سملو سے بیماریوں کو منہ توڑ جواب دیجئے

 

ایک تجربے کار طبیب اپنے سینے میں پوشیدہ قیمتی طبی نسخے افادہ عام کیلیے وا کرتے ہیں

مارچ 2004ء کے اردو ڈائجسٹ  میں سملو پر میرا مضمون چھپا، تو پاکستان کے کونے کونے سے لوگوں نے رجوع کیا۔ میں نے دس ہزار افراد کو یہ بوٹی مفت فراہم کی۔ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کےبے شمار اخبارات و رسائل نے اردو ڈائجسٹ کے حوالے سے یا  بلا حوالہ اسے نقل کیا۔ بے شمار طبی جرائد نے اسے اپنے صفحات میں جگہ دی۔ بوٹی حاصل کرنے کے لیے برصغیر کے علاوہ سعودی عرب، شارجہ، دبئی، کویت، ایران، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، برازیل، جرمنی اور آسٹریلیا سے بھی لوگوں نے رابطہ کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اردو ڈائجسٹ کا دائرہ اثر دنیا کے تمام ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔

ناسپاس گزاری ہو گی اگر میں ان اصحاب کا شکریہ ادا نہ کروں جو مجھے وقتاً فوقتاً سملو بوٹی بلا قیمت ارسال کرتے ہیں اور میں بھی بلا معاوضہ مستحق مریضوں کو دیتا ہوں۔ ڈاکٹر محبوب خان خاکوانی پہلے مجھے ہر ماہ ایک دو کلو سملو بھیجا کرتے تھے، اب دو بوری بھیجتے ہیں۔ مانسہرہ، بالاکوٹ، کشمیر اور شمالی وزیرستان سے بھی لوگ گاہے بگاہے بھجواتے ہیں۔ ماہ جون میں مجھے زیارت )بلوچستان( جانے کا اتفاق ہوا۔ زیارت، باباخرواری اور دوزخ تنگی کے علاقوں میں زرد سملوکے ہزارہا پودے لگے ہوئے دیکھے۔  لورالائی جانے کا اتفاق ہوا تو درگئی، قلعہ سیف اللہ اورسنجاوی کے اطراف میں بھی پودے نظر آئے۔ خوشی ہوئی کہ صرف شمالی علاقہ جات ہی نہیں بلوچستان بھی اس نعمت سے مالامال ہے۔ وہاں کے لوگوں سے اس کا نام پوچھا تو معلوم ہوا کہ لوگ اسے "زرل" کہتے ہیں۔ بعض جگہ اسے "کورئے" کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اردو ڈائجسٹ میں میرا مضمون چھپنے سے پہلے ایبٹ آباد میں اس کا نرخ ۴۰ روپے کلو تھا، مضمون کی مقبولیت کے بعد اس کی مانگ بڑھی تو دکانداروں نے 100 روپے کلو کر دیا۔

بالاکوٹ سے ایک ہفت روزہ "سیف الملوک" نکلتا ہے۔ مارچ 2004ء میں میرا مضمون چھپا تو 17 اپریل کے سیف الملوک میں جناب گلزار شاہ ٹانگڑی نے سنبل اور سرطان کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس کے مفید حصے پیش ہیں:

قارئین کرام!  اردو ڈائجسٹ کی مارچ 2004ء کی اشاعت میں ایک مضمون سملو کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ بار بار اسے پڑھا اور غور کیا کہ یہ کون سی بوٹی ہے؟ آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ دراصل سمبل یا سمبل نامی عام جھاڑی ہے جس کی جڑ زرد رنگ کی ہوتی ہے۔ ہمارے علاقے میں یہ کانٹے دار جھاڑیاں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ مضمون نگار نے اس جھاڑی کو بوٹیوں کی صف میں شمار کر کے خوشخبری سنائی ہے کہ سمبل کی جڑ کے سفوف سے سرطان کے مریضوں کا شفا بخش علاج ہو چکا ہے۔  چند مریضوں کے تجربات بھی بیان کیے گئے ہیں جنہیں شفا نصیب ہوئی۔

