منشیات کا استعمال

) تاریخ کے آئینے میں (

حکیم عبدالوحید سلیمانی

 

 

کرۂ ارض آج منشیات کے حصار میں ہے۔ جہاں جہاں تہذیب نو موجود ہے ممکن نہیں کہ وہاں نشہ آور اشیاء موجود نہ ہوں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کیا دنیا میں کروڑوں افراد اچانک نشہ کے عادی بن گئے ہیں یا آغاز ہی سے ایسا ہے۔ اگر یہ سلسلہ پرانا ہے تو اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپ کو اس پر پہلے کبھی تشویش کیوں نہیں ہوئی اور اگر نیا ہے تو کن حالات نے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کو دنیا سے فرار کے راستہ کو اختیار کرنے پر مجبور کیا۔

 

باتیں دونوں ہی قابل غور ہیں اور اگر آپ ذرا سا دماغ پر زور دے کر سوچیں تو ان کی تہہ میں پنہاں بے شمار وجوہات آپ کے سامنے اظہر من الشمس ہو جائیں گی۔

 

منشیات سے مراد ایسی دوائیں ہیں جن کے استعمال سے سرور و انبساط کی کیفیت محسوس ہو۔ دنیا سے بے نیازی اور بے خودی کی کیفیت طاری ہو جائے اور نیند، بے ہوشی، مدہوشی اور بدمستی طاری ہو کر تمام دکھ درد بھول جائیں۔ شروع شروع میں تو سکون کا متلاشی بے انتہا فرحت محسوس کرتا ہے مگر جب نشہ ہرن ہوتا ہے تو اس کی طلب پھر بے چین کر دیتی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ پھر کوشاں ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی نشہ کرنا رہ جاتا ہے۔

 

دنیا میں پانچ سو سے زائد ایسے مرکبات یا مفردات ہیں جنہیں بطور نشہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں سے معروف نام شراب، بھنگ، چرس، گانجا، افیون، سگریٹ، حقہ، کافی، قہوہ، کوکو، چائے اور ’’افیون‘‘ کے مشتقات میں سے نارکوٹین، نازینین، مارفین، ہیروئن اور کوڈین ہیں۔ یہ بات بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ شراب ’’مشروب مغرب‘‘ ہے۔ تمباکو امریکہ اور یورپ والوں کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔ افیون سے اخذ کی جانے والی ان تمام بلاؤں کی ایجاد کا سہرا بھی تقریباً امریکہ کے سر ہے اور اسی نے دنیا کو ان سے متعارف کروایا ہے۔ کیا اسلامی حکومتیں امریکہ سے بااصرار یہ بات منوا سکتی ہیں کہ افیون اور ہیروئن کی طرح شراب اور تمباکو کے تاجران کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے اور ان کے استعمال پر بھی پابندی لگائی جائے۔ اگر کچھ نشوں کو سند جواز بخشا جائے اور کچھ کو قابل نفرت تو آخر اس کی بھی کوئی خاص وجہ ہوگی؟

 

شراب ام الخبائث ہے۔ یہ دماغ میں فتور پیدا کرتی ہے، عقل و خرد کو قتل کر دیتی ہے، ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتی ہے، برے بھلے کی تمیز مٹا دیتی ہے۔ اسلام ہی میں نہیں عیسائیت اور یہودییت میں بھی اس کا استعمال قطعاً حرام ہے۔ کیا امریکی حکومت نے عالمی سطح پر یا کم از کم اپنے ملک ہی میں اس کے خلاف کوئی مہم شروع کی آپ کا جواب یقیناًنفی میں ہوگا۔ وجہ بہت واضح ہے، امریکہ درحقیقت دولت کے پجاری ’’یہودیوں‘‘ کے قبضہ میں ہے اور ان کی سب سے بڑی کمزوری پیسہ ہے۔ اگرچہ وہ خود بھی اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہیں لیکن دیگر ممالک خصوصاً اسلامی دنیا کو شراب برآمد کر کے انہیں اربوں ڈالر ماہوار کی آمدنی ہوتی ہے۔ چونکہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے ایمان پر بھی ڈاکہ پڑتا ہے اور جیبوں پر بھی اور اپنی تجوریاں بھی بھری جاتی ہیں، اس لئے شراب خانہ خراب کا استعمال تہذیب جدید کے عین مطابق ہے اور جو اس کی مخالفت کرے یا محفل میں جام کو ہاتھ نہ لگائے وہ ’’بنیاد پرست‘‘ ہے۔

 

امریکہ میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق شراب پی کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد دیگر منشیات سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ دنیا میں ہونے والے ٹریفک کے نصف سے زائد حادثات کا سبب شراب نوشی ہے اور آدھے سے زیادہ جرائم کی وجہ بھی شراب ہے۔ 

 

نصف صدی پہلے ایک جرمن ڈاکٹر نے یہ بات کہی تھی۔ ’’تم شراب کی آدھی دکانیں بند کر دو تو میں تمہیں آدھے ہسپتال، جرائم کے اڈے اور جیلوں کے بند ہو جانے کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘

 

