زعفران

جنوری ۲۰۱۱ء میں مجھے عمرہ پر جانے کی توفیق ملی۔ مکہ میں ۱۵ روزہ قیام کے بعد ہم نے مدینہ شریف حاضری دی۔ پاکستان سے روانگی کے وقت میں نے ان لوگوں کے پتے لے لیے تھے جن سے وہاں میں نے رابطہ کرنا تھا۔ مدینہ شریف پہنچتے ہی میں نے وہاں رہنے والوں سے رابطے کیے اور انہیں میں نے بتایا کہ فلاں ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہوں اور اس وقت سے لے کر اس وقت تک آپ کو مل سکتا ہوں۔ ان میں سے بے شمار لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان ہی میں ایک حکیم محمد اسلم غم نوش تھے۔ حکیم صاحب قصبہ مڑل ضلع ملتان کے رہنے والے ہیں اور گزشتہ ۳۶ سال سے مدینہ منورہ میں مقیم ہیں۔ آج کل مسجد نبوی میں پڑھا رہے ہیں۔ مستند حکیم ہیں۔ عربی زبان پر عبور حاصل ہے۔ جب وہ میرے پاس ہوٹل میں تشریف لائے تو والد گرامی استاذ الحکماء حکیم محمد عبداللہ کی شہرہ آفاق طبی کتاب کنز المجربات جلد اول کا عربی ترجمہ ان کے پاس موجود تھا۔ وہ یہ ترجمہ میرے لیے ہی لائے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری جلد کا ترجمہ بھی انہوں نے شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال کے آخر تک وہ تینوں جلدوں کا ترجمہ مکمل کر لیں گے۔ ان سے بے شمار طبی نسخوں کا تبادلہ ہوا۔ ان کے ساتھ ۱۰۔ ۱۲ سال کا ایک خوبصورت سا بچہ بھی تھا۔ میں نے اس بچے کی صحت مندی اور خوبصورتی کی تعریف کی اور ان سے پوچھا کہ آپ کے اور بچے بھی ہیں۔ کہنے لگے میرے دس بچے تھے لیکن وہ سب کے سب جنت البقیع میں دفن ہیں۔ میں نے بچوں کی وفات پر تعزیت کی۔ پھر ادھر اُدھر کی گفتگو شروع ہوئی تو حکیم غم نوش صاحب نے مجھے بتایا کہ جب میں ۳۶ سال پہلے مدینہ شریف آیا تو میری ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ بڑے وجیہہ، تندرست اور صحت مند شخص تھے۔ میرے خیال میں پورے سعودی عرب میں ان جیسا خوبصورت آدمی کوئی نہیں ہو گا۔ میری ان سے دوستی بڑھتی گئی۔ اللہ نے ان کو بیٹے سے نوازا۔ بیٹا بڑا ہوا اب وہ مکمل نوجوان ہے اور باپ ہی کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر خوبصورت ہے۔ ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی صحت اور خوبصورتی کا راز کیا ہے؟ کہنے لگے کہ میرے والد صاحب بچپن میں گرم دودھ میں ۳ تریاں زعفران ملا کر رات کو مجھے پلایا کرتے تھے۔ جب میں جوان ہوا تب بھی میں تریاں ملا کر دودھ پیتا رہا اور اب اپنے بچوں کو بھی پلا رہا ہوں۔ اس سے مجھے اور میرے بچوں کو ۲ فائدے ہوئے۔ ایک تو مجھے کبھی کوئی بڑی بیماری نہیں آئی اور دوسرا میرا رنگ نکھرتا چلا گیا۔ اب یہی دوا میں نے اپنے بچوں کو دینا شروع کی اور الحمدللہ وہ بھی حسن و جمال کا نمونہ ہیں۔ حکیم صاحب کہنے لگے میں نے اپنے بیٹے کو بھی یہی دوا دی۔ الحمدللہ وہ بھی انتہائی تندرست اور خوبصورت ہے۔ پاکستان واپس آ کر میں نے اپنے چھوٹے بھائی حکیم عبدالرحمن سلیمانی سے زعفران والے اس نسخہ کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگا۔ ’’آیورویدک طب میں ایک نسخہ ہے کہ اگر عورتوں کو دوران حمل زعفران کی ۳ تریاں گرم دودھ میں حل کر کے دی جائیں تو بچہ خوبصورت پیدا ہوتا ہے۔"