مضمون نگار عبد الوحید سلیمانی نے جو مستند حکیم ہیں، ہر مریض کی حالت تفصیل سے بیان کی ہے۔ ضلع مانسہرہ کے دیہات میں سنمبل کی جھاڑی کثرت سے ملتی ہے۔ یہ خودرو جھاڑی ہے۔ اکثر لوگ اسے چراگاہوں سے کاٹ دیتے ہیں لیکن یہ ختم ہونے میں نہیں آتی بلکہ موسم بہار میں پھر برگ و بار لے آتی ہے۔ اس کے پرانے پودوں کا قد سات آٹھ فٹ ہوتا ہے۔ شاخیں اطراف میں پھیلی اور کانٹوں  سے بھری ہوتی ہیں۔ ہر کانٹا سہ شاخہ ہوتا ہے۔ پرانے پودوں کے تنے کا قطر تین چار انچ ہوتا ہے۔ جڑیں گہری بلکہ آٹھ دس فٹ اندر گئی ہوتی ہیں۔ یہی جڑ کارآمد ہے۔

اسے کاٹ کر اس پر سے چھلکا اتارتے اور سائے میں خشک کر لیتے ہیں۔ یہ چھلکا زرد رنگ کا اور کڑوا اس قدر کہ الامان۔ اس کے زرد پھول گچھوں کی شکل میں لہلہاتے ہیں۔ پتے لمبوترے اور نوکیلے ہوتے ہیں۔ پھول چند دن بعد جھڑ جاتے ہیں۔ ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے سبز دانے نکلتے ہیں جو پکنے پر سیاہ ہو جاتے ہیں۔ بچے انہیں کھانے کے لیے جھاڑیوں پر لپکتے نظر آتے ہیں۔ کچھ بچے پھول اور پتے بھی شوق سے کھاتے ہیں جن کا ذائقہ ترش ہوتا ہے۔ بڑے بھی یہ پھل کھاتے ہیں جو منہ اور گلے کے امراض کا علاج ہے۔ اس کی جڑ خزاں کے آخر میں نکالی جاتی ہے تاہم ضرورت پڑنے پر کسی وقت بھی تازہ جڑ کا چھلکا اتار کر استعمال کر سکتے ہیں۔

مقامی لوگ اسے مختلف امراض میں استعمال کرتے اور اس کے شفا بخش اثرات سے مستفید ہوتے ہیں۔ مثلاً گلے میں تکلیف ہو تو اس کا چھلکا منہ میں رکھ کر سو جائیے۔ اس کا کڑوا پانی حلق سے اترتا رہتا ہے اور صبح تک تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔ منہ میں چھالے ہوں تو ایک چٹکی سفوف منہ میں رکھنے سے گھنٹہ بھر میں تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔ جوڑوں کے درد میں سوتے وقت دو تین چٹکیاں سفوف پانی سے لے لیں۔ تین چار روز یہ عمل دہرانے سے درد رفع ہو جاتا ہے۔

سنمبل کا سفوف روزانہ چھڑکنے سے پرانے سے پرانا زخم ہفتہ بھر میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی دن میں دو بار کھانے کے بعد پانی کے ہمراہ سفوف کی دو تین چٹکیاں لینی چاہییں۔ ہڈی کے ٹوٹ جانے پر انڈے کی سفیدی میں سنمبل کا سفوف ملا کر متاثرہ جگہ لیپ کیجئے اور کس کرباندھ دیجئے، ہڈی جڑ جائےگی۔ کئی ایک فوائد اب سامنے آ رہے ہیں مثلاً  ذیابیطس کے مریض دو تین چٹکیاں دن میں دو بار پانی سے پھانک لیں، تو شکر کی سطح معمول پر آ جاتی ہے۔ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کیا واقوی سنمبل کا سفوف مانع ذیابیطس ہے یا نہیں؟ حکیم صاحب انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، میں ان کی کاوش کو سلام کرتا ہوں۔