کیا امریکہ اور یورپ کی حکومت نے اپنے ہی ڈاکٹروں، محققین اور سروے رپورٹوں کی روشنی میں شراب کے اڈے تباہ کرنے کی کوئی مہم چلائی؟ ہر گز نہیں اور اس کا واحد سبب یہ ہے کہ شراب کشید کرنے کے لئے سب کچھ انہیں اپنے ہاں سے ہی مل جاتا ہے اور اس پر زر مبادلہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ اس لئے دولت کی ہوس میں مبتلا اس قوم کو شراب کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے۔

 

ایک اور اہم نشہ تمباکو ہے۔ دوسرے تمام نشے استعمال کرنے والے ابتداء تمباکو نوشی سے کرتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ تمباکو کی پیدائش اور استعمال امریکی ریاستوں میں ہوتا ہے۔ اب بھی سگریٹ اور پائپ کے ذریع امریکہ کھربوں ڈالر سالانہ کا زر مبادلہ کماتا ہے۔ برصغیر میں سگریٹ کو متعارف کرانے والے اور لوگوں کو اس کا عادی بنانے والے بھی اہل مغرب ہی ہیں۔ ایک مغربی ماہر نفسیات نے اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ جو افراد سگریٹ پی سکتے ہیں وہ کوکین، مارفین اور ہیروئن کے بھی عادی ہو سکتے ہیں۔

 

آج کل دنیا بھر میں ’’کولا‘‘ ٹائپ کے مشروبات کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ ان میں بھی کئی اقسام کے نشوں کی آمیزش ہوتی ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک اپنے قومی مشروبات کو بھلا کر ان کے عادی ہو گئے ہیں۔ پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر تشہیر کر کے انہیں ہر فرد اور ہر گھر کی ضرورت بنا دیا گیا ہے۔ ان فرموں کے مالکان کہاں کے باشندے ہیں، پوری دنیا سے حاصل ہونے والی ان کی آمدن سمٹ سمٹا کر کہاں جاتی ہے؟ اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

اب آئیے اس ’’فتنہ عظیم‘‘ کی طرف جسے افیون کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ برصغیر پاکستان و ہند، ایران، افغانستان وغیرہ کی پیداوار ہے لیکن اس علاقہ میں اس کو لانے والا یونانی فاتح سکندر اعظم تھا۔ انگریزوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے افیون کی تجارت کو قابو کیا اور کاشتکاروں پر پابندی لگا دی کہ وہ صرف انگلش سرکار کو تمام کی تمام فصل فروخت کریں۔

 

مقامی آبادی کو وہ ڈپوؤں کے ذریعہ لائسنس ہولڈرز کو معمولی مقدار مہیا کر کے باقی چین اور دوسرے ممالک کو برآمد کرتا تھا۔ یہ مقدار بلامبالغہ ٹنوں کے حساب سے چین بھیجی جاتی تھی۔ انگریز حکومت اور امریکی سمگلر مل کر یہ خدمت سر انجام دیتے تھے۔ اس طریقہ سے ہندوستان سے ہونے والی آمدن کا 20 فیصد انگریزوں کو افیون کی تجارت سے حاصل ہوتا تھا۔ تاج برطانیہ اور چین کے درمیان ’’جنگ افیون‘‘ کے نام سے دو معرکے بھی ہوئے جس کے نتیجہ میں چین کو ہانگ کانگ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

 

انگریزوں کی اس سازش نے چین کو افیون کا اس حد تک نشئی بنا دیا کہ ایک سروے کے مطابق 1913ء میں آبادی کا ہر چوتھا آدمی افیون استعمال کرتا تھا۔ امریکی خود افیون کے دوائی خواص کے اس حد تک مداح تھے کہ انیسویں صدی کے آخر میں شمالی امریکہ میں تیار ہونے والی ادویات میں سے 78فیصد میں افیون شامل ہوتی تھی۔ 1888ء میں بوسٹن کے میڈیکل سٹورز کا ایک سروے کیا گیا تو پتہ چلا کہ 1800 نسخوں میں سے 1481ء میں افیون شامل ہے۔

 

انیسویں صدی میں یورپ میں اس کی مقبولیت بے پناہ تھی۔ بڑے بڑے دانشور، زعماء اور طبقائے امراء راحت و سکون حاصل کرنے اور دردوں سے نجات کے لئے فخریہ اس کا استعمال کرتے تھے۔ معروف انگریز مصنف سموئیل کولرج نے اپنی مشہور تصنیف ’’قبلائی خان‘‘ پوری کی پوری افیون کے نشہ میں ڈوب کر لکھی۔

 

اہل مغرب کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ اس نے افیون کے انتہائی نقصان دہ جوہروں کو اس سے الگ کر کے مسکن درد، مقوی قلب، بے ضرر اور سکون آور قرار دے کر اشتہار بازی کے ذریعہ اس کو فروغ دیا۔ 1813ء میں صارفین کو افیون سے کشید کئے گئے جوہر کو دافع درد سر اور خواب توڑ قرار دے کر خصوصاً جنگ کے زخمی سپاہیوں کو اس صدی کے آخر تک استعمال کرایا گیا۔ جس کی وجہ سے اس کا نام ہی ’’فوجیوں کی دوا‘‘ پڑ گیا حالانکہ یہ افیون سے 10گنا زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ ہیروئن پہلی بار دنیا میں امریکہ میں متعارف کرائی گئی۔ 1890ء میں بہت بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ اسے امراض قلب کے لئے سب سے بہتر دو اقرار دیا گیا اور لوگوں کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ اس سے زیادہ بے ضرر مسکن اور خواب آور دوا کوئی نہیں حالانکہ یہ افیون سے 80 گنا زیادہ نشیلی ہے۔

