک ۱۰ گرام اور رات سوتے وقت اطریل کبیر ۶ ماشہ میں ایک رتی کشتہ یاقوت شامل کر کے ۴۰ روز استعمال کیجیے۔ مرگی کے دورے سے نجات مل جائے گی۔

۳۔بعض لوگوں میں جسم کے مہرے ہل جاتے ہیں۔ وہ اسگندھ پاک میں ہم وزن ایک بوٹی بدھارا استعمال کریں۔ دونوں باہم ملا کر ۱۰۔ ۱۰ گرام صبح شام لیں۔ ان شاء اللہ ایک ماہ میں مہرے ٹھیک ہو جائیں گے۔

۴۔میرے شاگرد رشید حکیم عبدالواحد راوی ریان بیان کرتے ہیں کہ اگر کسی کے جسم میں ہڈیاں کمزور ہو جائیں تو اسگندھ پاک، بدھارا، سونٹھ اور سورنجاں ہم وزن باریک پیس کر ایک ایک چمچی صبح و شام دودھ کے ساتھ لیں۔ ڈیڑھ ماہ میں ہڈیاں پھر طاقت ور ہو جائیں گی۔

۵۔بعض مردوں کے مادے میں جراثیم کمزور ہوتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ صبح شام نہار منہ اسگندھ پاک اور بدھارا ۳۔۳ ماشہ، چینی ۳ ماشہ اور کشتہ چاند ۴ چاول ملا کر چھوٹی چمچ دودھ سے لیں۔ رات سوتے وقت اطریفل کبیر چھوٹی۔ پانی کے ساتھ استعمال کریں۔ ۳ ماہ کے استعمال سے ان شاء اللہ جراثیم قابل تولید ہو جائیں گے۔

۶۔بعض افراد کا مسئلہ زیادہ سنجیدہ ہوتا ہے۔ وہ اسگندھ پاک ۳۰۰ گرام میں صندل سفید ۱۰ گرام۔ زیرہ سفید ۱۰ گرام۔ کشتہ فولاد ۱۰ گرام۔ کشتہ قلعی ۱۰ گرام شامل کر کے صبح شام دس گرام دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ مفید دوا ہے۔

۷۔جن نوجوانوں کو جریان اور احتلام کا عارضہ لاحق ہو، وہ اسگندھ پاک میں ہم وزن بدھارا شامل کر لیں صبح و شام نہار منہ ایک ایک چمچ دودھ کے کپ سے استعمال کریں۔ ان شاء اللہ ۱۵ روز میں مکمل فائدہ ہو جائے گا۔

۸۔آج کل جوڑوں کی بیماری عام ہے۔ بوڑھوں کے علاوہ نوجوان بھی اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس مرض میں اسگندھ پاک ایک ایک چمچی صبح شام دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ ایک ماہ کافی ہے۔

۹۔بانجھ عورت روزانہ سپاری پاک نہار منہ ۹ ماشہ کھائے اور عصر کے وقت اسگندھ پاک ۹ ماشہ دودھ کے ساتھ لے۔ یوں حمل ٹھہر جاتا ہے۔

۱۰۔ایک تولہ اسگندھ پاک رات کو ایک پاؤ دودھ میں بھگو دیں۔ صبح مل چھان کر پی لیں۔ ذیابیطس کے علاج میں مفید ہے۔

۱۱۔مضمون لکھ رہا تھا کہ مانانوالہ ضلع شیخوپورہ سے ایک صاحب کا فون آیا۔ انہوں نے ایک ماہ اسنگدھ پاک استعمال کی تھی۔ موصوف ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا تھے۔ انہیں بھی اس سے فائدہ پہنچا۔

ں%����C ` C کیم عبدالحکیم قصوری کا مجرب ہے۔ بہت عرصہ برما میں رہے۔ آخری عمر بہاولنگر میں گزاری وہ ساری زندگی اپنے مریضوں کو یہ نسخہ استعمال کراتے رہے۔

ھوالشافی : سقمونیا ولایتی۔ گوگل صاف شدہ۔ مصبر زرد۔ عصرہ ریوند خطائی ۱۲۔ ۱۲ گرم۔ پہلے گوگل کو پانی میں حل کریں اور دیگر ادویہ کا سفوف ملا کر چنے کے برابر گولیاں بنا لیں اور رات سوتے وقت ۱ تا ۳ گولی نیم گرم پانی یا دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ فوری قبض کشائی کرے گی۔