***

مارچ 2004ء کے بعد میں نے بے شمار امراض پر سملو یا اس کے مرکبات استعمال کیے، الحمد للہ وہ بے حد کامیاب ہوئے مثلاً چھاتی کے سرطان میں کشتہ سنکھ، ہلدی اور سملو ہم وزن باریک پیس کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول بھر لیں۔ انہیں صبح، دوپہر، شام بعد از غذا استعمال کریں۔ بفضلہ تین ماہ میں آرام آ جائے گا۔

غدہ درقیہ کی سوجن

اگر غدہ درقیہ (Thyroid Gland) بڑھ جائے تو مندرجہ بالا تین ادویہ میں آرسینک پاؤڈر نمبر ۲ کا ہم وزن اضافہ کریں اور صبح و شام بعد از غذا زیرو کا کیپسول بھر کر استعمال کریں۔ دو سے تین ماہ میں بڑھا ہوا غدہ معمول پر آ جائے گا۔

داغ دھبے اور چھائیاں

نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے چہروں پر اکثر سیاہ چھائیاں اور داغ دھبے پڑ جاتے ہیں یا دانےنکل آتے ہیں۔  لڑکے اور لڑکیاں یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی رنگت صاف ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ طرح طرح کے آمیزے اور کریمیں استعمال کرتے ہیں مگر سملو کریم سب سے بہتر ہے۔ اس کے استعمال سے ایک نوجوان بچی کے دانے ایک ہی ہفتے میں کافور ہو گئے۔ نسخہ حسب ذیل ہے:

کشتہ سنکھ، سملو، ہلدی اور آم کے درخت کی چھال چاروں ہم وزن باریک پیس کر چہرے کی کسی اچھی کریم میں ملا لیں اوررات کو چہرے پر لگائیں۔ کریم ان چاروں کے مجموعے کے برابر ہونی چاہیے۔ صبح ڈیٹول، نیم یا گندھک کے صابن سے منہ دھو لیں۔

خارش، داد، پھوڑے

جسم پر خارش، داد چنبل، پھوڑے پھنسی ہوں یا سر پر دانے نکل آئیں، تو سملو کی جڑ ۵ تولہ باریک پیس کر بیس تولہ سرسوں کے تیل میں ملا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں۔ پندرہ دن میں فائدہ ہو گا۔ مرض پرانا ہو، تو نسخہ ایک تا دو ماہ استعمال کریں۔

دماغی رسولی کا خاتمہ

درخت سرس کی چھال، کشتہ سنکھ، سملو اور ہلدی میں ہم وزن چینی شامل کر کے زیرو کے کیپسول میں بھر لیجئے۔ صبح، دوپہر اور شام بعد غذا عرق دھمانسہ کے ساتھ ایک ایک کیپسول استعمال کریں۔ ذیابیطس کے مریض چینی شامل نہ کریں، نیز چار چار رتی کی مقدار میں دوا لیں۔ تین سے چار ماہ تک دوا کا استعمال جاری رکھیں۔ یہ دماغی رسولی )برین ٹیومر( کا شافی علاج ہے۔

گردے بہتر بنائیے

اگر گردے میں رسولی ہو یا ان کی صفائی )ڈائیالیسس( ہو رہی ہو تو:

ایک چاول کشتہ سونا،

ایک چاول آرسینک نمبر ۲،

ایک رتی کشتہ سنکھ،

ایک ماشہ سملو

ملا کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول بھریں اور صبح و شام بعد غذا، عرق منجشٹھا کے ساتھ استعمال کریں۔ اگر ڈائیالیسس روزانہ بھی ہو رہا ہو تو نسخے کے ایک ہفتہ استعمال سے ہر دوسرے روز ہونے لگے گا اور چالیس روز کے استعمال سے ہر پندرہ روز بعد۔