 

1898ء میں امریکہ میں اسے ڈائی سیٹائل مارفین (Diacetyl Morphine) کے نام سے باقاعدہ پریکٹس میں شامل کیا گیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں ہی جرمنی کی ایک فرم سے تیار کروا  کے انتہائی وسیع پیمانے پر مارکیٹ میں یہ کہہ کر متعارف کرایا کہ درد دل  سے فوری نجات کے لئے یہ مارفین سے زیادہ مؤثر اور نشہ سے بالکل پاک  ہے۔ اہل مغرب نے مارفین اور ہیروئن کے علاوہ 25 نشیلے اجزاء نکالے ہیں جن میں گوڈین(Goodain) پاپاویرین (Papaverine) تھی بین (Thebaine) نارمنین (Narcene) اور نار کوٹین (Narcotine) اہم ہیں۔ آخر الذکر کی وجہ سے ہی اب ہر نشہ آور چیز کو نارکوٹک (Narcotics) کہا جاتا ہے۔

 

افیون در حقیقت خشخاش کے پودے کے کچے پھل کا منجمد رس ہے۔ خشخاش بذات خود نقصان دہ نہیں ہے۔ طب اسلامی اور ویدک میں بے شمار امراض کے لئے مفید ہے۔ بے خوابی کو دور کر کے نیند لاتی ہے لیکن نشیلی نہیں ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ خشخاش کے پھل کا رس اور اس سے حاصل ہونے والا معمولی سا جزو اگر نشہ آور ہے تو باقی پودے کے اجزاء کو کیوں تلف کیا جائے یا ان کی فصلوں کو جبرا کاٹ پھینکا جائے یا کاشت پر پابندی لگائی جائے۔ اس کی مثال بالکل واضح ہے۔ انگور اور کھجور سے شراب کشید کی جاتی ہے لیکن اسلامی شریعت میں نہ ان کے اگانے پر پابندی ہے۔ نہ دیگر استعمالات پر بلکہ انگور سے سرکہ تک بنانے کی اجازت ہے لیکن جب خمیر پیدا ہو کر نشہ دینے لگے تو پھر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ افیون دنیا بھر میں ہزارہا سال سے مستعمل ہے۔ قدیم یونانی اس دوا سے متعارف تھے۔ بقراط کا ہم عصر ریاگوراس اس کے استعمال سے واقف تھا اور دماغی اور نخاعی امراض کے لئے مریضوں کو دیتا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے 300 سال قبل حکیم ثاؤفر طس اور دسقیوریدوس نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔ جالینوس، پلاٹینی رومی، بو علی سینا اور رازی نے افیون کی افادیت بیان کی ہے۔ چودھویں صدی میں شائع ہونے والی ایورویدک کی معروف تصنیف شارنگندھر اور سولہویں صدی میں بھاؤمشر میں اس کے سن کرنے اور نیند لانے کی کیفیت کا تذکرہ موجود ہے۔ برصغیر کے تمام معروف اطبائے کرام اور وید اسے استعمال کراتے تھے۔ کوئی طبی اور ویدک تصنیف ایسی نہیں ہے جس میں تیار ہونے والی ادویہ میں افیون بعض امراض میں مفید نہ تسلیم کی گئی ہو۔ 1979ء میں حدود آرڈیننس کے نفاذ سے پہلے تک پاکستان میں آٹے اور چینی کے ڈپوؤں کی طرح افیون کے ڈپو بھی تھے لیکن کھلے عام ڈپوؤں پر اور سستی ملنے کے باوجود افیونیوں کی تعداد دیہاتوں اور قصبوں میں انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ شہروں کے اندر کسی کسی محلہ میں شاذ ہی کوئی افیمی ہوتا تھا اور اسے بھی لوگ برداشت نہیں کرتے تھے۔ حکماء اور وید جن مریضوں کو ایسی دوا دیتے تھے جن میں افیون شامل ہو، انہیں دودھ اور گھی کثرت سے استعمال کرنے کی تاکید کرتے تھے تاکہ اس کا کوئی منفی اثر نہ ہو اور اس دوا میں افیون کے نشیلے اثر اور خشکی کو دور کرنے والے مصلح بھی ڈالے جاتے تھے۔ وہ اہل مغرب کی طرح اس کے زہریلے اثرات کو شفا بخش ظاہر کر کے لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے تھے۔

 

 

امریکہ اور اقوام مغرب افیون کے نقصانات کی وجہ سے اور منشی ہونے کی بنا پر اس کے خلاف عالمی تحریک نہیں چلا رہے بلکہ 

 

 

؎ سبب کچھ اور ہے جس کو تو خود سمجھتا ہے

 

 

