دل کے آپریشن سے بچنے کا نسخہ

تیار کرنے میں آسان، استعمال میں سہل اور تاثیر میں تیر بہدف

پانچ سال پہلے کی بات ہے‘ میں مطب میں بیٹھا تھا۔ مریض آجا رہے تھے۔ اچانک فون کی گھنٹی بجی‘ چونگا اٹھایا‘ تو دوسری طرف روزنامہ جنگ کے اشتہاری شعبہ ضمیمہ کے سر براہ شریف جاوید بول رہے تھے۔ میرے بے تکلف دوست ہیں‘ تیس بتیس سال سے ان سے روابط ہیں مگر اس دن ان کی آواز میں پریشانی جھلک رہی تھی۔ پوچھنے پر بتایا ’’کچھ دنوں سے طبیعت خراب ہے اور ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ میرے دل کے دو والو بند ہیں۔ اینجیوگرافی بھی ہوگی اور بائی پاس بھی! میں اینجیوگرافی سے تو نہیں گھبراتا لیکن بائی پاس نہیں کروانا چاہتا۔ آپ کے پاس اس کا علاج‘ کوئی دیسی نسخہ ہو‘ تو بتائیے بلکہ تیار کر دیجئے۔‘‘

میں ابھی جواب نہیں دے پایا تھا کہ مطب میں تین آدمی داخل ہوئے اور سامنے پڑی کر سیوں پر خاموشی سے بیٹھ گئے۔ انہوں نے بلوچی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے‘ کندھوں پر اجرک اور سر پر بلوچی طرز کی ٹوپیاں تھیں! میں گفتگو میں مصروف رہا اور شریف جاوید صاحب کو یقین دہانی کراتا رہا کہ میرے پاس ایسا نسخہ موجود ہے جو ان شاء اللہ آپ کے مرض کا قلع قمع کر دے گا مگر اس کی تیاری میں کچھ وقت لگے گا۔ بات ختم کر کے میں نے جونہی چونگا رکھا ان آدمیوں میں سے ایک بولا ’’سائیں! یہ کس کا فون تھا؟‘‘

میں نے ذرانا گواری سے کہا کہ ایک مریض کا۔ اس نے پوچھا ’’مگر سائیں وہ کہتا کیا تھا؟ کہیں اس کے دل کے والو تو بند نہیں؟‘‘

اب میں نے حیرانی سے اسے دیکھا جس نے یقینا ہماری گفتگوسن لی تھی اور ہولے سے سرہلایا۔

’’سائیں! برانہ مانیں‘ آپ کے پاس تو اس کی دوائی موجود ہے۔ الماری سے نکالیں’ مریض کو بلائیں اور اس کے حوالے کریں۔‘‘

اب میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور اس سے سوال کیا ’’آپ پہلی مرتبہ میرے پاس آئے ہیں پھر آپ کو کیسے پتا چلا کہ اس مر یض کا علاج میرے پاس موجود ہے؟‘‘

’’دیکھئے! میں پہلے اپنا تعارف کرادوں‘ ہم لوگ مستونگ (بلوچستان) سے آئے ہیں۔ میں باقاعدہ طبیب نہیں بلکہ بینک میں ملازم ہوں۔ آج سے ۲۵ سال پہلے میرے ماموں کے دو والو بند ہوگئے تھے۔ مستونگ‘ کوئٹہ اور کراچی سے علاج کروایا مگر خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا۔ اس زمانے میں دل کا بائی پاس کراچی میں ہوتا تھا لیکن بہت گراں۔

’’پھر میں نے آپ کے والد صاحب (حکیم محمد عبداللہ مصنف کنزالمجر بات) کو جہانیاں (ملتان) خط لکھا  اور ساری کیفیت بیان کی۔ چند دن بعد ان کا جواب آیا۔ لکھا تھا‘ آپ کے ماموں کی بیماری کی تشویش ناک صورت حال کا علم ہوا۔ ایک دوائی آپ کے پاس بھیج رہا ہوں دوسری بذریعہ ڈاک ارسال نہیں کی جاسکتی۔ تھوڑی سی زحمت کر کے خود تیار کر لیجئے۔ جو دوا انہوں نے مجھے بھیجی وہ ’جواہر مہرہ‘ تھی‘ طب اسلامی کی مایہ ناز دوا جو دل کے لیے ہی نہیں بے شمار امراض کے لیے شفا کا پیغام ہے۔ اسے بعد از نماز عصر دو چاول کے دانوں کی مقدار میں استعمال کرنا تھا۔

’’مجھے جس دوا کی تیاری کا کہا گیا وہ عمدہ اور تازہ گلاب اور سونف کا عرق کشید کر کے اسے دو آتشہ کرنا تھا۔ میں نے عرق نکالنے کے آلے (قرع انبیق…بھبکہ) سے عرق کشید کیا پھر دوبارہ بھپکارا یعنی جوش دیا‘ یوں دوآتشہ عرق تیار ہوگیا۔