بہترین منجن

اگر دانتوں میں درد ہو یا مسوڑھوں سے خون آتا ہو، تو کسی اچھے منجن میں اس کی نصف مقدار کے ہم وزن سملو ملائیں اور دانتوں پر بطور منجن ملیں، ان شاء اللہ دنوں میں خون رک جائے گا اور دانتوں کا درد بھی کافور ہو گا۔

درد سے نجات پائیے

درد جسم کے کسی بھی حصے میں ہو، جوڑوں کا درد ہو یا کندھوں کا، ٹانگوں میں ہو یا کولہوں میں، عرق النساء ہو یا سر درد ، مندرجہ ذیل نسخہ استعمال کرنے سے بالکل ختم ہو جاتا ہے:

کشتہ سنکھ ۴ تولہ، سملو ۴ تولہ، کچلہ مدبر ایک تولہ، کشتہ شنگرف ۶ ماشہ، کشتہ بارہ سنگھا ۶ ماشہ، آرسینک پاؤڈر نمبر ۲ ایک تولہ۔

یہ ادویہ باریک پیس کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول میں بھر لیں اور صبح و شام بعد از غذا ایک پاؤ دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ ایک ماہ تک کھانے سے ہر قسم کا درد ختم ہو جائے گا۔

بانجھ پن دور کیجئے

بانجھ پن، اٹھرا اور منہ کے سرطان کے لیے وہی نسخہ استعمال کیجئے جو چھاتی کا سرطان دور کرتا ہے۔ اسی مقدار میں ایک ایک ماشہ، بانجھ پن اور اٹھرا سے نجات کے لیے چھ چھ ماہ اور منہ کے سرطان میں تین ماہ تک استعمال کریں۔

خون کا زہر

خون میں اگر ایک قسم کا زہر، سیرم ٹرائی گلیسرائیڈز (Serum TriGlycerides)  بڑھ جائے تو سنکھ کا کشتہ، سملو اور ہلدی ہم وزن ملا کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول عرق ذیابیطس چوتھائی پیالی کے ساتھ صبح و شام بعد غذا، استعمال کریں۔

امساک کے مریض

مضمون زیر تحریر تھا کہ حکیم محمد شفیق مغل مریدکے سے تشریف لائے۔ وہ سملو کی گولیاں بنا کر امساک کے مریضوں کو دیتے ہیں، بے حد مفید ثابت ہوئی ہیں۔ انہوں نے نسخہ بتایا کہ ۵ تولہ سملو ایک کلو پانی میں بارہ گھنٹے تک بھگو رکھیے پھر اسے آگ پر چڑھا دیں۔ جب آدھا پانی رہ جائے تو سملو چھان کر خشک کر لیں اور چنے کے برابر گولیاں بنا لیں۔ رات سوتے وقت دو گولی ہمراہ ڈیڑھ پاؤ دودھ استعمال کریں۔

بلند فشار خون معمول پر لائیے

سملو بلند فشار خون )ہائی بلڈ پریشر( میں بھی مفید ہے۔ ایک پاؤ سملو باریک پیس لیں، اس میں پانچ تولہ تازہ کھجور گھٹلی نکال کر ملائیں اور چنے کے برابر گولیاں بنا لیں۔ پہلے ایک ہفتہ صح، دوپہر اور شام بعد غذا، ایک ایک گولی استعمال کریں۔ دوسرے ہفتے صبح شام بعد غذا لیں۔ تیسرے ہفتہ صرف بعد غذا ایک گولی استعمال کریں۔ بفضلہ تعالی خون کا دباؤ معمول پر آجائے گا۔

تپ دق اور پرانا بخار

ملتان سے ہمارے ایک عزیز، طیب انصاری صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے تپ دق اور پرانے بخارکے لیے ایک نسخہ بتایا: سملو، کشتہ  گئودنتی، ست گلو اور افسنتین دس دس تولہ، اجوائن خراسانی دو تولہ اور نمک خوردنی ایک تولہ، ان سب کو ملا کر باریک پیس لیں اور ایک ایک ماشہ صبح و شام بعد غذا ہمراہ چائے استعمال کریں۔ چند دن میں بخار ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گا۔