اور وہ سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ امریکی ہپیوں  اور یورپی نشہ بازوں کو سکون مغرب کی شراب کے بجائے مشرق کی افیون سے ملتا ہے اور جب 400 روپے کلو گرام بکنے والی افیون سے ہیروئن برآمد ہو کر پاکستان ہندوستان کے ڈرگ مافیا کے ایجنٹوں کے پاس پہنچتی ہے تو اس کی قیمت ایک لاکھ روپے کلو گرام اور امریکہ میں بریف کیس کی تبدیلی کے بعد کم از کم پچاس لاکھ روپے فی کلو گرام ہو جاتی ہے۔ مغرب جو اس بات کا عادی تھا کہ مشرق سے انتہائی سستے داموں خام مال خریدتا تھا اور اس سے مصنوعات تیار کر کے انہیں بیسیوں گنا قیمت پر بیچ دیتا تھا، اس معاملہ میں مات کھا گیا اور لاکھوں گورے نشئی اس سے ہم وصل ہونے کے لئے اپنا سب کچھ اس پر قربان کرنے کو تیار ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ جس کے حصول کے لئے وہ سب کچھ کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں، ان کا رخ مشرق کی طرف ہو گیا اور چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کے مصداق اپنی دولت کو بچانے کے لئے انہوں نے ’’نشہ کے خلاف جہاد‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اگر امریکہ میں ہی ہیروئن سازی کے فیکٹریاں رہتیں اور مشرق میں قائم نہ ہوتیں تو 1981ء سے پہلے کی طرح انہیں اب بھی کوئی تکلیف نہ ہوتی۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقدار میں افیون بھارت میں پیدا ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ مارفین اور ہیروئن وہاں تیار ہوتی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ مطعون پاکستان اور افغانستان کو کیا جاتا ہے۔ جو قوم منشیات میں لتھڑی ہوئی ہو اسے یہ حق کس نے دیا کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے غیور عوام پر زبان طعن دراز کرے۔

 

دوسری طرف منشیات کے بارے میں اسلام کی ایک واضح پالیسی ہے جس میں نہ مفادات کا کوئی دخل ہے ،نہ اپنی مرضی سے کسی نشے کو حرام یا حلال کیا جا سکتا ہے ،نہ اس میں کسی کے لئے استثنیٰ ہے۔ 

 

حضرت عبداللہ بن عمرؓ راوی ہیں کہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کل مسکر حرام‘‘ (ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا طیب اعظم صلی اللہ علیہ  وسلم کے فرمان کو زیادہ وضاحت کے ساتھ روایت کرتی ہیں۔ ’’کل مسکر خمر و کل خمر حرام‘‘ (ہر نشہ آور چیز عقل کو ڈھانپتی ہے اور عقل کو ڈھانپ لینے والی ہر چیز حرام ہے)۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا طبیب جسمانی و روحانی کا فرمان بیان کرتی ہیں کہ قویٰ میں سستی پیدا کرنے اور نشہ پیدا کرنے والی کسی چیز کو استعمال نہ کرو۔ ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا کہ صحت کو نقصان پہنچانے والی، ناخوشگوار اور ہر ناپاک چیز صریحاً حرام ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سید انسانیت صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس چیز کا زیادہ استعمال نشہ لائے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔ حضرت طارق بن سویدرضی اللہ عنہ نے سرور عالم صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم سے عرض کی کہ میں بیمار ہوں اور علاج کے لئے شراب کو بطور دوا استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’یہ دوا نہیں بیماری ہے۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کا ایک قول روایت کیا ہے جس میں آپ نے خبیث دواؤں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔

 

اسلام نے ہر شخص کے لئے پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت کو لازمی قرار دیا ہے۔ دین، مال، جان، عزت اور عقل۔ اس لئے وہ چیزیں جو عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں یا نقصان پہنچاتی ہیں، ان سے بچانا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم دنیا جہان کے لئے رحمت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے اپنے خون کے پیاسوں پر بھی کبھی لعنت نہیں فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے اپنے حقیقی چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتلین پر بھی لعنت نہیں فرمائی لیکن شراب خانہ خراب اتنی بڑی چیز ہے کہ اس کے ساتھ نسبت رکھنے والی ہر چیز پر آپ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔

 

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، اٹھانے والے پر، جس کی طرف اٹھا کر لے جائی جا رہی ہو اس پر، نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنی روایت میں مزید اضافہ کرتے ہیں ’’جس کے لئے خریدی گئی اس پر بھی لعنت اور اس کی قیمت کھانے والے پر بھی لعنت۔‘‘

 

 

منشیات کے پھیلاؤ کے اسباب و نقصانات اور تدارک کی تدابیر

 

 

خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم پیار، محبت اور شفقت کے ذریعے لوگوں کی اصلاح فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم ایسا طریقہ اختیار کرتے تھے کہ برائی کرنے والا جبراً نہیں بلکہ دلی تقاضوں کی بنیاد پر اس سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ جب مدینہ منورہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم پر شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو فوراً ہی بغیر کسی لیت و لعل کے قیمتی سے قیمتی شرابوں کے مٹکے عادی شرابیوں نے خود توڑ دئیے۔ منہ سے لگے ہوئے جام ایک جرعہ پئے بغیر واپس رکھ دئیے گئے اور مدینہ کی گلیاں شراب سے اس طرح بھر گئیں جیسے بارش کا پانی بہہ رہا ہو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت کے آخری دور میں شرابی کو 40 کوڑے لگانے کا حکم اس بنیاد پر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے ایک شرابی کو کھجور کی ڈالیوں سے 40 مرتبہ مارا تھا۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے شراب کو ’’ام الخبائث‘‘ قرار دیا ۔ لہٰذا باقی تمام منشیات سے زیادہ ناپاک، زیادہ نقصان دہ اور زیادہ حرام شراب ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے بیشتر اسلامی ممالک میں شراب کھلے عام فروخت ہوتی ہے بلکہ ثقافت کا حصہ بن چکی ہے اور جو کسی محفل میں اس سے اجتناب کرے وہ تضحیک کا نشانہ بنتا ہے۔ اس کے طبی نقصانات بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ کسے نہیں معلوم کہ پھیپھڑوں کا سرطان اسی سبب سے ہوتا ہے۔ عیسائیت اور یہودیت میں بھی شرعاً شراب ممنوع ہے۔ لیکن کیا اقوام متحدہ نے یا امریکہ و یورپ نے یا اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے کبھی اس کے خلاف مہم چلائی؟ یا شراب کو تلف کرنے کا حکم دیا؟ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہمارے اسلامی ممالک میں ہیروئن کے برآمد کنندگان کے لئے اتنی سخت سزائیں جو امریکہ میں بھی نہیں ہیں، اللہ کو خوش کرنے کے لئے نہیں بلکہ امریکہ بہادر کی ناراضی سے بچنے کے لئے ہیں۔ 

 

پاکستان میں ہیروئن کا استعمال 1981ء میں شروع ہوا اور آج اتنا پھیل گیا کہ لاکھوں  افراد اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہو گئے۔ 1979ء تک جب افیون عام ملتی تھی لوگوں کو اس سے کوئی رغبت نہ تھی لیکن عالمی سطح پر جب اس کا پروپیگنڈہ کیا گیا تو 

 

1۔ راتوں رات امیر بن جانے کی ہوس میں مبتلا لوگ ڈرگ مافیا کے ممبران کے ہتھے چڑھ گئے اور ان کے جال میں ایسے پھنسے کہ پھر نکلنا ان کے لئے ممکن نہ رہا۔

 

2۔ معیار زندگی کو مقصد زندگی سمجھ لیا گیا اور اس دوڑ میں اتنا آگے نکل جانے کو منزل قرار دے دیا گیا کہ دوسرے اس کی گرد کو بھی نہ پہنچ سکیں۔ ایمانداری اور جائز کاروبار میں تو اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن اپنے ضمیر کو گہری نیند سلا کر اور معیار انسانیت کو منوں مٹی کے نیچے دبا کر اس زہر قاتل کو اپنی زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنا لیا گیا۔

 

جہاں دولت ہی خدا ہو، دولت ہی رسول، دولت ہی ایمان ہو، دولت ہی دین۔ وہاں دین فروشی اور وطن سے غداری کوئی طعنہ نہیں رہ جاتا۔

 

 

منشیات کے پھیلاؤ کے اسباب

 

میں ان اہم اسباب کو بھی آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں جو وطن عزیز میں منشیات کے استعمال کا باعث بنے۔

 

(1) دین سے دوری:

 

دین کا صحیح فہم اور ادراک انسان میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ کسی برائی کو ترک کرنے کے لئے وہ دلائل نہیں مانگتا بلکہ اس کے لئے صرف اتنی بات کافی ہوتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے اس کام سے منع فرمایا ہے۔ جب کہیں اور جہاں کہیں دین سے دوری اختیار کی گئی وہ قوم اس خلا کو پر کرنے کے لئے کسی اور راستہ کی طرف چل پڑی۔

 

(2) سکون کی تلاش:

 

قرآن حکیم میں رب کائنات کا ارشاد ہے ’’خبردار دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے‘‘ لوگوں نے سکون تلاش کیا مال و دولت میں، عیاشیوں میں، کوٹھیوں اور بنگلوں میں جب یہاں سکون نہ ملا تو بنوں اور جنگلوں میں نکل گئے اور مایوس ہو کر منشیات کی وادیوں میں جا نکلے لیکن سکون عنقا ہی رہا۔

 

(3) ذہنی دباؤ:

 

احساس کمتری ایک ایسا مرض ہے جو ہر وقت انسان کو بے کل رکھتا ہے۔ جو شخص اپنی معاشی، معاشرتی، سماجی اور سیاسی حیثیت پر ہر وقت غیر مطمئن رہتا ہے اور لوگوں سے اپنا مقابلہ کر کے مزید پریشان ہوتا ہے ،وہ ذہنی دباؤ سے نہیں نکل سکتا اور نتیجہ میں نشیلی دوائیں استعمال کرنے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ 

 

(4) فارغ البالی:

 

ایک شخص فارغ البال ہو، کھانے پینے کی بے فکری ہو، ہر طرح کے آسائش اسے حاصل ہوں۔ کرنے کے لئے کوئی کام نہ ہو تو برے ہم نشین اسے منشیات کا  رسیا بنا کر خود بھی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اسے بھی کسی کام کا نہیں رہنے دیتے۔ فراغت ایک ایسا مرض ہے جو نوجوانوں کے لئے سراسر تباہی ہے۔ فرصت اگر نصیب ہو تو اس میں دینی اور علمی قابلیت کو بڑھانے کے لئے مطالعہ کی عادت ڈالیں۔ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے کر محلے سے معاشرتی بیماریوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اور سب سے بہتر یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور تبلیغ دین کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں۔ یہ دو  ایسے نشے ہیں جو دنیا کے ہر نشے سے بے نیاز کر دیتے ہیں۔ 