زعفران کشمیر میں پیدا ہوتا ہے۔ اسے ایسی اونچی زمین میں بوتے ہیں جہاں پانی بالکل نہیں ٹھہرتا۔ اس کی جڑ آلو کی جڑ کی طرح ہوتی ہے۔ کشمیری زعفران کے علاوہ سپین، اٹلی، شام، مصر اور ایران میں بھی خوب پیدا ہوتا ہے۔ زعفران کا درخت چھوٹا، پتے لمبے اور پتلے ہوتے ہیں۔ اس کا پھول نیلے رنگ کا ہوتا ہے جو نومبر دسمبر میں نکلتا ہے۔ اس پھول کے اندر نارنجی رنگ کے ریشے کو زعفران کہتے ہیں۔ جب پھول کھلنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کو بہت تڑکے تاروں کی چھاؤں میں توڑتے ہیں۔ ان کے اندر کے ریشوں کو چن کر سفید کاغذ پر پھیلا کر انہیں حرارت دے کر خشک کر لیتے ہیں۔ اس کے ۳۰ ہزار پھولوں سے ۲۵۰ گرام کے قریب زعفران نکلتی ہے۔

زعفران کو زبان پر رکھیں تو زبان پر تھوڑی سی جلن ہوتی ہے اور زبان سے خوشبو آتی ہے۔ اس کا رنگ زردی مائل سرخ ہوتا ہے۔ اس کے ریشے کے دونوں سرے برابر ہوتے ہیں۔ اس کا سوکھا ہوا ریشہ باریک اور ہلکا ہوتا ہے۔ اس کا مزاج بہت زیادہ گرم نہیں ہوتا۔ یہ دوسرے درجہ میں گرم اور پہلے میں خشک ہے۔

زعفران کے مختلف زبانوں میں مختلف نام ہیں۔ ہندی میں اس کو کیسر کہتے ہیں۔ انگریزی میں اس کا نام سیفرن ہے۔ لاطینی اور یونانی میں اس کو کروکس کہا جاتا ہے۔ بنگلہ میں اس کو جعفران کہتے ہیں۔

زعفران طبیعت کو فرحت بخشتی ہے۔ گردہ، مثانہ اور جگر کو قوت اور طاقت پہنچاتی ہے۔ جسم پر ہر طرح کی سوجن اور ریاح کو تحلیل کرتی ہے۔ گردے اور مثانہ کو مواد سے صاف کرتی ہے۔ گردے کے درد کو دور کرتی ہے۔ آنکھ میں پانی ملا کر سلائی ڈالنے سے آنکھ کے درد اور سرخی کو دور کرتی ہے۔ روزانہ رات ایک ایک سلائی آنکھ میں ڈالنے سے نظر کو تیز کرتی ہے۔ جسم میں سردی کی وجہ سے ہونے والے درد اور پسلی کے درد میں فائدہ مند ہے۔ جسم میں اگر مادہ منویہ کم ہو تو اسے پورا کرتی ہے۔ جن خواتین کو حیض رک رک کر آتا ہو یا جن مردوں کے پیشاب میں رکاوٹ ہو اسے جاری کرتی ہے۔ اگر کسی کا پیشاب آنا  رک جائے تو اس کے منہ میں اس کا ایک تار رکھ دیں، چند منٹ میں پیشاب جاری ہو جائے گا۔ آنکھ پر اگر گوہانجنی نکلی ہو تو ڈیڑھ رتی زعفران کو ۳ قطرے پانی کے ساتھ پیس کر گوہانجنی پر لگائیں، ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔ جس گھر میں چھپکلیاں بہت زیادہ ہوں وہاں ایک برتن میں تھوڑا سا زعفران کھلا رکھ دیں۔ چھپکلیاں بھاگ جائیں گی۔ اگر کسی مریض کو خارش نے بہت زیادہ تنگ کیا ہو تو پانی میں ۳ ماشہ زعفران گھول کر پلائیں خارش ٹھیک ہو جائے گی۔ تسہیل ولادت کے لیے ساڑھے ۴ ماشہ زعفران پلانے سے بچہ فوراً پیدا ہو جاتا ہے۔

۱۹۴۸ء میں جب میں صرف ۴ سال کا تھا میری والدہ امت العزیز ایک بچی امت السلام کی پیدائش کے موقع پر فوت ہو گئیں۔ اس کے بعد والد صاحب کہتے ہیں کہ ملک میں ایسے بہت سے کیس سامنے آئے جن میں مائیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوئیں۔ اس موقع پر لاہور کے معروف طبیب حکیم عبدالمجید سیفی تعزیت کے لیے لاہور سے جہانیاں آئے اور ساتھ ہی یہ نسخہ بھی عنایت کر گئے۔ زعفران، عنبر، جدوار تینوں اشیا ہم وزن لے کر دانہ ماش کے برابر گولیاں بنا لیں۔ وضع حمل سے ۲ ہفتے قبل ۴ گولیاں صبح نہار منہ اور ۳ گولیاں شام دودھ سے دیں۔ جس روز وضع حمل کی امید ہو اس روز ۵ گولیاں صبح کے وقت اکٹھی اور بعد از وضع حمل ۱۰ گولیاں دیں۔ بچہ آسانی سے پیدا ہو گا اور زچہ بھی کمزور نہ ہو گی۔