ہڈی ٹوٹ جائے تو۔۔۔

قاری فصح الدین ضلع مانسہرہ کے باسی ہیں۔ ان کے بھائی جناب قاری شمس الدین جید عالم دین اور ہومیوپیتھی ڈاکٹر ہیں۔ موصوف آج کل لاہور میں ہی مقیم ہیں۔ پچھلے دنوں ان سے ملاقات ہوئی۔سملو کے موضوع پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے بے شمار واقعات اور نسخے بتائے۔ ان میں سے ایک نذر قارئین ہے:

کہنے لگے، "آج سے چالیس سال قبل ہم نے گھر میں گائے بھینس پال رکھی تھیں۔ ان کا دودھ دوہنا اور انہیں چرانا میری ذمہ داری تھی۔ پہاڑی علاقہ تھا، اسی میں گائے بھینسیں چرتی تھیں۔ ایک دفعہ میری سب سے لاڈلی بھینس پہاڑ کی چوٹی سے پھسل کر نیچے جا گری۔ ہم بھاگ کر بھینس کے پاس پہنچے، وہ بری طرح زخمی تھی اور ران کے قریب اس کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ سب کہنے لگے کہ اب اس کا بچنا محال ہے لہذا اسے ذبح کر دیا جائے مگر میں نے کہا اسے ذبح نہیں کرنے دوں گا۔ میری ضد کے سامنے میرے گھر والوں نے ہتھیار ڈال دیے مگر یہ بھی کہا کہ دیکھیں تم اس کی کیسے خدمت کرتے ہو۔ میں نے ادھر ادھر سے پوچھا کہ بھینس کی زخمی ٹانگ کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے مگر کوئی مناسب جواب نہ ملا۔ اسی اثناء میں مجھے ایک سیانے کے بارے میں بتایا گیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ مجھے اس کا حل بتا سکتا ہے۔

میں اس کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ مکئی کے آٹے میں سملو ملا کر پانی میں آمیزہ تیار کرو اور بھینس کی ران پر لیپ کر دو۔ میں ایسے ہی کرتا رہا۔ اللہ کے فضل سے بیس دن بعد بھینس بالکل ٹھیک ہو گئی اور چلنے پھرنے لگ گئی۔ اس کے بعد وہ لمبا عرصہ زندہ رہی اور اس دوران چھ بچے بھی دیے۔"

اس واقعے سے مجھے شرقپور کے ایک حکیم کا واقعہ یاد آ گیا جن کے پاس اٹھارہ انیس سالہ لڑکا لایا گیا تھا۔ اس کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ انہوں نے انڈے کی سفیدی میں سملو پیس کر لگایا، تو اس کی ہڈی جڑ گئی اور وہ پیدل چل کر واپس گیا۔ اس علاج میں بھی بیس دن ہی لگے تھے۔

عرق النساء کی تکلیف

قاری فصح الدین نے عرق النساء کو دور کرنے کے لیے بھی ایک نسخہ بتایا۔ عرق النساء عورتوں کی بیماری نہیں بلکہ ایک رگ ہے جو کولہےکی ہڈی سے لے کر پاؤں تک جاتی ہے، جب اس میں شدید درد ہو تو انسان چلنے پھرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سملو، چاکسو، سونٹھ اور مرچ سیاہ۵-۵ تولے لے کر ایک کلو شہد میں حل کر دیں اور صبح دوپہر شام ۲-۲ چھوٹے چمچ استعمال کریں۔ پندرہ دن میں عرق النساء کی تکلیف ختم ہو جائے گی۔

اس مرض کے لیے ایک اور صاحب نے بھی نسخہ عنایت کیا۔ ایک پاؤ سملو باریک پیس کر چار کلو دودھ میں ملا کر پکائیں۔ ایک پاؤ سملو باریک پیس کر چار کلو دودھ میں ملا کر پکائیں۔ جب دو کلو دودھ رہ جائے تو اسے برفی کی طرح کاٹ لیں اور صبح و شام بعد غذا ایک ایک ٹکڑا کھائیں۔ دودھ میں حسب ذائقہ چینی شامل کی جا سکتی ہے۔