 

(5) بیکاری:

 

حبیب کبریا صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’غربت کفر تک لے جاتی ہے‘‘ جہاں سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے نشہ کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہاں بیکاری کے ہاتھوں تنگ آئے لوگ بھی ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو ایک طرف انہیں اچھی ملازمت کا جھانسہ دے کر منشیات فروشی کے دھندے میں ملوث کر دیتے ہیں دوسری طرف انہیں منشیات کا عادی بنا کر ان کی زندگی تباہ کر دیتے ہیں۔ 

 

(6) گھریلو ماحول کی تلخی:

 

گھریلو  ناچاقی، والدین کا  ایک دوسرے سے مستقل جھگڑا، گھر میں خانہ جنگی کی کیفیت، نفسانفسی کا عالم اولاد کے حق میں زہر قاتل ہوتا ہے۔ محبت کے ترسے ہوئے یہ بچے اس ماحول کی تلخی کو نشے کی جھوٹی حلاوت سے دور کرنے کی کوشش میں ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 

 

(7) ناکامی:

 

ناکامی کامیابیوں کا زینہ ثابت ہوتی ہے، اگر کوئی سمجھے۔ لیکن جو شخص ناکامیوں کو ذلت اور رسوائی سمجھ لے، وہ اپنی ناکامی خواہ تعلیمی میدان میں ہو یا کاروباری، سیاسی ہو یا محبت کی، اس صدمہ کو سہارنے کے لئے نشے کی بھول بھلیوں میں کھو کو اپنا غم غلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

 

(8) جنسی بے راہ روی:

 

ایسے افراد جو جنسی کمزوریوں کے شکار ہوتے ہیں، اپنی اس کمی کو پورا کرنے یا اس میں اضافہ کی خواہش لے کر سنیاسیوں، سادھوؤں، جوگیوں، نیم حکیموں اور عطائی ڈاکٹروں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں اور ایسی ممسک ادویات جو نشیلی ہوتی ہیں استعمال کر بیٹھتے ہیں اور جب تک وہ انہیں استعمال نہ کریں ان کی مطلب براری نہیں ہوتی اور اس طرح وہ نشہ کے عادی مریض بن جاتے ہیں۔ 

 

(9) معاشرتی رشتوں کا ڈھیلا ہونا:

 

ماضی میں محلے کا بزرگ سب کا مشترکہ بزرگ ہوتا تھا۔ وہ سب نوجوانوں اور بچوں کو اپنا ہی بیٹا سمجھتا تھا اور ان کی اصلاح کے لئے ڈانٹ ڈپٹ بھی کر لیتا تھا تو کوئی برا محسوس نہیں کرتا تھا لیکن جب سے یہ رشتے ڈھیلے پڑے ہیں، بڑے چھوٹے کا فرق ختم ہو گیا تو ہر گناہ اور برائی کا راستہ کھل گیا۔ پہلے نوجوان، اساتذہ اور بزرگوں سے چھپ چھپ کر سگریٹ پیتے تھے، اب اساتذہ اپنے طالب علموں سے مانگ کر سگریٹ پینے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔

 

(10) سگریٹ نوشی: 

 

سگریٹ نوشی بظاہر ایک معمولی نشہ ہے لیکن افیون، بھنگ، چرس، مارفین وغیرہ زیادہ تر سگریٹ کے ’’ٹوٹے‘‘ کے ذریعہ ہی استعمال کی جاتی ہیں۔ اس لئے سگریٹ نوشی نشہ بازی کا پہلا زینہ ہے۔

 

 

 

منشیات کے نقصانات اور روک تھام:

 

تدارک اور علاج سے پہلے اگر ان کے نقصانات کا بھی مختصراً ذکر ہو جائے تو یقیناًفائدہ مند ہوگا اور ان سے ڈر کر کوئی ایک شخص بھی منشیات ترک کر دے تو مضمون لکھنے کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ 

 

منشیات کے استعمال سے جسم میں خون کے سرخ ذرات کم ہو جاتے ہیں اور جسم انتہائی کمزور اور لاغر ہو جاتا ہے۔

کندھے کے نیچے بغل میں یا گردن پر غدود بننا شروع ہو جاتے ہیں۔

بار بار نشہ کے انجکشن لگوانے سے نبض کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، شریانیں متورم ہو جاتی ہیں اور ان میں سوزش ہونے لگتی ہے۔

جسم میں رعشہ اور لرزش پیدا ہو جاتی ہے۔

آنکھوں کی چمک دمک ختم ہو جاتی ہے۔ کچھ نشوں سے آنکھوں کی پتلیاں سکڑ جاتی ہیں اور کچھ ان کو ضرورت سے زیادہ پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

کوکین کے کثرت استعمال سے ناک کے پردہ میں سوراخ ہو جاتا ہے۔

دانتوں کی حالت خستہ ہو جاتی ہے۔ فیٹائن کے نشہ سے چیزیں چبانا مشکل ہو جاتا ہے اور بعض اوقات دانت بوسیدہ ہو کر گر جاتے ہیں۔

شریانوں میں خون کے لوتھڑے جم جاتے ہیں۔ جس سے دل کی دھڑکن باقاعدہ نہیں رہتی اور ہارٹ اٹیک ہونے کے امکان بڑھ جاتے ہیں