۴۔ثابت اسپغول ایک تولہ۔ گائے کا دودھ ایک پاؤ  لے کر اس میں ایک تولہ خالص بادام روغن ملائیں۔ رات سوتے وقت لے لیں چند دن کے استعمال سے پاخانہ کھل کر آئے گا۔

۵۔ھوالشافی : گل سرخ ۲۵۰ گرام۔ سنا مکی ۲۵۰ گرام۔ دونوں دواؤں کو رات بھر ایک کلو پانی میں تر کریں اور صبح آگ پر جوش دے کر پکا لیں۔ جب دو تہائی پانی سوکھ جائے تو ۷۵۰ گرام مصری ملا کر محفوظ رکھیں۔ نہایت مزیدار دوا تیار ہے۔ دوائی کی دوائی۔ مٹھائی کی مٹھائی۔ رات کو سوتے وقت چھ تا ۱۲ گرام دودھ سے لے لیں۔

۶۔گلاب کے پھولوں کی بنی ہوئی گل قند ۲۵۰ گرام۔ ہرڑ جلابہ ۵۰ گرام۔ عرق گلاب آدھ کلو۔ جلابہ ہرڑ کو کھرل میں باریک پیس کر گل قند میں شامل کر کے نیم گرم دودھ سے لیں۔ یہ بہترین قسم کی دوا ہے اور اس سے ہر ایک کو فائدہ ہوتا ہے۔

۷۔یہ نسخہ بہترین قبض کشا، مخرج بلغم ہے۔ پیٹ کے کیڑوں کو خارج کرتا ہے۔

ھوالشافی : مصبر سیاہ ۲۵۰ گرام۔ سونٹھ ۲۵۰ گرام۔ سرکہ ۱۶۰ گرام۔ سنلائٹ صابن کا ایک ٹکڑا ۵۰ گرام۔ سب سے پہلے مصبر اور سونٹھ کو باریک پیسیں۔ پھر صابن کو سرکہ میں ڈال کر کھرل کریں۔ جب اچھی طرح حل ہو جائے تو باقی سفوف اس میں شامل کر لیں اور خشک کر کے چنے کے برابر گولیاں بنائیں۔ رات کو سوتے وقت ۱ تا ۲ گولیاں دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

۸۔یہ دوا قبض کشا اور مسہل ہے۔ دائمی قبض میں تھوڑی مقدار میں ۱ تا ۳ گولی دینی چاہیے تاکہ اجابت با فراغت ہو جائے لیکن اگر ان گولیوں کو جلاب کے لیے استعمال کرنا ہو تو ۴ تا ۶ گولیاں استعمال کرائیں۔

ھوالشافی : ست صبر سقوطری ۱۲ گرام۔ گودہ اندرائن ۶ گرام۔ ستمو ۶ گرام۔ غاریقون ۶ گرام۔ اجوائن خراسانی ۶ گرام۔ سب ادویہ کو الگ الگ پیس لیں اور شہد ملا کر چنے کے برابر گولیاں بنا لیں۔

صبر سقوطری کو تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ صاف ستھرا سقوطرہ کا مصبر لے کر اسے کوٹ کر باریک کر لیں اور دس گناہ پانی میں حل کر کے رکھ دیں۔ ہر ایک گھنٹہ بعد مسلسل بارہ گھنٹے اسی میں چمچ پھیرتے رہیں۔ پھر ۱۴ گھنٹے اس کو محفوظ پڑا رہنے دیں۔ اس کے بعد پانی کو نتھار کر آگ پر پکائیں۔ جب گاڑھا ہو جائے تو آگ سے نیچے اتار لیں۔ پھر اس کو پانی کی بھاپ میں زیادہ گاڑھا کریں حتیٰ کہ بھاپ اڑنا بند ہو جائے۔ یہ وہ دوا ہے جو قبض کے لیے انتہائی مفید ہے اور ہمارے دواخانہ میں گزشتہ ۷۵ سال سے زیر استعمال ہے۔

Last Updated : Dec 22, 2012