عرق النساء، جوڑوں کے ہر قسم کے درد، گنٹھیا اور بولی تیزاب )یورک ایسڈ( سے نجات پانے کے لیے صرف سملو ہی کافی ہے۔ سملو سیاہ ۳ ماشہ کا ایک ٹکڑا رات کو ایک پیالی پانی میں بھگو دیں، صبح ناشتہ سے آدھ گھنٹہ پہلے جب پانی جذب ہو جائے تو پیالی میں مزید پانی ڈال دیں۔ اسے نماز عصر کے بعد پیجئے۔ اب بوٹی ضائع کر دیں اور رات کو نئی بوٹی پانی میں بھگوئیے۔ یہ نسخہ پندرہ بیس روز استعمال کریں۔

ذیابیطس کے لیے بھی تنہا سملو مفید ہے۔ ۳-۳ ماشہ اسے درج بالا نسخے کے مطابق استعمال کریں۔

مرض ذیابیطس میں

گورکھ پان، برگ نیم، سملو کی جڑ کا چھلکا، کرنجوا، گڑمار بوٹی، رسونت مصفی، چاکسو چرائتہ نیپالی اور نرکچور، ہر ایک دس تولہ خرید لیجئے۔ سب کو باریک پیس کر ملا کر رکھ لیں اور ۳-۳ ماشہ صبح و شام بعد غذا استعمال کریں۔ یہ دوا ذیابیطس دور کرنے کے علاوہ پیشاب کی بدبو اور زیادتی سے بھی نجات دلاتی ہے۔

منہ کی بیماریاں

منہ کا درد دور کرنے اور ہلتے ہوئے دانت قائم رکھنے کے لیے  سملو، جڑ پان اور عناب ہم وزن ملا کر ۲-۲ ماشہ صبح و شام بعد غذا لیں۔ اگر پسلیوں یا گردن کے مہروں میں درد ہو تو ایک ماشہ رات کو دودھ سے لیں۔

مختلف نسخے

ایک شخص کی سینے کی ہڈی حادثے میں ٹوٹ گئی۔ ہڈی پر سملو اور ارجن کا چھلکا ہم وزن باریک پیس کر انڈے کی سفیدی میں ملا کر صبح اور رات لگایا گیا۔ بیس دن میں ٹوٹی ہوئی ہڈی ٹھیک ہو گئی۔ ایک شخص کے سینے پر ناسور کا پھوڑا نکل آیا۔ روزانہ صبح دوپہر اور شام بعد غذا ایک ایک ماشہ سملو باریک پیس کر استعمال کروائی گئی۔ اللہ نے بیس دن میں اسے شفا سے نواز دیا۔

مضمون تکمیل کے مراحل میں تھا کہ ٹاؤن شپ لاہور سے جناب حکیم محمد ریاض تشریف لائے۔ انہوں نے ذیابیطس دور کرنے کے لیے اپنے سینے کا ایک راز عطا فرمایا اور کہا کہ اس دوا کا ایک ماہ استعمال کافی ہے۔

سملو، کلونجی، تخم میتھی، کاسنی ہندی ہم وزن لے کر ۵-۵ ماشہ یعنی ۱-۱ چمچ صبح و شام بعد غذا استعمال کریں۔ رات کو خشخاش ایک چمچ دودھ کے ساتھ کھا لیں۔

یہ وہ چند تجربات ہیں جو مجھے گزشتہ ایک سال میں حاص ہوئے۔ اگر سملو کے تجربات آپ کے تجربے میں بھی آئے ہوں، تو ان سے آگاہ کیجئے تاکہ خلق خدا کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جا سکے۔

***

اردو ڈائجسٹ، نومبر ۲۰۰۵ء

Last Updated : Dec 22, 2012