پھیپھڑوں میں فساد خون اور سوزش ہو جاتی ہے۔ ہیروئن کے اثر سے پھیپھڑوں میں چھوٹے چھوٹے پھیپھڑے بن کر ان کےدباؤ کو بڑھا دیتے ہیں۔

ہیروئن کے استعمال کی وجہ سے جسم میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے جو بعض اوقات موت کا سبب بن جاتی ہے۔

ہر نشہ آور غذا، دوا یا انجکشن گردوں اور ان کی نالیوں میں نقص اور درد پیدا کرتا ہے۔

نشہ کی زیادتی بالآخر مردوں میں ضعف باہ، سرعت انزال اور نامردی اور عورتوں میں ترک خواہش کا باعث بنتی ہیں۔

جگر بڑھ جاتا ہے یا متورم ہو جاتا ہے۔ بعض حالتوں میں جگر کا کینسر بھی ہو جاتا ہے۔ جگر کی کارگزاری اتنی متاثر ہوتی ہے کہ 3 سال کے اندر اندر موت کا سبب بن جاتا ہے۔

معدہ اور آنتیں زخمی ہو جاتی ہیں اور ان کا السر کسی بھی وقت کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

حرام مغز کی جھلی متورم ہو کر دماغ کو متورم کر دیتی ہے۔

مرگی اور تشنج کے دورے شروع ہو جاتے ہیں۔

ہیروئن کا نشئی ہر 3۔4 گھنٹہ بعد انجکشن کی حاجت محسوس کرتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کے حصول کے لئے ہر نیچ سے نیچ حرکت پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

خواب اور مسکن دوائیں استعمال کرنے والی ماؤں کے بچوں کو مرگی وراثت میں ملتی ہے۔

ایڈز ’’عصر حاضر کی ناممکن العلاج‘‘ بیماری کا جنسی بے راہ روی کے علاوہ ایک سبب منشیات کا کثرت استعمال بھی ہے۔

مختصراً نشہ جسم کے ہر حصہ کو گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے اور پورا جسم، اس کا ایک ایک عضو کمزور ہو کر موت کی وادی کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے۔

  • ’’منشیات سے بچاؤ‘‘ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ پوری دنیا میں اس کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ کہیں منشیات کے خلاف ہفتے اور مہینے منائے جاتے ہیں اور کبھی پورے سال کو منشیات کے خاتمے کا سال قرار دیا جاتا ہے۔ کہیں کھڑی فصلوں کو تلف کیا جاتا ہے۔ کہیں ان کی فیکٹریوں پر چھاپے ڈالے جاتے ہیں۔ کہیں ان کے سمگلروں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ کہیں جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ کہیں جائیداد ضبط کی جاتی ہے اور کہیں ترغیب اور دیگر لالچ دے کر ان کو فصلیں پیدا کرنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے استعمال کو روکنے کے لئے بھی تقریباً ہر ملک میں ادارے قائم کئے گئے ہیں۔ پاکستان میں بھی مرکزی اور صوبائی سطح پر ادارے قائم ہو چکے ہیں اور اب ڈویژن اور ضلع کی بنیاد پر ان کے قیام کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ بے شمار ہسپتالوں میں اس کے علاج کے مراکز بھی قائم ہیں لیکن یہ لعنت مسلسل بڑھ رہی ہے اور کمی کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ذیل میں چند تدابیر درج کی جاتی ہیں جن پر عمل کرنے سے منشیات کے استعمال میں معتدبہ کمی ہو سکتی ہے۔

 

 (1)سرکاری سطح پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے منشیات کی ہر قسم کی تباہ کاریوں کو اتنا تسلسل کے ساتھ پیش کیا جائے کہ بچے بچے کی زبان پر ان کا تذکرہ ہو۔ جس طرح ٹیلی ویژن پر بے ہودہ ڈراموں کے ڈائیلاگ اور فلمی، گانے ان کی زبان پر ہوتے ہیں، وہ زبانیں ایک دوسرے کو منشیات کے بارے میں فقرے سنائیں اور اپنے بڑوں کو بھی اس سے روکیں۔ ڈراموں کے ذریعے ڈرگ مافیا، منشیات کے سمگلروں اور نشیوں کا انجام دکھائیں۔ دستاویزی فلمیں پیش کی جائیں۔ کارٹونوں کے ذریعے نشہ بازوں کا انجام دکھائیں۔ ادویات کے ذریعے معاشی معاشرتی، طبی اور سماجی پہلوؤں کے حوالے سے ہونے والے نقصانات کو واضح کرنے کے لئے مذاکرے اور مباحثے ہوں جن میں ماہرین تعلیم، ڈاکٹروں، طبیبوں، ماہرین نفسیات، علما، دانشور اور صحافیوں کو اپنے خیالات پیش کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً مدعو کیا جائے۔ محکمہ صحت، مخیر حضرات اور بڑے بڑے تجارتی اداروں کی طرف سے منشیات کے خلاف مؤثر اشتہارات دئیے جائیں لیکن ان کے ساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے جو محکمہ صحت کے اس اشتہار کے ساتھ ہوتا ہے ’’خبردار تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے‘‘ اور اگلے ہی اشتہار میں خوشحال اور تندرست سگریٹ نوش قہقہے لگاتا ہوا پیش کر دیا جاتا ہے۔ 