ایک خاتون کو کئی دن سے درد زہ کی شکایت تھی لیکن بچہ کی پیدائش نہیں ہوتی تھی۔ اس کو تھوڑی مقدار میں زعفران نے بھی کوئی فائدہ نہیں دیا بالآخر اسے ۷ گرام زعفران دی گئی جس سے بچے کی پیدائش آسانی سے ممکن ہو گئی۔

جن لوگوں کی نیند اچاٹ ہو گئی ہو اور انہیں کسی بھی صورت نیند نہ آتی ہو، زعفران، افیون اور تج تینوں ہم وزن لے کر کل روغن میں پیس کر منہ اور چہرے پر مل دیا جائے تو فوراً نیند آ جائے گی۔

آج کل بخار کا زمانہ ہے۔ تقریباً ہر دوسرا شخص بخار میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اگر ایک رتی زعفران پانی کی گلوری میں رکھ کر مریض کو کھلائیں تو دن میں دو بار ایسا کرنے سے بخار اتر جاتا ہے۔ اگر ہم وزن دارچینی اور زعفران کی گولی بنا کر مریض کو کھلائی جائے درد شکم دور ہو جاتا ہے۔ زعفران اور عاقر قرحا کی دو دو رتی کی گولیاں بنا کر دی جائیں تو عورتوں کو حیض کی تنگی دور ہو جاتی ہے۔

اگر کسی کو ورمِ جگر ہو تو کریلے کا رس ایک چمچ ۳ تریاں زعفران حل کر کے ۱۵ دن میں ورم جگر تحلیل ہو جائے گا۔

اگر کسی کو بھوک لگنا بالکل بند ہو گئی ہو تو ایک بڑا چمچ کاغذی لیموں کا رس لے کر اس میں ۳۔۴ تریاں زعفران ملا کر دیں بھوک کھل جائے گی۔

اگر کسی کو شوگرکا عارضہ ہو تو ایک بڑا چمچ گھی لے کر اس میں ۳ تریاں زعفران ملا کر ایک ہفتہ صبح و شام کھلائیں، شوگر کا افاقہ ہو گا۔

کہروڑ پکا کا زعفران …!

آج سے ۳۔۴ سال پہلے ایک شخص میرے پاس زعفران لے کر آئے اور کہنے لگے کہ آپ کو زعفران کی ضرورت ہے۔ میں نے پوچھا آپ کے پاس کتنا ہے؟ کہنے لگے چاہے آپ ۱۰۰ من لے لیں۔ میں نے کہا مذاق چھوڑیں، آپ کتنا دے سکتے ہیں؟ کہنے لگے میں مذاق نہیں کر رہا آپ کو جتنا مطلوب ہو میں اتنا حاضر کر دوں گا۔ میں نے پوچھا نرخ کیا ہے۔ کہنے لگے ۵۰۰ روپے کلو۔ میں نے کہا حضرت! آپ کو پتا ہے کہ آج کل اس کا نرخ ۵ لاکھ روپے کلو ہے، اس پر وہ خاموش رہا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ زعفران کشمیری ہے ایرانی یا اٹلی کا۔ کہنے لگے حکیم صاحب یہ زعفران ان تینوں جگہوں کا نہیں ہے بلکہ یہ کہروڑ پکا کا ہے۔ میں نے کہا کیا مطلب! کہنے لگے ہم نے کہروڑ پکا میں کاشت کیا اور منوں کی تعداد میں پیدا ہوا ہے۔ بعد میں، میں نے کہروڑ پکا سے پتا کیا تو معلوم ہوا کہ یہ زعفران نہیں کسنبہ ہے۔ شکل اس سے ملتی جلتی ہے لیکن نہ فوائد وہ ہیں نہ تاثیر، اس لیے زعفران خریدنا ہو تو بہت چھان پھٹک کر کے خریدیں۔ آج کل زعفران قدرے سستا ہوا ہے۔ میں نے چند روز پہلے اکبری منڈی لاہور سے اس کا نرخ معلوم کیا تو ایک لاکھ ۶۰ ہزار روپے کلو تھا۔ پاپڑ منڈی میں اس کا پرچون نرخ ۲ لاکھ روپے کلو ہے۔

 

) حکیم عبدالوحید سلیمانی، اردو ڈائجسٹ۔ مئی ۲۰۰۶ء (

Last Updated : Dec 22, 2012