یہ عرق صبح ناشتے کے بعد نصف پیالی مقدار میں دینا تھا۔ پھر عصر کے بعد اتنی ہی مقدار میں لیکن دو چاول جواہر مہرہ کے ساتھ اور رات سوتے وقت چوتھائی پیالی عرق پینا تھا۔ حکیم صاحب قبلہ نے پندرہ دن کے لیے یہ نسخہ تجویز کیا تھا۔

’’دو ہفتے بعد طبی معائنہ کروایا تو دونوں والو کھل چکے تھے۔ تاہم احتیاطاً میں نے انہیں نسخہ ایک ماہ تک استعمال کروایا۔ اللہ کے فضل وکرم سے میرے ماموں آج خوش وخرم زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد میرے پاس ارد گرد کے علاقے سے بے شمار دل کے مریض آئے جنھیں میں جواہر مہرہ آپ کے دوا خانے سے اور عرق خود تیار کر کے دیتا رہا۔ اللہ نے بے شمار لوگوں کو اس نسخے کے طفیل شفادی۔ مجھے وہاں کے لوگ ’دل کا ڈاکٹر‘ کہتے ہیں۔ سائیں! آپ کے والد صاحب کانسخہ تھا وہ میں نے آپ تک پہنچا دیا اب آپ جانیں اور آپ کا کام…‘‘

جب انہوں نے بات ختم کی‘ تو شریف جاوید صاحب بھی آگئے۔ میں نے انہیں یہی دوائی دی اور پندرہ دن استعمال کرنے کے لیے کہا۔ کہنے لگے ’’میری اینجیوگرافی میں صرف بارہ دن باقی ہیں اور آپ پندرہ دن کا علاج تجویز کر رہے ہیں۔‘‘

’’سائیں!‘‘ میرے مہمان نے کہا ’’آپ دوا شروع کریں‘ اللہ بھلی کرے گا۔‘‘

شریف صاحب دوالے گئے اور بارہ دن بعد فون پر اطلاع دی کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کا رڈیا لوجی میں داخل ہونے جارہا ہوں اور کل اینجیوگرافی ہے‘ دعا کیجئے گا۔ دو دن بعد موبائل پر اطلاع دی ’’ڈاکٹر میرے طبی معائنے کی رپورٹ دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ تمام والو کھلے ہوئے تھے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے مزید پندہ دن دوائی استعمال کی اور الحمد للہ بھلے چنگے ہوگئے۔

اس واقعہ کے چند دن بعد ایک بزرگ میرے پاس سرائے عالمگیر سے تشریف لائے اور فرمانے لگے ’’میں شریف جاوید کا بڑا بھائی ہوں۔ میرے پاس ارد گرد کے علاقے سے دل کے کچھ مریض آئے ہیں۔ آپ وہی دوا پانچ مریضوں کے لیے عنایت کر دیں جو شریف جاوید کو دی ہے۔‘‘ چند دن بعد وہ مزید مریضوں کے لیے دو الے گئے۔ رفتہ رفتہ اس دوا کی شہرت ہوگئی‘ روزانہ ایک دو مریض یہ دوالے جاتے اور اللہ کے فضل سے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ میں نے یہ دوا ان لوگوں کو بھی دی جن کے تین والو بند تھے۔ اللہ کے کرم سے انہیں بھی شفاملی۔ حتیٰ کہ ایسے مریض جن کے ساڑھے تین والو بند ہوچکے تھے‘ وہ بھی شفایاب ہوئے اور انجائنا کے مریضوں نے بھی صحت پائی۔

۱۹۹۹ء میں مجھے خود دل کی تکلیف ہوئی اور تین والو بند ہوگئے۔ میں نے ایک ماہ یہی دوا استعمال کی‘ الحمد للہ بالکل صحت یاب ہوگیا۔ عرق گلاب اور سونف اب میں دو آتشہ کے بجائے سہ آتشہ استعمال کرتا ہوں اور اسے قلبی کا نام دیا ہے۔ یوں اس کی تاثیر بڑھ گئی اور سینکڑوں مریضوں نے استفادہ کیا ہے۔ میں مستونگ کے اس سندھی نژاد کا شکر گزار ہوں جس نے انسانیت کی فلاح کے لیے مجھے اتنے اچھے نسخے سے آگاہ کیا جس سے میں بے خبر تھا حالانکہ وہ میرے ہی والد محترم کا تجویز کروہ تھا۔

(حکیم عبد الوحید سلیمانی-اردو ڈائجسٹ جولائی ۲۰۰۳ء)

---

Last Updated : Dec 22, 2012