 

(2) ریڈیو ابھی تک ہمارے ملک میں ٹیلی ویژن سے زیادہ سنا جاتا ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں جہاں اکا دکا جھگیاں ہیں وہاں بھی ریڈیو موجود ہے اور اس کے سامعین کی تعداد ٹیلی ویژن کے ناظرین سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لئے ریڈیو کو بھی اس جہاد کے لئے ٹیلی ویژن کی طرح استعمال کیا جائے۔

 

( 3)اخبارات، ہفت روزہ اور ماہانہ رسائل منشیات کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنے اور اس سے قوم کو بچانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ منشیات فروشوں کو دی گئی سزاؤں کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کریں۔ ان کے منفی پہلو واضح کریں۔ اداریے، شذرات، مضامین، انٹرویوز، مذاکرات، کارٹون، مزاحیہ اور سنجیدہ کالموں میں ان پر ہر ہر طرح سے گرفت کریں۔ نارکوٹک بورڈ، محکمہ صحت اور صوبائی، مرکزی حکومتیں اور بڑے بڑے بلدیاتی ادارے اخبارات میں پراپیگنڈہ کی ایک بھرپور مہم چلائیں۔ محکمہ بہبود آبادی کی طرف سے بچوں کو قبل از پیدائش نابود کرنے پر اربوں روپے سالانہ کے اشتہارات پر رقم خرچ کرنے کی بجائے ایک مفید اور غیر متنازعہ معاملہ پر خرچ کرنا یقیناًزیادہ مفید اور نافع ہوگا۔ 

 

(4) حکومت کی طرف سے شائع ہونے والے پوسٹ کارڈ، لفافے، بجلی، پانی، ٹیلی فون اور گیس کے بل وغیرہ پر نشہ کے خلاف کوئی سلوگن ضرور درج کیا جائے۔

 

(5)نصاب تعلیم میں سکول، کالج، یونیورسٹی کی سطح پر اور پیشہ ورانہ اداروں میں ایسے مضامین شامل کئے جائیں کہ منشیات کے خلاف نفرت نئی نسل کے دل میں بیٹھ جائے۔

 

(6)ملک کی تمام دینی، سماجی اور سیاسی تنظیمیں اپنے پروگرام اور منشور میں ’’منشیات کے خلاف جہاد‘‘ کا نعرہ شامل کریں اور عوام سیاسی جلسوں، اجتماعات اور ورکرز میٹنگز میں اپنے قائدین سے اس ضمن میں کی گئی کارگزاری کے بارے میں سوال کریں۔ ہر پارٹی اپنے ممبر سے عہد لے کہ نہ وہ نشہ کرے گا، نہ نشہ کے کاروبار میں کسی بھی لحاظ سے شریک ہوگا۔ انتخاب کے موقع پر ٹکٹ دیتے ہوئے نشہ کے کاروبار کرنے والے کسی بھی فرد کو ٹکٹ نہ دے خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں ہو۔ مشائخ عظام اپنے حلقہ ارادت میں آنے والے سے بیعت کرتے وقت یہ عہد لیں کہ نہ وہ نشہ کرے گا نہ نشہ بیچے گا۔ علمائے کرام اپنے خطبات جمعہ میں، وعظ کی مجلسوں میں، درس قرآن و حدیث میں ان کی شرعی حیثیت اور ان کے نقصانات واضح کریں اور ان سے ہاتھ اٹھوا کر عہد لیں کہ وہ خود بھی اس سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے۔ اسی طرح کا عہد تعلیمی اداروں میں قائم طلبہ تنظیمیں، کھلاڑیوں کی فیڈریشنز، کمیٹیوں اور بازاروں کی یونینز، برداریوں کے نام پر قائم جماعتیں اور اصلاح معاشرہ کی تنظیمیں بھی اپنے ممبران سے لیں۔

 

(7) دین کے ساتھ جتنا گہرا تعلق ہوگا، جتنا دین کا فہم انسان کے اندر ہوگا اتنا ہی وہ لغویات، لہو و لعب اور منشیات سے بچے گا۔ اس لئے اگر اس قوم کو ان لعنتوں سے بچانا ہے تو اس کا رخ دین کی طرف موڑئیے، خود بخود ان کی اصلاح ہو جائے گی۔ ہمارے تعلیمی ادارے، تفریح گاہیں، کھیلوں کے کلب اور خانقاہیں اگر آج منشیات کے اڈے بنے ہوئے ہیں تو اس کا سبب یہی ہے کہ یہ اسلامی، اصلاحی اور اخلاقی مراکز نہیں بلکہ قتل گاہیں ہیں۔

 

آوارگی اور بدچلنی کے گڑھ اور دین کے نام پر تجارت چمکانے کی دکانیں بن گئی ہیں۔ 

 

آخری بات یہ کہ قرآن و سنت کی تعلیم عام کریں۔ ان ہی کے ذریعے منشیات کی نفرت دلوں میں قائم ہو سکتی ہیں نشیوں کو قابل رحم سمجھئے اور انہیں ان لعنتوں سے بچائیے اور منشیات فروشوں کو خواہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں قابل نفرت سمجھئے اور ان کا سوشل بائیکاٹ کیجئے۔

 

 

 

 

 

 

 

Last Updated : Dec 22, 2012